رتوڈیرو،پریس کلب کے چیئرمین کی گرفتاری کیخلاف صحافیوں کااحتجاج

48

رتوڈیرو (نمائندہ جسارت) عوامی پریس کلب رتوڈیرو کے چیئرمین عبداللہ بھٹو کی بلاجواز گرفتاری کیخلاف صحافی برادی کا احتجاج،عوامی پریس کلب رتو ڈیرو پر صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کر کے نعرے بازی کی ، صحافی برادری نے آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے مطالبہ کیا کہ عبداللہ بھٹو کو آزاد کر کے جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے۔رتوڈیرو سیپکو کی جانب سے عوامی پریس کلب رتوڈیرو کے چیئرمین عبداللہ بھٹواور ہمت علی پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے خلاف عوامی پریس کلب رتوڈیرو کے صحافی مظفر علی بلوچ، عصمت اللہ بھٹی، صدام حسین تھہیم، میر حاکم، ساگر صدق، اعجاز احمد، خادم حسن، فاضل، عاشق حسن اور عمران علی سمیت دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کر کے نعرے بازی کی۔ اس موقعے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے صحافیوں نے کہا کہ سیپکو کی جانب سے صحافیوں پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رتوڈیرو شہر میں بلاجواز بجلی بند کرنے اور ڈیڈکشن لگا کر بل بھیجنے کے خلاف 15 روز قبل شہریوں نے چاندنی چوک پر دھرنا دیا جس کے بعد ایکسیئن مشتاق بڑدی وہاں پہنچے تو مظاہرین نے ان کی گاڑی کا گھیرائو کیا۔ ایکسیئن مشتاق بڑدی شہریوں کو چور چور کہتا رہا جس کے بعد مظاہرین اور واپڈا ملازموں میں ہاتھا پائی ہوئی جس کی کوریج صحافی برادری نے کی، جس کے بعد مشتاق بڑدی نے شہریوں سمیت ایف آئی آر میں عوامی پریس کلب رتوڈیرو کے چیئرمین عبداللہ بھٹو اور صحافی ہمت علی جلبانی کے نام دیے جو قابل مذمت ہیں۔ صحافیوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی لاڑکانہ، ڈی جی رینجرزاور ایس پی لاڑکانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر درج جھوٹا مقدمہ خارج کر کے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔