صوبائی قوانین بین الصوبائی اداروں پر بھی نافذ العمل ہیں رفیع اللہ

115

عرفان شیخ

جسارت لیبر فورم اور کراچی لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام یوم پاکستان اور عید ملن کا مشترکہ پروگرام 22 اگست جمعیت الفلاح میں منعقد ہوا۔ جس کا موضوع تھا ’’محنت کشوں کی دل کی باتیں‘‘ اس موقع پر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ رفیع اللہ نے ’’صوبائی قوانین کا بین الصوبائی اداروں پر اطلاق؟‘‘ کے عنوان پر لیکچر دیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ رفیع اللہ نے لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی ادارہ کی جو تعریف بیان کی جارہی ہے اس حوالے سے کئی مسائل زیر بحث ہیں۔ حالانکہ قانون میں بیان کی گئی تعریف انتہائی سادہ ہے اور واضح ہے پھر بھی اس حوالے سے بہت ساری یونینز اور مقدمات زیر التوا ہیں جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عدالتی نظام میں موجود جج صاحبان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ درحقیقت کس مقصد کے لیے لیبر عدالات میں موجود ہیں۔ اور جہاں انہیں کون سا انصاف فراہم کرنا ہے؟ یہ قوانین سول قوانین نہیں ہیں اور نہ ہی لیبر عدالتوں نے سول انصاف فراہم کرنا ہے، درحقیقت لیبر قوانین اور لیبر عدالتیں محنت کشوں کو معاشی اور سماجی انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ملازمت پر تقرری دو فریقین کے درمیان ایک معاہدہ ہے لیکن ان میں سے ایک فریق زندہ رہنے کا حق مانگتا ہے جبکہ دوسرا فریق اسے یہ حق دینے کے لیے تیار ہی نہیں۔ ایسی صورت میں عدالت کا یہ فرض ہے کہ وہ درمیانی راستہ نکالے، اسی طرح انڈسٹری کے قیام کا مقصد محض دولت کمانا نہیں ہے بلکہ سماجی تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنا بھی ہے جو کہ بدقسمتی سے آج کا آجر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ NIRC میں جو بھی جج صاحبان آتے ہیں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بحیثیت ممبر لائے جاتے ہیں اور ایک مخصوص مدت کے لیے انہیں کنٹریکٹ دیا جاتا ہے۔ درحقیقت ان ججز کا عدالتی نظام سے تعلق ختم ہوچکا ہوتا ہے اب جو لوگ ان کو یہ عہدے دینے یا دلواتے ہیں وہ ان سے اپنے مفادات کے لیے کام بھی لیتے ہیں۔ بین الصوبائی اداروں کی بات کی جائے تو بعض ادارے بغیر کسی بحث کے واقعی بین الصوبائی ادارے ہیں۔ مثلاً تمام بینکس، یوٹیلیٹی اسٹورز، TCS، واپڈا، تمام بڑے اخبارات اور ریلوے وغیرہ وغیرہ لیکن اس کے باوجود ایسے اداروں کے لیے بھی الگ سے کسی اسٹینڈنگ آرڈرز کی ضرورت نہیں ہے اور عام طور پر ان مذکورہ بالا اداروں کے علاوہ کوئی ادارہ بین الصوبائی ادارہ نہیں ہے محض دوسرے صوبے میں ایک فرضی دفتر ظاہر کرکے اسے برانچ نہیں مانا جاسکتا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ IRA-2012 صوبائی یونینز پر کوئی قدغن بھی نہیں لگاتا۔ دفعہ 85 صوبائی یونینز کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور ہمارے جج صاحبان قانون کو سمجھ نہیں پارہے بلکہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کررہے۔ IRA-2012 نافذ العمل ہونے کے باوجود لیبر عدالتیں اور صوبائی رجسٹرار برائے ٹریڈ یونینز اپنی اپنی جگہ موثر ہیں بلکہ تمام صوبائی ادارے اور قوانین اپنی اپنی جگہ موثر ہیں۔ وفاقی سطح پر IRA-2012 کے علاوہ اور کوئی قانون موجود ہی نہیں ہے۔ لیبر انسپکٹرز، کمشنرز ادائیگی اجرت، کم از کم اجرت، فیکٹریز ایکٹ، سوشل سیکورٹی اور دیگر تمام صوبائی قوانین اور تمام تر صوبائی اداروں یا مشینری کے علاوہ کوئی وفاقی سطح کا ایسا ادارہ یا قانون موجود ہی نہیں ہے تو ایسی صورت میں تمام صوبائی قوانین اور ادارے فعال اور موثر ہیں اور ہر حال میں نافذ العمل ہیں۔ ماسوائے وفاقی سطح پر ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کے۔ موجودہ عدالتی نظام میں ججز کو اپنی مراعات سے تو دلچسپی ہے لیکن لیبر قوانین کی اصل روح کے مطابق انصاف فراہم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں جہاں آجران کے نمائندے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ بین الصوبائی اداروں پر صوبائی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ وہ چند سوالوں کا جواب تو عنایت کردیں۔
مثلاً (1) فیکٹریز کی انسپکشن کون کرے گا؟ (2) اداروں سے SESSI کا کنٹری بیوشن کون لے گا؟ (3) ادائیگی اجرت اتھارٹی وفاقی سطح پر موجود ہے؟ (4) کمشنر معاوضہ کارکنان وفاقی سطح پر موجود ہے؟ (5) کمشنر معاوضہ کارکنان اور ادائیگی اجرت کے خلاف اپیل کہاں ہوگی؟ (6) ادارہ بند کرنے کی اجازت کون دے گا؟ (7) اگر ادارہ بند کرنے کی اجازت نہ ملے تو اپیل کہاں ہوگی؟۔
ایسے بہت سارے سوالات جن کا جواب ایک ہی ہے کہ IRA-2012 کی موجودگی کے باوجود تمام صوبائی قوانین تمام اداروں پر نافذ العمل ہیں اور صوبائی لیبر عدالتوں سمیت تمام ادارے بھی موثر ہیں۔ درحقیقت آجروں اور ان کے نمائندے ابہام پیدا کررہے ہیں۔ شرکاء کے مختلف سوالوں کے جواب میں رفیع اللہ نے کہا کہ اب NIRC میں چونکہ مقدمات سکی بھرمار ہوگئی ہے تو وہ یعنی NIRC مقدمات کو لیبر عدالتوں میں بھیج رہے ہیں۔ حالانکہ انفرادی شکایات کے مقدمات سننے کا اختتار NIRC کو نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ بلکہ صرف اور صرف لیبر عدالت کو ہے لیکن آجروں کی طرف سے پیدا کیا گیا بحران منفی اثرات لایا اور NIRC میں مقدمات کی بھرمار ہوگئی جس کا خمیازہ محنت کش بھگت رہے ہیں اور نہ جانے کتنے سالوں بعد یہ مسائل حل ہوں گے۔ قانون کی غلط تشریح اور عدالتوں کے فیصلے محنت کشوں میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ ججز کے تقرر کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص ریٹائرمنٹ کے بعد تو کسی بھی جج صاحب کو کسی بھی عدالت میں نہیں بھیجنا چاہیے، ججز کو بھی چاہیے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد معاشرے کی ترقی اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیے کوئی مثبت کام کریں تا کہ مزید مراعات کے حصول میں لگے رہیں۔ ہمارے ہاں غریب عوام اور محنت کشوں کے لیے 100 کے قریب قوانین موجود ہیں جن پر اگر عملدرآمد ہوجائے تو بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ چونکہ بھارت کا عدالتی نظام ہم سے بہت بہتر ہے تو جو تعریفات وہاں 1976ء میں طے ہوگئی تھیں وہ یہاں اب طے کی جارہی ہیں۔ ملازم اور ملازمت کے حوالے سے ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے شخص یا ادارے کے لیے کوئی خدمات انجام دے رہا ہے تو مالک یا آجر وہ ہوتا ہے جو معاشی کنٹرول کا حامل ہوتا ہے۔ 1976ء میں جب EOBI کا قانون آیا تو اس وقت اس میں بینک اور مالیاتی ادارے شامل نہیں تھے جو کہ بعد میں شملا کیے گئے۔ 4 سال کے EOBI کنٹری بیوشن پر پنشن نہیں مل سکتی۔ NIRC درحقیقت ایک کمیشن ہے اور کمیشن ایک خاص مقصد کے لیے وجود میں آتا ہے اور وہ مقصد پورا ہونے کے بعد ازخود ختم ہوجاتا ہے لیکن NIRC ایک مستقل کمیشن ہے اور بدقسمتی سے اپنے حقیقی مقاصد کے لیے کبھی سرگرم عمل نہ رہا اور نہ ہی آج تک وہ مقاصد حاصل ہوسکے۔ NIRC کے قیام کا سب سے اہم مقصد ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ٹریڈ یونین کی تربیت دینا تھا اور یہ کام آج کل ہم کررہے ہیں۔ NIRC اس سے غافل ہے۔ لیبر عدالتوں یا NIRC کو توہین عدالت کے ضمن میں کوئی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے البتہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے یا عمل نہ کرنے کے خلاف مختلف دفعات میں مختلف اختیارات حاصل ہیں۔ کسی ورکر کو پہلی صف سے اُٹھا کر پچھلی صف میں زبردستی بھیجنا ججز اور عدالتی اسٹاف کے شاہانہ مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں وکیل اسی صورت میں محنت کش کی درست نمائندگی کرسکتا ہے جب وہ خود کو مزدور سمجھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ ججز کو صرف ایک کنٹریکٹ دیا جاسکتا ہے وہ بھی محض 3 سال کے لیے اور یہ شرط بھی ہے کہ کنٹریکٹ کی مدت جج صاحب کی 65 سال کی عمر ہونے سے پہلے ختم ہوجائے۔ پرویز مشرف کا برطرفی کا قانون مجریہ 2000 کو 2010ء میں ختم کردیا گیا تھا۔ اس وقت وفاقی سطح پر کوئی مصالحت کنندہ موجود نہیں ہے۔ NIRC کا ڈپٹی رجسٹرار مصالحت کرانے کا اہل نہیں ہے۔
ریاض اختر اعوان
سوئی سدرن گیس مزدور رہنما ریاض اختر اعوان نے کہا کہ 1969ء میں جب پہلی بار باقاعدہ لیبر قوانین بنائی گئی اس وقت حالات و واقعات اور مسائل کچھ اور تھے جو کہ اب یکسر تبدیل ہوچکے ہیں اور بلاشبہ حالات بہت زیادہ بگڑ چکے ہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے انتخابی عمل میں جب بھی حصہ لیا پراپرٹی ڈیلرز، جاگیردار، وڈیرہ شاہی کے کارندوں، خود وڈیروں کو اور سرمایہ داروں کو ایوانوں میں بھیجا۔ ہم خود نہ ایوانوں میں گئے اور نا جانے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنے حقیقی نمائندوں کو ایوانوں میں بھیجا۔ ضیاء دور میں گیارہ سال تک تحریر و تقریر ٹریڈ یونین اور طلباء تنظیموں پر پابندی لگا کر عوام کی آواز کا بالعموم اور ٹریڈ یونین تحریک کو بالخصوص دبائے رکھا گیا۔ بعدازاں رہی سہی کسر پرویز مشرف کے برطرفی کا آرڈیننس مجریہ 2002 نے پوری کردی۔ ہمارے آئین میں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹر یا ٹھیکیدار کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود پورا ملک ٹھیکیداری نظام کے تحت چلایا جارہا ہے اور لاکھوں محنت کش ریٹائرمنٹ کی مراعات اور پنشن سے محروم ہو کر گھر چلے جاتے ہیں۔
عمران علی
پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی اینڈ مائنز ورکرز کے جنرل سیکرٹری عمران علی نے کہا کہ موجودہ حالات میں مزدور تحریک میں کوئی جوش اور ولولہ باقی نہیں رہا اور حالات کی خرابی کی سب سے زیادہ ذمہ داری فیڈریشنز پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں سرمایہ دار، بیورو کریس اور دیگر طاقتیں حکومت کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے کبھی بھی مزدور حکومت نہ کرسکے۔ ہماری لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ ہم قوانین کے بنیادی فرق سے واقف نہیں ہیں۔ ضرورت ہے کہ مزدور تحریک کو منظم کرکے جدوجہد کی جائے۔
غلام محبوب
PC ہوٹل کے مزدور رہنما غلام محبوب نے کہا کہ کنٹریکٹ لیبر کی تمام تر ذمہ داری پبلک سیکٹر کے ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ ٹریڈ یونین کی تباہی کی سب سے بڑی ذمہ داری اور وجہ 1969ء کا صنعتی تعلقات کا قانون ہے جس میں پہلی دفعہ دوسری یونین بنانے کی دفعہ شامل کی گئی۔ حکمرانوں کی وجہ سے محنت کشوں کو زندہ درگور کردیا ہے جبکہ ٹریڈ یونین کی تباہی میں NGO’s نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔
سرتاج ندیم
پروگریسیو ورکرز فیڈریشن کے بانی سرتاج ندیم نے کہا کہ لیبر پالیسی 2010ء میں پبلک سیکٹر کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کردیا گیا تھا لیکن اس پالیسی پر آج تک عمل نہیں ہوسکا جس کی سب سے زیادہ ذمہ دارای خود ہم پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ بقول عبدالمجید کامریڈ اب ہمارا ضمیر مردہ ہوچکا ہے کسی پر الزام لگانا آسان ہے جبکہ خود احتسابی مشکل کام ہے جو کہ ہمیں کرنی چاہیے۔
رشید عثمان
بینکس کے سابق مزدور رہنما عبدالرشید عثمان نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال انتہائی نازک ہے۔ کچھ لیبر لیڈر ایوانوں میں پہنچے ہیں البتہ وہ ہمارے مسائل کے لیے کام نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقی مزدور رہنما سیاست چھوڑ کر متحد ہوجائیں۔
محسن رضا
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور پیپلز لیبر بیورو کے رہنما محسن رضا نے کہا کہ ہم نے جدوجہد کرکے واٹر بورڈ میں 1100 ملازمین کو بحال کروایا۔ موجودہ عدالتی نظام کی خرابیوں کے ساتھ ساتھ وکلا کا کردار انتہائی افسوس ناک ہے۔
نفیس حیدر
کراچی شپ یارڈ کے سابق مزدور رہنما نفیس حیدر نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بینکنگ سیکٹر میں 27(2)b ختم ہونی چاہیے جو کہ ایک کالا قانون ہے۔
عبدالسلام
نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر عبدالسلام نے کہا کہ اس وقت ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو پچھلے 70 سال سے مسلسل جدوجہد میں اپنی جان، مال اور آبرو کی قربانی دے رہے ہیں اور بھارتی افواج علی الاعلان ہماری حمیت، غیرت کا خون کررہا ہے۔ انسانیت کی تزلیل کررہا ہے۔ ہمارے مسلمان بھائی بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹے جارہے ہیں اور پھر بھی گائو ماتا مقدس ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے جبکہ یہ محض نعرہ ہی ہے۔ ہمیں تجارت چھوڑ کر جہاد کرنا چاہیے۔
پروگرام میں کون کون شریک ہوا
JLF اور KLF پروگرام میں مقررین کے علاوہ پروگریسیو فیڈریشن آف انڈسٹریل لیبر کے ملک محمد صدیق، کراچی لیبر فیڈریشن کے احمد خان، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے یعقوب احمد شیخ، پاکستان مشین ٹول فیکٹری کے علی اختر بلوچ، ظہور خان، فردوس احمد، عبدالحفیظ، مزدور رہنما عبدالرشید عثمان، KDA کے مزدور رہنما ساجد حسن، صحافی ارشاد ایم خان، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے حسنین، فاضل اور عبدالرحمن، کوہِ نور سوپ کے اسرار احمد اور اسلم پینٹر، سینئر مزدور رہنما اسلم خان، اٹلس ریر کے عبدالوحید خان، متحدہ لیبر فیڈریشن سندھ کے عبدالرئوف، ڈاڈیکس کے وسیم اللہ، علی محمد جمالی اور سید محمد خان، محمد حسنین خان ایڈووکیٹ، غفار یعقوب ایڈووکیٹ، حنیف انڈسٹریز کے رہنما گل زمین، ہینو پاک کے نمائندہ سیسی نورالامین، وفا کے رہنما شمیم احمد، فارماٹیک کے رہنما امیر روان اور محی الدین، احسان اللہ ایڈووکیٹ، GSK کے رہنما نثار احمد اور عبدالرشید، PIA پیارے کے رہنما پرویز فرید اور سید طاہر حسن چینی، سندھ لیبر فیڈریشن کے رہنما شیخ مجید، سید ذوالفقار شاہ، CID نیوز کے نمائندہ رانا ارشد، سائٹ لیبر فورم کے رہنما خواجہ مبشر زبیر اور دیگر نے شرکت کی۔
جھلکیاں
پروگرام کا آغاز KDA کے رہنما ساجد حسن نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد انہوں نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ پروگرام حاضری کے لحاظ سے بہت کامیاب رہا۔ تمام ہی مزدور رہنمائوں نے جسارت کی مزدور خدمات کو سراہا۔ قومی ترانہ سب نے کھڑے ہو کر پیش کیا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے بیشتر رہنما تقریر نہ کرسکے۔ مہمان خصوصی جب تقریر کے لیے آئے تو شرکاء نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کی۔ قاضی سراج نے کہا کہ سعودی عرب نے بھارت میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔