صوبے کی یکساں ترقی چاہتے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

30

پشاور(آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تمام شعبوں میں خدمات کی فراہمی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر اور دیرپاء بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، ہمارا حکمرانی کا نظام صوبے میں نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے تناظر میں بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے،اب پورے صوبے میں حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کا یکساں نظام ہوگا ،پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق مقامی سطح پر عوامی مسائل کا بروقت ازالہ اور تیز تر ترقی صوبائی حکومت کی ترجیح ہے۔وزیراعلیٰ نے ارکان صوبائی اسمبلی سے صوبے میں طرز حکمرانی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکمرانی کا قابل عمل نظام متعارف کرایا،اداروں کو بااختیار بنایا اور اختیارات کا ارتکاز ختم کر کے عوامی خدمت کا شفاف طریقہ کار وضع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 5برس میںنظام میں اصلاحات کے کامیاب تجربے کے بعد صوبائی حکومت نے اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے بلکہ اسے مزید بہتر اور زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی منصوبہ بندی کی،مختلف شعبوں میں طویل مشاورتی عمل کے ذریعے اصلاحات تجویز کی گئی ہیں،جن پر عمل در آمد جاری ہے،ہم بتدریج بہتر سے بہترین کی طرف گامزن ہیں۔محمود خان نے کہا کہ عوامی ضروریات اور توقعات کو مدنظر رکھ کرترقیاتی منصوبہ بندی کرنا پی ٹی آئی کی حکومت کا خاصہ ہے،پی ٹی آئی شروع دن سے انسانیت کی فلاح و ترقی کے لیے سرمایہ کاری پر یقین رکھتی ہے۔وزیراعلیٰ نے حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پورے صوبے کی یکساں ترقی چاہتے ہے تاہم صوبے میں شامل نئے اضلاع اور پسماندہ علاقوں کو اٹھانا حکومت کی ترجیح رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سماجی خدمات کے شعبوں میں جدت متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے خصوصی طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خطیر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں اسٹاف کی کمی اس صوبے کا ایک دیرینہ مسئلہ تھا جس پر بد قستمی سے ماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔