ہانگ کانگ احتجاج سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے!

133

وسعت اللہ خان

سوشل میڈیا تو آج کی پیداوار ہے مگر مزاحمتی تحریکوں کو منظم کرنے میں سوشل میڈیا بہت زمانے سے کام آ رہا ہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریز جاسوسوں سے بچنے کے لیے ہندوستانی باغی سوکھی چپاتیوں کو پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 70ء کی دہائی کا شاہی ایران جہاں ساوک کے خفیہ ایجنٹ قدم قدم پر پھیلے ہوئے تھے ایک خفیہ مزاحمتی نیٹ ورک خمینی کی تقاریر آڈیو کیسٹس کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں پہنچاتا رہا۔ اس کے سبب 1978ء میں شاہ کے خلاف عام آدمی کو گھر سے نکالنا ممکن ہو سکا۔
اکیسویں صدی میں قاصد ، چپاتی ، رومال اور کیسٹ کا کام وٹس ایپ ، ٹوئٹر ، فیس بک اور انسٹا گرام وغیرہ نے سنبھال لیا۔سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ 2011ء میں ہوا جب بولنے اور لکھنے کی سخت پابندیوںکے باوجود تیونس ، قاہرہ ، عمان ، طرابلس اور بحرین میں روزانہ ہزاروں افراد کہ جن میں نوجوانوں کی اکثریت تھی، اچانک ایک مقررہ وقت پر چیونٹیوں کی طرح جمع ہو کر شاہراہ بند کر دیتے یاکھلے میدان میں جلسہ ، دھرنا شروع کر دیتے۔
حکومتوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مظاہرین کون سا اطلاعاتی نظام استعمال کر رہے ہیں۔ اس زمانے میں اسمارٹ فونز کا استعمال بھی زیادہ نہیں تھا، لہٰذا ایپس بھی اتنی نہیں تھیں۔ فیس بک پیغام رسانی کا سب سے آسان و مقبول ذریعہ تھا۔ ایک میسج رات گئے جاری ہوتا کہ فلاں اسکوائر میں کل دوپہر اتنے بجے مظاہرہ ہے، اور پھر یہ میسج لاکھوں کی تعداد میں شیئر ہوجاتا۔ اسی لیے عرب بہار کو فیس بک بہار بھی کہا جاتا ہے۔ مگر جس طرح مزاحمت کار ہر دور میں رابطہ کاری کے لیے ریاستی و سرکاری ہتھکنڈوں کا توڑ نکالتے رہتے ہیں اسی طرح
حکومتیں بھی توڑ کا توڑ کرنے میں پیچھے نہیں رہتیں۔ عرب بہار کے نتیجے میں حکومتوں نے عام شہریوں کا ڈیٹا جمع کرنے اور مصنوعی ذہانت کو اپنے مطلب کے لیے بھر پور طریقے سے استعمال کرنا شروع کیا۔اس جدید آنکھ مچولی کا تازہ ترین مظہر ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہرے ہیں۔
ہانگ کانگ کی نوآبادی کو برطانیہ نے 1997ء میں اس معاہدے کے تحت چین کے حوالے کیا کہ اگلے 50 برس یعنی 2047ء تک ہانگ کانگ اندرونی طور پر خود مختار رہے گا اور اپنی اقتصادی و انتظامی پالیسیاں وضع کرنے میں آزاد ہوگا، تاہم گزشتہ 22 برس کے دوران ہانگ کانگ کے باشندوں کو کئی بار محسوس ہوا کہ چین غیر اعلانیہ طور پر اپنی گرفت مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ چنانچہ 2014ء میں کچھ مظاہرے ہوئے اور مقامی انتظامیہ نے کچھ لچک اور کچھ سختی کی پالیسی اپنا کر ان پر قابو پالیا۔
مظاہروں کی تازہ لہر رواں برس جون میں شروع ہوئی جب ہانگ کانگ کی مقامی حکومت نے یہ مبہم قانون منظور کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث ہانگ کانگ کے شہریوں کو مقدمہ چلانے کے لیے چین کی عدالتوں میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔اس قانون کے سبب بہت سے مقامیوں کو خدشہ ہوا کہ اس کا غلط اور عام استعمال بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ پچھلے 11 ہفتے سے ہانگ کانگ بڑے بڑے احتجاجی مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی نظر سے بچنے کے لیے ان مظاہروں کی کوئی مرکزی قیادت بظاہر تشکیل نہیں دی گئی۔ حکومت مظاہرین کی شناخت کے لیے سوشل میڈیا کا ڈیٹا استعمال کر رہی ہے۔چنانچہ لاکھوں شہریوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں ، تصاویر اتار لی ہیں، انٹرنیٹ کی نگرانی سے بچنے کے لیے واٹس ایپ کے بجائے ٹیلی گرام نامی ایپ استعمال کی جا رہی ہے جب کہ اسمارٹ فونز پر سے سوائے بہت ہی ضروری ایپس کے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔
بظاہر مرکزی قیادت نہ ہونے کے باوجود لاکھوں مظاہرین خاصے منظم ہیں۔ پچھلے دنوں آپ میں سے اکثر نے ایک وائرل وڈیو دیکھی ہو گی جس میں ایک ایمبولینس کو کس طرح احتجاجیوں کے جمِ غفیر نے پلک جھپکتے کائی کی طرح چھٹ کے سیدھاراستہ دیا اور ایمبولینس گزرتے ہی ہجوم پھر شیر و شکر ہو گیا۔
مظاہرین کو پولیس کے ڈنڈوں اور ڈھالوں سے اتنا ڈر نہیں، جتنا ہائی اسپیڈ ڈیجیٹل کیمروں سے ہے۔ یہ کیمرے کسی بھی شخص کی تصویر لیتے ہیں اور اس کا پورا ڈیٹا پولیس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔مظاہرین اس کیمرے سے بچنے کے لیے لیزر ٹارچیں بھی استعمال کر رہے ہیںکیونکہ لیزر کا استعمال ان کیمروں کو درست تصاویر لینے سے روکتا ہے۔ اب پولیس ان لوگوں کے پیچھے ہے جنہوں نے لیزر ٹارچیں خریدیں۔
آج کل کسی بھی تحریک کو کچلنے کے لیے حکومتیں طاقت کے بھرپور استعمال سے پہلے اس تحریک کو غدار اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ہانگ کانگ میں یہ مرحلہ گزشتہ پیر کو آیا جب مظاہرین نے ائرپورٹ کے لاؤنج پر قبضہ کر لیا۔ اگلے 72 گھنٹے میں 400 سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔چند مظاہرین بے قابو ہو گئے اور انہوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس افسر کی پٹائی کردی اور چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے رپورٹر فو گو ہاؤ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ہاتھ ٹرالی سے باندھ دیے۔ یہ تصاویر وائرل ہونے سے مظاہرین کے رویے اور سمت پر نہ صرف عام شہریوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ہانگ کانگ کی انتظامیہ اور بیجنگ حکومت کی جانب سے بھی مظاہرین کے ڈانڈے دہشت گردی سے ملائے جانے لگے۔
چنانچہ مظاہرین کی قیادت ( جس کا بظاہر کوئی وجود نہیں)نے حالات کو قابو سے باہر ہونے اور تحریک کو ریاستی طاقت کی جانب سے کچلنے کے امکان سے بچانے کے لیے عدالتی حکم کی روشنی میں ائرپورٹ فوری طور پر خالی کر دیا۔ نئی حکمتِ عملی وضع ہونے اور تحریک کو پرامن رکھنے کی خاطر 3 دن کے لیے مظاہرے معطل کر دیے اور بہت سے نوجوان ائر پورٹ لاؤنج میں پلے کارڈز لے کر کھڑے ہو گئے جن پر کچھ اس قسم کی عبارتیں تھیں۔
’’ پیارے سیاحو کل ( منگل ) یہاں جو ہوا ہم اس پر معذرت خواہ ہیں، ہم سے جلد بازی میں کچھ ناپختہ فیصلے ہوئے، ان پر ہمیں انتہائی افسوس ہے ‘‘۔
’’ دوستو ہم نوعمر ہیں اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اگر کوئی غلطی ہو جائے تو دل بڑا کر کے درگزر کر دیں ‘‘۔
اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی جہاں حقوق کی جد و جہد کو آسان بنا رہی ہے وہیں ٹیکنالوجی کا جوابی استعمال اس جدوجہد کو پہلے سے زیادہ مشکل اور پْر خطر بھی بنا رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں جو بھی نتائج نکلتے ہیں اس سے سیکھنے کے لیے ہم سب کے لیے بہت کچھ ہوگا۔ اگلی جدوجہد کے لیے بھی اور اگلے جبر کے لیے بھی۔