باپ بڑا نہ بھیا۔ سب سے بڑا روپیا

102

آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ان دنوں جعلی اکائونٹس کیس میں اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں۔ یہ لوگ جیل جانے سے پہلے اپنے گھروں میں چنگے بھلے تھے اور اپنے خرچے پر عیش کی زندگی گزار رہے تھے لیکن جیل پہنچتے ہی بیمار ہوگئے۔ زرداری پر کئی بیماریوں نے حملہ کردیا۔ فریال تالپور بھی بیماریوں کے بوجھ تلے دب گئیں۔ آخر دونوں کی طرف سے احتساب عدالت کو درخواست دی گئی کہ ان کی کمزور صحت جیل کی سختیوں کا سامنا نہیں کرسکتی اس لیے انہیں جیل میں اے کلاس دی جائے اور اے سی، فریج، ہمہ وقتی خدمت گار سمیت تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔ عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی ہے۔ البتہ ان سے کہا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے خرچے پر ’’عیش‘‘ کرسکتے ہیں اور اپنا پیسا خرچ کرکے جیل میں گھر کی سی گزار سکتے ہیں۔ اندھا کیا چاہے۔ دو آنکھیں۔ زرداری اور ان کی بہن کو اور کیا چاہیے ان کے پاس دولت کی کیا کمی ہے۔ آخر وہ اپنے گھر پر بھی تو اپنی دولت ہی خرچ کررہے تھے اب جیل بھی تو ان کا دوسرا گھر ہے اس لیے وہ وہاں بھی اپنی دولت کے بل پر اپنی مرضی کی زندگی گزار سکتے ہیں غالبؔ نے اپنے ایک ممدوح کے بارے میں کہا تھا۔
دیا ہے خلق کو بھی، تا اُسے نظر نہ لگے
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
یہ شعر آصف زرداری پر بھی صادق آتا ہے۔ وہ جہاں بھی رہیں ’’عیش‘‘ ان کی خدمت میں دست بستہ حاضر رہتا ہے۔ جس قسم کے الزامات کا انہیں آج سامنا ہے وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں آنے کے بعد سے ایسے ہی الزامات کا سامنا کررہے ہیں لیکن آج تک ان کا بال بھی بیکا نہ ہوسکا۔ بے نظیر بھٹو وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار انجوائے کرتی رہیں اور زرداری ان کے شوہر نامدار کی حیثیت سے دولت کے ڈھیر لگاتے رہے۔ پھر جب قانون کی گرفت میں آئے تو یہی دولت ان کے لیے ڈھال بن گئی۔ انہوں نے دس بارہ سال کا طویل عرصہ جیل میں گزارا لیکن
جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے
اپنی فیاضی اور دریا دلی کی داستان۔ بتایا جاتا ہے کہ لانڈھی جیل میں ان کی یہ داستان ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، جیل کے چھوٹے عملے کے وظیفے لگے ہوئے تھے ان کی بیٹیوں کی شادی کے موقع پر خصوصی گرانٹ دی جاتی تھی، بڑے عملے اور افسران کو ان کی حیثیت کے مطابق نوازا جاتا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی کیا مجال تھی کہ زرداری صاحب بلائیں اور وہ دست بستہ حاضر نہ ہو، وہ اپنا بیشتر وقت جیل سے باہر گزارتے، راتیں اپنے عشرت کدے میں بسر ہوتیں، البتہ جیل کے رجسٹر میں ان کی حاضری پوری لگتی تھی اور جیل کا پورا عملہ ان کے لیے یہ گواہی دینے کو موجود تھا کہ زرداری صاحب ہر وقت جیل میں حاضر رہتے ہیں۔ ایک دفعہ بیمار پڑ گئے اور اسپتال منتقل ہوئے تو اسپتال کا پورا بلاک کرایے پر لے لیا اور تیمارداروں کا تانتا بندھ گیا۔ انہوں نے جس شان سے دس بارہ سال قید میں گزارے اس کی مثال نہیں ملتی لیکن یہ سب پیسے کا کرشمہ تھا اسی لیے کہا گیا ہے
باپ بڑا نہ بھیا۔ سب سے بڑا روپیّا
قید میں زرداری صاحب کی ’’استقامت‘‘ سے لاہور کے ایک بزرگ ایڈیٹر اتنے متاثر ہوئے کہ ان کے سینے پر ’’سردِ حُر‘‘ کا تمغا سجادیا جو مدتوں چمکتا رہا۔ اب زرداری صاحب پھر جیل میں ہیں۔ منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹس کا کیس ہے جس میں ان کی بہن صاحبہ بھی دھرلی گئی ہیں جن کی یہ پہلی جیل یاترا ہے۔ ظاہر ہے وہ زیادہ پریشانی محسوس کررہی ہیں لیکن اب وہ احتساب عدالت کی مہربانی سے اپنے خرچ پر جیل میں بھی گھر کا ماحول قائم کرسکیں گی۔ زرداری اس فن میں یکتا ہیں، ممکن ہے وہ زیادہ عرصہ جیل میں رہیں تو اپنی فیاضی اور دریا دلی سے پورے اڈیالہ جیل کا ماحول ہی بدل دیں اور جیل کا پورا عملہ ان کے گن گانے لگے۔ زرداری پر ہی کیا موقوف ہے جرائم پیشہ عناصر کے سرغنہ جیل کے عملے کے ساتھ اسی فیاضی کا سلوک کرتے ہیں اور اس کے عوض وہ جیل میں بیٹھ کر باہر کی دنیا پر حکمرانی کرتے ہیں۔ کہاں گیا عمران خان کا یہ دعویٰ کہ اشرافیہ کے مجرموں کے ساتھ بھی عام مجرموں کا سلوک کیا جائے گا۔