کشمیر کا صرف ایک حل ہے

103

محمد یوسف منصوری

ایک حکایت ہے کہ جنگل میں شیر کا انتقال ہوگیا تو سب جانور مختلف جانوروں سے درخواست کرتے رہے کہ وہ اب جنگل کا بادشاہ بن جائے۔ سب نے اپنی خیریت اس میں سمجھی کہ انہوں نے انکار کردیا مگر بندر نے اپنی چالاکی کی وجہ سے حامی بھرلی، وہ جنگل کا بادشاہ بن گیا۔ سب معاملات خیریت سے ہورہے تھے کہ چیل نے کبوتر کے بچے کو گھونسلے سے اُٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے گئی۔ کبوتر شکایت لے کر بندر کے پاس گیا۔ بندر نے کوئی بات نہیں، ابھی اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں۔ چناں چہ اس نے ایک درخت سے دوسرے اُس درخت تک جس کے نیچے کبوتر کا بچہ موجود تھا چھلانگ لگانی شروع کردی۔ کچھ وقت تو کبوتر یہ تماشا دیکھتا رہا،آخر کار اس نے کہا حضور اتنی دیر میں چیل میرے بچے کو کھا جائے گی آپ میرے بچے کو چیل کے قبضے سے چھڑانے کی کوشش کریں ورنہ اس اچھل کود سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بندر نے جواب میں کہا آپ کے بچے کے لیے ہی یہ جدوجہد اور اتنی محنت کررہا ہوں۔
مودی نے کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ ظاہر ہے یہ کام ایک دن میں نہیں ہوا۔ بلکہ الیکشن مہم کے دوران اس نے بھرے جلسوں میں اس کا اعلان کیا تھا۔ اور الیکشن جیتنے کے یہ کیس پہلے وزارت قانون کے پاس گیا ہوگا۔ وہاں سے پارلیمنٹ میں آیا، اس سے پہلے صدارتی حکم کے ذریعے اس کا نفاذ کیا گیا۔ ہماری وزارت قانون اور وزارت خارجہ کہاں سورہی تھی۔ کیوں اس نے دنیا کی مقتدر قوتوں کو اس ساری صورتِ حال کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ اگر وہ دنیا کو آگاہ کرتی تو شاید مودی سرکار کو کچھ لگام دی جاسکتی تھی۔ مگر سب کچھ ہو جانے کے بعد اب تو مذکورہ حکایت کے مطابق بندر جیسی حرکت نظر آتی ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر تقاریر کر والی گئیں۔ دوسروں کے سہاروں پر چلنے والے چیئرمین کشمیر کمیٹی بیچارے کیا کریں گے۔ بس قوم کے پیسوں پر بہت سارے ممالک کے پرتعیش دورے ہوجائیں گے اور ان کے بیانات اخبارات کی زینت بن جائیں گے اور آہستہ آہستہ معاملہ دب جائے گا۔ یہ اس اچھل کود کچھ بھی فائدہ مند نہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان شور کرتے رہیں گے کہ ہم کو ہندوئوں کی غلامی سے بچانے کی کوشش کرو۔ اور ہم کہیں گے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر زبردست تقاریر کروادیں۔ اب وفود بھیج کر مختلف ممالک کے بیانات دلوادیں گے۔ کشمیر کا مسئلہ اگر حکومت پاکستان اپنا کیس سمجھ کر حل کروانا چاہتی ہے تو اس کا سیدھا سادا حل یہ تھا کہ مودی سرکار نے اقوام متحدہ، بھارت کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس طرح کشمیر پر پوری دنیا کے سامنے غاصبانہ قبضہ کرلیا ہے اور پورا بندوبست کرلیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی طور پر کوئی مدد نہ مل سکے۔ اسی طرح 15 اگست کو ہم اپنی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں اُتار دیتے تو پوری دنیا میں ہل چل مچ جاتی کہ دو ایٹمی قوتوں میں جنگ ہونے والی ہے اور دنیا تباہی کی طرف جارہی ہے۔ فوراً سب آگے بڑھ کر اس کو حل کروانے کی کوشش کرتے اور اللہ کے حکم سے اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا۔ یہ راستہ تو اختیار کرنے کے بجائے صرف اچھل کود کا راستہ اختیار کیا گیا۔ جس کا کوئی حل نکلنے کی اُمید نہیں ہے۔ 72 برس سے یہی کچھ ہورہا ہے اور سب اسی صورت حال کو جانتے ہیں۔