ایک آنہ فنڈ، عینی آپا اور جادو

106

سید محمد اشتیاق

امی عید الاضحی کے موقعے پر چند دن رہائش کے لیے تشریف لائیں، تو جہاں گھر میں رونق بڑھی، وہیں مجھ سمیت بچوں کو بھی امی اپنے بچپن کے قصے سناتی رہیں۔ امی چونکہ مطالعے کی عادی ہیں اور ان کے سرہانے کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر پایا جانا، ایک عام بات ہے۔ امی کے سرہانے، امی کی بچپن کی دوست ڈاکٹر صہبا (فرید) لیاقت علی کی نامور شاعر اسرار الحق مجاز کے حالات زندگی سے متعلق مرتب کردہ کتاب بھی دیکھی۔ کچھ دیر بعد امی ٹی وی لائونج میں آ کر چپ چاپ بیٹھ گئیں۔ اندازہ ہو گیا کہ امی اپنے بچپن کو یاد کر رہی ہیں۔ امی سے پہلا سوال میں نے عینی آپا (قرۃ العین حیدر) سے متعلق پوچھا کہ آپ کی ان سے ملاقات کیسے ہوئی۔ تو امی نے بتایا کہ لکھنو میں تمہارے نانا ابا نے دو کمرے ایک آنہ فنڈ کے تعلیمی ادارے کو بغرض فروغ تعلیم عنایت کیے ہوئے تھے۔ ایک آنہ فنڈ سید خلیل احمد مرحوم نے قائم کیا تھا۔ فنڈ سے دیگر رفاہی کاموں کے علاوہ غریب و نادار بچوں کو ابتدائی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ بانی ایک آنہ فنڈ سید خلیل احمد کا تعلق (یو پی) سادات نہٹور سے تھا۔ مرحوم نے ابتدائی تعلیم نہٹور سے حاصل کی۔ حصول
تعلیم کے بعد پوسٹ ماسٹر جنرل (یو پی، لکھنو) میں ملازم ہو گئے، جہاں ہمارے نانا ابا مرحوم نے بھی ملازمت اختیار کی ہوئی تھی۔ سید صاحب اور نانا ابا مرحوم کی رہائش گاہیں باہم متصل و ملحق تھیں۔ سید صاحب کی صاحب زادیاں یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں اور عینی آپا کی ان سب سے رشتے داری کے علاوہ دوستی بھی تھی۔ اور عینی آپا گاہے گاہے اپنی دوستوں کے گھر قیام کے لیے بھی تشریف لاتی تھیں۔
امی نے میٹرک کرامت حسین گرلز اسکول لکھنو سے کیا ہے۔ اسکول میں داخلے سے قبل امی کی انگریزی اور اردو کی ابتدائی تعلیم کا ذمہ ہماری بڑی خالہ کے سر تھا۔ جو تعلیم کے معاملے ہمیشہ انتہائی سنجیدہ رہی ہیں۔ امی ان سے ڈرتی بھی تھیں اور بعض دفعہ کھیل کود میں منہمک رہنے کی وجہ سے سبق بھول بھی جایا کرتی تھیں۔ اس صورت حال میں امی شفقت بھری رہنمائی کے لیے سید صاحب کی صاحب زادیوں سے بھی ملاقات کرنے جا پہنچتیں تھیں۔ امی کی پہلی ملاقات عینی آپا سے وہیں ہوئی۔ اور بعض دفعہ ان سے بھی انگریزی کے سبق کی رہنمائی لی۔ امی بتاتی ہیں کہ جب بھی ان سے ملاقات ہوئی، ان کو مطالعے میں غرق پایا عینی آپا سے امی کی ملاقات پاکستان میں ہماری ایک عزیزہ مرحومہ ڈاکٹر نور افشاں امام کی رہائش گاہ پر بھی ہوئی۔ وہ ملاقات اس حوالے سے یادگار رہی کہ امی نے ان کے سامنے اپنے بچپن کی یادیں اور باتیں تازہ کیں اور ان کو ان کے سنہرے تعلیمی دور کی یاد دلائی۔
عینی آپا نہایت شفقت و محبت سے پیش آئیں اور امی کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے تاکید کی کہ میری کراچی آمد کا تذکرہ رشتے داروں سمیت کہیں بھی نہ ہونے پائے۔ تمہیں نہیں پتا کہ ہم کس طرح کراچی پہنچے ہیں۔ بہرحال ایک عرصے بعد امی نے عینی آپا کی وفات کے بعد اس واقعے کا تذکرہ کیا۔ اور جس دن یہ سطریں تحریر کی جا رہی ہیں، وہ عینی آپا کا یوم وفات بھی ہے۔
امی نے جتنا بھرپور بچپن گزارا اس کا ذکر جب بھی امی کرتی ہیں، تو سب زیادہ شوق و انہماک اور حیرت سے وہ باتیں میری اکلوتی و پیاری بیٹی سنتی ہے۔ امی کی بچپن سے لے کر شادی تک کی خوب صورت یادیں تصویری شکل میں دو البم کی صورت میں میرے پاس محفوظ ہیں۔ کچھ تصویریں لکھنو کے مشہور و معروف گپتا اسٹوڈیوز کے گپتا صاحب کی بھی کھینچی ہوئی ہیں۔ جو انتہائی دل فریب ہیں۔ امی بتاتی ہیں کہ جب میں اور صہبا تصویریں دیکھ رہے اور البم میں لگا رہے ہوتے تو مشہور شاعر، نغمہ نگار، کہانی نویس و دانشور جاوید اختر بھی کبھی کبھار آ جاتا۔ جس کو سب پیار سے جادو کہتے تھے۔ اور ہماری تصویریں دیکھ کر جادو بھی نہایت معصومانہ اور پیارے انداز میں کہتا کہ ایک آنہ لے لیں اور اپنی تصویر مجھے دے دیں۔