قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

105

قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا جس کا رائی کے دانے کے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔ پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ’’ذکر‘‘ عطا کر چکے ہیں اْن متقی لوگوں کی بھَلائی کے لیے۔ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اْس گھڑی کا کھٹکا لگا ہْوا ہے۔ اور اب یہ بابرکت ’’ذکر‘‘ ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے پھر کیا تم اِس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟۔ اْس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اْس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اْس کو خوب جانتے تھے۔ یاد کرو وہ موقع جبکہ اْس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟‘‘۔ (سورۃ الانبیاء: 47تا52)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو (تین مرتبہ) پوچھا گیا اے اللہ کے رسولؐ کس کی ناک خاک آلود ہو۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے اپنے دونوں والدین یا کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور جنت میں نہ جا سکا۔ (مسلم)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتا دوں؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا‘‘، راوی کہتے ہیں: آپ اٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا: ’’اور جھوٹی گواہی دینا‘‘۔ یا جھوٹی بات کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باربار اسے دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا: ’’کاش آپ خاموش ہو جاتے‘‘۔ (ترمذی)