فرانس میں جی سیون سربراہ اجلاس پر مظاہرے

140
پیرس: جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر مظاہرین نے عالمی رہنماؤں کے کارٹون نصب کررکھے ہیں
پیرس: جی سیون سربراہ اجلاس کے موقع پر مظاہرین نے عالمی رہنماؤں کے کارٹون نصب کررکھے ہیں

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں دنیا کی 7 بڑی معیشتوں کے سربراہ اجلاس کے موقع پر مختلف تنظیموں اور طبقات نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جی سیون سربراہ اجلاس ہسپانوی سرحد سے متصل فرانس کے بندرگاہی شہر اوندائی میں ہفتے کی صبح منعقد ہوا۔ اس دوران مختلف تنظیموں کے کارکن اور حامی اس شہر میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ یہ مظاہرین 3 روزہ ’’انسدادِ جی سیون‘‘ اجلاس سے یہاں آئے، جس میں ماحولیات، سرمایہ دارانہ نظام اور تارکین وطن کے موضوعات پر مختلف کانفرنسیں، مذاکرے اور ورک شاپس ہوئیں۔ مظاہرین نے اوندائی میں جی سیون اجلاس کے مقام کی جانب جانے والی سڑکوں اور دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے، ریلیاں نکالیں اور کیمپ لگائے۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ مظاہرین پر آنسوگیس اور لاٹھیاں برسائی گئیں، جب کہ کئی کو حراست میں بھی لیا گیا۔ اہل کاروں نے احتجاجی کیمپ اور خیمے اکھاڑ پھینکے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہونے سے شہر میدان جنگ بن گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ چند امیر ممالک کا کلب ہے، جو مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بجائے آپس میں اختلافات کا شکار نظر آتے ہیں۔ دنیا میں معاشی لحاظ سے سب سے آگے سمجھے جانے والے 7ممالک کے گروپ جی سیون کے اجلاس سے قبل ہی چین امریکا تجارتی جنگ، ایمزون کے جنگلات میں آگ کے معاملے پر برازیل فرانس الزام تراشی اور بریگزٹ پر برطانیہ ویورپی یونین کے درمیان تنازع نے سربراہ اجلاس کا ماحول کشیدہ کر دیا۔ جی سیون ممالک میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا شامل ہیں۔ یہ 7ممالک مل کر دنیا کی 40فیصد مجموعی قومی پیداوار کے ذمے دار ہیں۔