یونان رُکنے کی اجازت نہ ملنے پر ایرانی جہاز ترکی روانہ

50

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) جبل طارق سے رہا کیے گئے ایرانی آئل ٹینکر نے یونانی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ ملنے پر اپنی منزل بدل لی ہے اور اب اس کی منزل ترکی ہے، جب کہ امریکا اس آئل ٹینکر کا تعاقب کررہا ہے۔خبررساں اداروں کے مطابق جبل طارق سے یہ آئل ٹینکر یونانی بندرگاہ کالاماتا کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے دباؤ کے سبب یونان نے اسے وہاں لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد اس آئل ٹینکر نے اپنی منزل تبدیل کی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کے ادریان دریا ون نے جہاز رانی کے راستوں کے تعین کے نظام آٹومیٹک آئڈینٹی فیکشن سسٹم میں اپنی منزل ترکی کی بندرگاہ میسرین کو مقرر کیا ہے۔ ترکی کے جنوب میں واقع اس بندرگاہ پر تیل کا ایک ٹرمینل قائم ہے۔ یہ بندرگاہ شامی ریفائنری بانیاس سے محض 200 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ برطانوی حکام نے اس آئل ٹینکر کو روکتے ہوئے یہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ تیل لے کر بانیاس جا رہا تھا۔ اس جہاز پر 21لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے، جس کی قیمت 10کروڑ 30لاکھ ڈالر ہے۔ آئل ٹینکر کو گزشتہ ہفتے کے آغاز پر جبل طارق میں 6ہفتے تک روکے جانے کے بعد جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ادریان دریا ون نامی اس آئل ٹینکر کا سابق نام گریس ون تھا۔ برطانوی رائل نیوی نے اس آئل ٹینکر کو 4جولائی کو اس خدشے پر روک لیا تھا کہ وہ شام کے لیے تیل لے کر جا رہا تھا۔ تاہم ایران اس سے انکار کرتا رہا ہے۔ 15 اگست کو جبل طارق کی سپریم کورٹ نے اس جہاز کو چھوڑ دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ دوسری طرف امریکی محکمہ انصاف نے اسی روز اس آئل ٹینکر اور اس پر لدے تیل کو ضبط کرنے کے وارنٹ جاری کیے تھے۔