چیلنج اور مسلمان

190

دنیا کے سارے بڑے انسان ایک طرح سوچتے ہیں۔ اقبال نے کہا ہے:
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات کشمکش انقلاب
اقبال کی اس بات کو بیسویں صدی کے سب سے بڑے مغربی مورخ ٹوائن بی نے ایک اور انداز میں کہا ہے۔ ٹوائن بی نے کہا ہے کہ چیلنج کے ساتھ انسان کے تعلق کی دو ہی صورتیں ہیں۔ کچھ لوگ چیلنج کو بوجھ بنالیتے ہیں اور اس کے نیچے دب کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ لوگ چیلنج کو قوت محرکہ یا Motivational Force میں ڈھال لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹوائن بی نے جو نظریہ پیش کیا ہے اسے Challenge And Response Theory کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسان چیلنج کو قوت محرکہ میں ڈھالتا ہے تو پھر زندگی کے کسی نہ کسی گوشے یا پوری زندگی میں انقلاب ضرور برپا ہوتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ چیلنج اور انسان بالخصوص چیلنج اور مسلمان کا بہت گہرا تعلق ہے۔ اتنا کہ چیلنج اور مسلمان کا تصور ایک دوسرے کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی وجہ ہے۔ چیلنج مسلمان کے روحانی، ذہنی، نفسیاتی، جذباتی، اخلاقی، علمی، تہذیبی اور تاریخی ارتقا کی بنیاد اور کسوٹی ہے۔
مسلمانوں کو کئی دشمنوں کے درمیان پیدا کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک دشمن شیطان ہے۔ شیطان کا کام ہی اہل ایمان کو گمراہ کرنا، صراط مستقیم سے ہٹانا اور خدا سے دور کرنا ہے۔ خود انسان کا نفسِ امارہ انسان کا بڑا دشمن ہے۔ ماحول کا جبر بھی مسلمان کا ایک بڑا حریف ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب ماحول پر بُرائی کا غلبہ ہو۔ اس صورتِ حال میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ شیطان، نفس امارہ اور ماحول کے جبر کے چیلنج کو پہچانے اور اسے قوت محرکہ میں تبدیل کرلے۔ اس کے بغیر مسلمان کا نہ داخلی ارتقا ہوسکتا ہے نہ خارجی ارتقا ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال تزکیہ نفس یا نفس کے ارتقا کا تصور ہے۔ سادہ اور آسان الفاظ میں تزکیہ نفس کا مفہوم ہے کہ مسلمان کا نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس لوامہ نفس مطمئنہ میں ڈھل جائے۔ لیکن یہ تزکیہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان نفس امارہ کی شعوری مزاحمت کرے اور اس کی ترغیبات و تحریصات کے آگے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردے۔ یہی چیلنج کو قوتِ محرکہ میں ڈھالنے کا عمل ہے۔ لیکن انسان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ مزاجاً کاہل واقع ہوا ہے۔ وہ محنت سے گھبراتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے جدوجہد نہ کرنی پڑے۔ چناں چہ انسانوں کی بڑی تعداد یا تو چیلنج کو پہچانتی ہی نہیں یا پھر اسے بوجھ بنالیتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کی اکثریت اراتقا سے محروم رہ جاتی ہے۔ انسان کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ انسان تبدیلی سے خوف کھاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ زندگی بدل کر نہ جانے کیسی ہوجائے گی؟ کیا خبر زندگی بدل کر اس کے قابو ہی میں نہ رہے یا اسے جو کچھ میسر ہے وہ تبدیلی کے بعد اسے فراہم ہی نہ رہے۔ چناں چہ انسان تبدیلی کی ذہنی اور نفسیاتی سطح پر مزاحمت کرتا ہے اور چیلنج سے کنّی کاٹ کر گزر جاتا ہے۔
اس کے برعکس دنیا میں جتنے بڑے کام ہوتے ہیں وہ چیلنج کو پہچاننے، اسے تبدیل کرنے اور اسے قوت محرکہ میں ڈھالنے سے ہوتے ہیں۔ تمام انقلابات کی تاریخ چیلنج کا جواب دینے کی تاریخ ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا کہ فلسفے نے اب تک زندگی کی تعبیر کی ہے مگر انسان کا مسئلہ زندگی کی تعبیر نہیں زندگی کو بدلنا ہے۔ کارل مارکس یہ بات کہہ کر دنیا سے رُخصت ہوگیا اور اس کی زندگی میں سوشلزم کوئی انقلاب برپا نہ کرسکا۔ مگر مارکس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کی فکر کو لینن فراہم ہوگیا۔ لینن نے سوشلزم کی بنیاد پر انقلاب برپا کرنے کے چیلنج کو پہچانا بھی اور اسے قوت محرکہ میں بھی تبدیل کیا۔ چناں چہ دیکھتے ہی دیکھتے روس میں انقلاب برپا ہوگیا۔ مارکس کا خیال تھا کہ سوشلسٹ انقلاب سب سے پہلے برطانیہ میں آئے گا کیوں کہ برطانیہ میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے حالات سب سے زیادہ سازگار ہیں مگر برطانیہ میں کبھی انقلاب نہ آسکا۔ اس لیے کہ برطانیہ میں سوشلسٹ انقلاب کے چیلنج کو سمجھنے اور اسے قوت محرکہ میں ڈھالنے والا فرد اور جماعت موجود نہ تھی۔
چینی قوم کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ وہ کبھی انقلاب کا حصہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چین کی تاریخ شہنشاہیت کی تاریخ تھی۔ چینی قوم افیون کھانے کی لت میں مبتلا تھی۔ مگر مائو نے سوشلسٹ انقلاب کے چیلنج کو پہچانا اور اسے قوت محرکہ میں ڈھال کر دکھایا۔ چناں چہ چین میں انقلاب برپا ہوگیا۔
مسلمانوں کی تو پوری تاریخ ہی چیلنج کو پہچاننے اور اسے قوت محرکہ میں ڈھالنے کی تاریخ ہے۔ بلاشبہ 1857ء کی جنگ آزادی ناکام ہوگئی مگر اس جنگ آزادی کا لڑا جانا اس بات کی علامت تھا کہ مسلمانوں کا اجتماعی شعور چیلنج کو پہچان بھی رہا ہے اور اسے قوت محرکہ میں ڈھالنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔ چیلنج کو پہچاننے یا اس سے صحیح نتیجہ نہ نکالنے کا نتیجہ سرسید کی پیدائش اور ان کے ذریعے پوری مذہبی، تہذیبی، علمی اور تاریخی روایت کے انہدام کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
چیلنج اور اس کو قوت محرکہ میں ڈھالنے سے صرف اجتماعی زندگی ہی میں انقلاب برپا نہیں ہوتا انفرادی زندگی بھی اس سے تاریخ ساز بنتی ہے۔ اقبال کا زمانہ مغربی فکر سے مفاہمت اور اس کی پوجا کا زمانہ تھا۔ اقبال کے زمانے میں یہ خیال عام تھا کہ اسلام بساط عالم پر اپنا تاریخی کردار ادا کرچکا اور اب اس کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مگر اقبال نے اپنے دل کی آواز سنی اور اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھا۔ چناں چہ وہ چیلنج کو سمجھنے اور اسے قوت محرکہ میں ڈھالنے کے قابل ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں اقبال کی فکر مزاحمتی فکر بن کر اُبھری اور اقبال نے اس خیال کو اعلیٰ ترین آرٹ بنا کر دکھا دیا کہ اسلام جتنا قدیم ہے اتنا ہی جدید ہے۔ اسلام ہزار سال پہلے دنیا کو جتنا درکار تھا اتنا ہی 20 ویں صدی میں بھی درکار ہے۔ اقبال کی شاعری ایک معجزہ ہے اور یہ معجزہ عصر کے چیلنج کو سمجھے اور اس کو قوت محرکہ میں ڈھالے بغیر تخلیق نہیں ہوسکتی تھی۔ اس سلسلے میں مولانا مودودی کی مثال بھی ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے۔ مولانا کے بقول وہ عہد جوانی میں ایک روز دہلی کی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے گئے تو مولانا محمد علی جوہر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مسلمانوں کے تصورِ جہاد پر انگریز اور ہندو دونوں حملہ آور ہیں۔ کیا مسلمانوں میں ایسا کوئی نہیں جو مسلمانوں کے تصور جہاد پر ایک کتاب لکھ کر اسلام دشمنوں کی زبان بند کردے۔ مولانا محمد علی جوہر مولانا مودودی سے مخاطب نہیں تھے۔ وہ تمام نمازیوں سے ہمکلام تھے۔ مگر مولانا نے ان کی بات کو ایک انفرادی چیلنج میں ڈھالا اور اس چیلنج کو قوت محرکہ بنایا۔ اس کا نتیجہ الجہاد فی الاسلام کی صورت میں نمودار ہوا جو آج بھی جہاد پر لکھی جانے والی ایک بہترین کتاب ہے۔ لیکن مولانا کے لیے صرف جہاد پر کتاب لکھنے کا چیلنج اصل چیلنج نہیں تھا۔ ان کے لیے اصل چیلنج یہ تھا کہ اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات ثابت کرنے کے ساتھ غلبہ دین کی جدوجہد کو پوری قوت سے برپا کیا جائے۔ مولانا کے زمانے میں علما کی کوئی کمی نہ تھی مگر ان کے لیے اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات ثابت کرنا سرے سے کوئی چیلنج ہی نہ تھا۔ وہ ماحول کے جبر کو قبول کیے ہوئے تھے اور ان میں عہد جدید کے فرعونوں اور باطل نظاموں کی مزاحمت کی کوئی خواہش موجود نہ تھی۔
قائد اعظم کے سوانح نگار اسٹینلے والپرٹ نے لکھا ہے کہ تاریخ میں ایسے بہت کم لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رُخ بدلا ہے۔ اس سے بھی کم لوگ وہ ہوئے ہیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدلا ہے اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جس نے ایک قومی ریاست کو وجود بخشا ہو۔ محمد علی جناح نے بیک وقت یہ تینوں کام کیے۔ قائد اعظم کی اس عظمت کا اصل سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عصر کے چیلنج کو سمجھ کر اسے قوتِ محرکہ میں ڈھال دیا۔ اس کے بغیر پاکستان کی تخلیق ممکن نہیں تھی۔ چیلنج کبھی کبھی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ قوموں اور ریاستوں کی بقا کا سوال سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ ایسے منظرنامے میں اقبال کا مشورہ یہ ہے۔
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی
اقبال کو پڑھنے والے کسی شخص نے یہ سوچا بھی نہیں ہوگا کہ تاریخ میں اقبال کا یہ شعر کبھی حقیقت بن کر اُبھرے گا مگر نائن الیون کے بعد امریکا نے ملا عمر سے اسامہ بن لادن کا مطالبہ کیا تو ملاعمر نے کہا اگر اسامہ کے خلاف کوئی ٹھوس شہادت موجود ہے تو ہمیں دی جائے ہم اسامہ کو امریکا کے حوالے کردیں گے۔ بصورتِ دیگر اسامہ ہمارا مہمان ہے اور ہماری روایات اپنے مہمانوں کو دشمن کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ ملا عمر کو پاکستان کے بڑے بڑے علما نے سمجھایا ریاست کو اسامہ بن لادن کے لیے دائو پر لگانا حماقت ہے مگر ملا عمر نے وہی کیا جو اقبال نے کہا تھا۔ انہوں نے احکام حق کی حفاظت کی اور ریاست کو دائو پر لگادیا۔ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ طالبان وقت کی واحد سپر پاور امریکا کو بدترین شکست سے دوچار کردیں گے۔ لیکن جو احکام حق کی پاسداری کرتے ہیں اور چیلنج کو قوت محرکہ میں ڈھالتے ہیں خدا ان کی مدد کرتا ہے۔
پاکستان کے پڑوس میں بھارت جیسی کم ظرف ریاست کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک چیلنج تھی۔ پاکستان کے فوجی اور سول حکمران اس چیلنج کو پہچانتے اور قوت محرکہ میں ڈھالتے تو 1971ء میں بھارت ٹوٹتا پاکستان دو ٹکڑے نہ ہوتا۔ مگر پاکستان کے حکمران اس خام خیالی کا شکار ہوگئے کہ بھارت کو ’’دوست‘‘ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت 1971ء میں آدھا پاکستان کھا گیا اور باقی ماندہ پاکستان کو کھا جانے پر تُلا ہوا ہے۔ بہت کم لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ چیلنج جتنا بڑا ہوتا ہے قوت محرکہ بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے اور قوت محرکہ جتنی بڑی ہوتی ہے فرد یا قوم کارنامہ بھی اتنا ہی بڑا انجام دیتی ہے۔ افسوس کہ پاکستان کے کسی حکمران کی فرد عمل میں کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے چیلنج کو سر کا بوجھ بنایا قوت محرکہ نہیں۔