جنوبی ایشیا کا نیا گیم پلان

170

مودی نے جو وعدے کیے تھے، ان کو دیکھیں اور آج کے بھارت کو دیکھیں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ کسی بھی ملک میں معیشت کے استحکام کو دیکھنے کا ایک پیمانہ اس ملک کی فضائی صنعت بھی ہے۔ کمزور معیشت کا پہلا نشانہ شہری ہوا بازی ہی بنتی ہے۔ مودی کی احمقانہ معاشی پالیسی نے بھارت کی ابھرتی ہوئی فضائی صنعت کو زمین بوس کردیا ہے۔ ائر انڈیا پر اس وقت 7600 کروڑ بھارتی روپے کا قرض چڑھ چکا ہے۔ جنوبی بھارت میں نجی شعبے میں قائم جیٹ ائرویز نے اپنا آپریشن بند کردیا ہے جس کے نتیجے میںجیٹ ائرویز اور اسے سہولتیں فراہم کرنے والے دیگر اداروں میں ہزاروں افراد کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ نجی شعبے میں قائم ایک اور فضائی کمپنی کنگ فشر نے بھی اپنا فضائی آپریشن بند کردیا ہے جس کی وجہ سے اسے قرض دینے والے بینکوں کو شدید خسارے کا سامنا ہے۔ بینکوں پر پڑنے والے یہ اثرات دیگر شعبوں کو بھی متاثر کریں گے۔
ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی بھارت کی سرکاری شعبے میں قائم بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (BSNL) بھی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ یہ کمپنی 2015 تک 10 ارب روپے کے منافع میں تھی مگر اب اس پر 13 ارب بھارتی روپے کا قرض چڑھ چکا ہے۔ مشکلات کا شکار BSNL نے بھارتی حکومت سے فوری طور پر 25 ارب روپے کی امداد کی درخواست کی ہے۔ اس سے یہ کمپنی محض آئندہ چار ماہ تک اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرسکے گی تاکہ اس وقت تک کمپنی کے مستقبل کا فیصلہ ہوجائے۔ اس کمپنی کے بند ہونے سے جس کا اصولی طور پر فیصلہ کیا جاچکا ہے، ایک لاکھ 76 ہزار افراد کو بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک اور سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کو بھی تقریباً ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس میں 30ہزار کے قریب افراد ملازم ہیں۔ خراب کاروباری صورتحال کی بناء پر یہ تقریباً دیوالیہ ہوچکی ہے۔ سنبھالا لینے کی آخری کوشش کے طور پر کمپنی نے اپنے حصص بھاری مالی رعایت پر ملازمین کو فروخت کرنے کی کوشش کی تھی جس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی نے 6,687,772 حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے مگر اس کا صرف پانچواں حصہ ہی فروخت ہوسکا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب اس کے ملازمین ہی کو اس کمپنی کے چلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ بھارتی صنعت کی ایک کامیاب کہانی وڈیوکون انڈسٹریز تھی۔ یہ کمپنی 2014 تک ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی کہ مودی برسراقتدار آگئے۔ 2014 میں وڈیوکون کا منافع 800 کروڑ بھارتی روپے تھا جو 2016 میں 1,367کروڑ بھارتی روپے کے نقصان میں تبدیل ہوچکا تھا۔ وڈیو کون پر بھارتی بینکوں کا 90 ارب روپوں کا قرض واجب الادا ہے اور اب وڈیو کون نے بینکوں کو باقاعدہ مطلع کردیا ہے کہ وہ قرض ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اور اب وہ عدالت سے دیوالیہ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ بینکوں کی اتنی بھاری رقم ڈوبنے کا بینکوں پر اور دیگر شعبہ جات پر اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے کسی بہت بڑے ماہر کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت میں مودی کے آنے کے بعد تباہی کی اسی داستان کا ایک اور باب Tata DoCoMo بھی ہے۔ اس کمپنی پر بھی بینکوں کے اربوں روپے کے قرضے ہیں۔
کیفے کافی ڈے کا شمار بھارت کی بڑی فوڈ چین میں ہوتا تھا جس کے بھارت بھر میں 1,722 آؤٹ لیٹ تھے اور یہ 1.8 ارب کپ کافی یومیہ اپنے صارفین کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔ اس کے بیس ہزار کے قریب ملازمین اب اپنے مستقبل سے مایوس ہیں کیوں کہ اس کے بانی نے ایک ماہ پہلے خودکشی کرلی۔ کیفے کافی ڈے کے مالک پر قرض بڑھتا جارہا تھا اور بھارت کے بگڑتے ہوئے معاشی حالات میں اسے اس قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔
بھارت کی کارسازی کی صنعت بھی اب ایسے ہی حالات کا شکار ہے۔ اب تک کارسازی کی صنعت سے وابستہ 4 لاکھ 65 ہزار افراد کو خراب معاشی حالات کی بناء پر اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ ماروتی موٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کو نصف کررہا ہے کہ اس کی کاروں کی خریداری گھٹ گئی ہے۔ ماروتی کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیلروں کے پاس اس کی 55 ہزار کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں خریداروں کے انتظار میں کھڑی ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ میں ہی کاروں کی فروخت میں گزشتہ سال کی نسبت 31 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ سب کچھ کسی آسمانی آفت کی وجہ سے نہیں ہوا ہے بلکہ مودی کی ماہرانہ معاشی پالیسیوں کا کیا دھرا ہے۔ ملک کا خزانہ بھرنے کے نام پر مودی نے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 18 فی صد سے بڑھا کر 28 فی صد کردی جس نے ہر قسم کی معاشی سرگرمی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ تمام بڑے بڑے کاروباری ادارے جنہوں نے سیکڑوں ارب روپے بینکوں سے قرض لیا ہوا تھا، لاگت میں بے اندازہ اضافے اور سود کی شرح میں مصنوعی اضافے کے باعث دیوالیہ ہونے لگے اور اب پورے بھارت میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے۔ بھارت میں گزشتہ 45 برسوں میں اس وقت بے روزگاری بلند ترین سطح پر ہے۔
تعمیراتی صنعت کو تمام صنعتوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ جب ایک بڑی بلڈنگ تعمیر ہوتی ہے تو اس سے براہ راست مزدوروں، راج میسن، رنگسازوں، پلمبر اور الیکٹریشین کو تو روزگار میسر ہوتا ہی ہے مگر یہ اسٹیل، سیمنٹ، رنگ، سینیٹری کے سامان، فرنیچر، ٹائلز وغیرہ وغیرہ کی صنعت سے وابستہ لاکھوں دیگرافراد کو بھی روزگار کی فراہمی کا باعث ہوتی ہے۔ مودی کے آتے ہی شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر تعمیرات کی صنعت پر بھی بھرپور وار کیا گیا۔ 28 فی صد سیلز ٹیکس کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات کے نتیجے میں بھارت بھر میں تعمیرات کا کام رک گیا۔ ایک تخمینے کے مطابق صرف تعمیراتی صنعت ہی کے زوال کی وجہ سے بھارت کو اس برس مجموعی قومی پیداوار میں 13 فی صد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کی مجموعی قومی پیداوار 2.61 ٹریلین ڈالر ہے۔ اس کے مطابق 2019 میں بھارت کو 500 ارب ڈالر کے بھاری نقصان کا سامنا ہوگا۔ بھارت میں کارپوریشنوں اور کاروباری اداروں کا سرکاری اور غیر سرکاری بینکوں سے حاصل کیے گئے قرض کی مالیت 391 ارب ڈالر ہے۔ کارپوریشنوں کے دیوالیہ ہونے کی رفتار اوپر پیش کیے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر نصف کارپوریشنیں بھی قرض ادا نہ کرسکیں تو بھارت کی معیشت آئندہ برس 2020 میں کہاں پر کھڑی ہوگی۔
یہ تو بھارت کا قصہ ہے جہاں پر مودی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لانچ کیا گیا اور اس نے بھارت کے ساتھ وہی کچھ کیا جو لانچ کرنے والوں کی منشاء تھی۔ پاکستان میں مودی کے ہم عصر عمران نیازی نے کیا کچھ کیا۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔