روداد سفر اور جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ۱۹۵۷ء(باب دہم)

85

حسب روایت ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے موجد چیف جسٹس محمد منیر نے اس فوجی انقلاب کے بارے میں ۲۷ ؍ اکتوبر ہی کو ایک فیصلے میں جنرل محمد ایوب خاں کے مارشل لا اور اس کے تحت جاری کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے یہ منطق پیش کی:
’’کامیابی سے حکومت کا تختہ الٹ دینا دستور تبدیل کرنے کا مسلمہ بین الاقوامی طریقہ ہے۔ اس کے بعد انقلاب قانون کا ماخذ بن جاتا ہے اور عدالتیں اس کی معینہ حدود کے اندر کام کرسکتی ہیں۔ اس لیے ان تمام حقوق کے بارے میں‘ جو منسوخ شدہ دستور پاکستان کے تحت لوگوں کو حاصل تھے‘ کوئی رٹ درخواست دائر نہیں ہوسکتی‘‘۔
جنرل محمد ایوب خاں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے اور سیاست دانوں کو سیاست کے لیے نااہل قرار دینے کے لیے ۲۵؍مارچ ۱۹۵۹ء کو ایک قانون نافذ کیا جسے ایبڈو EBDO کا نام دیا گیا۔ اس کا اطلاق تمام سیاست دانوں پر کیا گیا۔ خصوصی ٹریبونل بنائے گئے‘ جن میں سیاست دانوں پر مقدمے چلائے گئے اور کئی سیاست دانوں کو ۶ سے ۱۰ سال تک سیاست میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ۱۹؍ اپریل کو حکومت نے پروگریسو پیپرز پر زبردستی قبضہ کرلیا اور پاکستان ٹائمز اور امروز اخبارات اور ہفتہ وار رسالہ لیل و نہار حکومت کے زیر انتظام شائع ہونا شروع ہو گئے۔
مئی ۱۹۵۹ء میں ملک میں ’’بنیادی جمہوری ادارے‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا‘ جن کے ذریعے یونین کونسلوں کے انتخابات عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا اور ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۵۹ء کو بنیادی جمہوریتوں کے قیام کا حکم جاری کردیا گیا۔ اسی دن صدارتی کابینہ نے صدر جنرل محمد ایوب خان کو ’’فیلڈ مارشل‘‘ کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا۔ (یاد رہے کہ فیلڈ مارشل کا اعزاز صرف کسی بہت بڑے جنگی کارنامے پر ہی دیا جا تاہے)۔
دارالحکومت کی تبدیلی
۱۲؍جولائی ۱۹۵۹ء کو ایوب خان نے دارالحکومت کراچی سے تبدیل کرکے پوٹھوہار کے پہاڑی علاقے میں راولپنڈی کے شمال مشرق میں اس سے متصل ایک نیا شہر تعمیر کرکے وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا‘ اور سرکاری دفاتر اور عمارات کی تعمیرات شروع ہوگئیں۔ اس وقت تک وہ عارضی طور پر راولپنڈی میں کیمپ آفس بناکر وہاں منتقل ہوگئے۔ یہ جگہ ان کے گاؤں ریحانہ کے قریب تھا‘ جو ضلع ہزارہ میں واقع تھا۔ ۲۴؍ فروری ۱۹۶۰ء کو شکر پُڑیاں کے مقام پر کابینہ کے ایک اجلاس میں نئے دارالحکومت کا نام اسلام آباد رکھنے کا اعلان کیا گیا۔
دارالحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے فیصلے کی مشرقی پاکستان کے رہنماؤں اور بنگالی عوام نے بھرپور مخالفت کی کیوںکہ اس سے ان کے معاشی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوگیا۔ دراصل مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لیے دارالحکومت کراچی آنے کا سستا ذریعہ سمندری سفر تھا‘ اب انہیں پہلے کراچی بندرگاہ پہنچ کر پھر مزید دو روز تک ریل گاڑی میں دھکے کھا کر راولپنڈی پہنچنا ہوتاتھا۔ اور دوسرا یہ نیا دارالحکومت عملاً فوجی جنرل ہیڈ کوارٹر ہی کا ایک ضمیمہ تھا۔ بہر حال مشرقی پاکستان اور نئے وفاقی دارالحکومت میں رابطہ مشکل ہوگیا‘ کراچی سے دارالحکومت کی منتقلی بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ایک سبب بنا۔
دورہ ارض قرآن
۳؍ نومبر۱۹۵۹ء کو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قرآن پاک کی تفسیر تفہیم القرآن کے سلسلے میں ان آثار اور تاریخی مقامات کو دیکھنے کے لیے سفر اختیار کیا‘ جن کا ذکر قرآن مجید اور سیرت پاک کی کتب میں آیا ہے۔ تین ماہ پر محیط یہ دورہ حرمین شریفین کے علاوہ نجد‘ حجاز‘ شرق اردن‘ شام‘ مصر اور فلسطین کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے تھا۔
۳؍ نومبر کومولانا مودودیؒ‘ محمد عاصم الحداد کے ہمراہ کراچی سے بحری جہاز پر روانہ ہوئے اور گوادر‘ مسقط‘ دبئی اور قطر کی بندرگاہ ام سعید سے ہوتے ہوئے بحرین پہنچے۔ سعودی عرب میں الخبر کے مقام پر چودھری غلام محمد بھی ان سے آ ملے۔ پھر بقیق‘ظہران اور دمام کے بعد ریاض گئے۔ ریاض کے بعد وادی حنیفہ اور وہ مقام دیکھا جہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں حضرت خالد بن ولیدؓ اور نبوت کے جھوٹے دعوے دارمسیلمہ کذاب کے درمیان خوںریز جنگ ہوئی تھی۔ اس جنگ میں جو صحابہ شہید ہوئے ان کی قبریں اب بھی وہاں موجود تھیں۔ پھر جدہ گئے‘ احرام باندھا اور حدیبیہ (جہاں مسلمانوں اورقریش مکّہ کے مابین صلح کا معاہدہ ہوا تھا) کا مقام دیکھتے ہوئے مکہ معظمہ پہنچے۔۱۹۵۶ء میں حج کی سعادت کے بعد دوسری مرتبہ مولانا مودودی کو حرم پاک آنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ عمرے کی ادائیگی کے بعد دوسرے دن دارالارقم دیکھا (اس گھر میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کا ذکر ملتا ہے) جبل ابوقیس دیکھا‘ وادی محسّر گئے۔ پھر منیٰ سے ہوتے ہوئے جبل نور پہنچے (وہ پہاڑ جس میں غار ثور واقع ہے) طائف گئے‘ مدینہ منورہ کے راستے میں بدر کا مقام دیکھا اور وہ احاطہ بھی‘ جہاں ۱۳ شہدائے بدر مدفون ہیں۔
(جاری ہے)