لیاقت بلوچ سے برطانوی اور کینیڈین ماہرین معیشت کی ملاقات

75

لاہور (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے مدینہ منور ہ میں برطانیہ اور کینیڈا کے پاکستانی نژاد ماہرین معیشت نے ملاقات کی۔ ماہرین معیشت نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن سے بے پناہ محبت ہے۔ پاکستان کا اندرونی عدم استحکام بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ قومی سلامتی کے لیے سیاسی اور اقتصادی استحکام کے جو تقاضے ہیں حکومت ان پر پورا نہیں اتر رہی۔ عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد بڑی توقعات تھیں لیکن حکومت نے ابتدا میں ہی اقتصادیات کی حکمت عملی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ٹیم کے حوالے کر دی۔ پاکستان اپنا معاشی مقدمہ بہت ہی کمزوری سے لڑ رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے آنے والی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے اندر بڑا پوٹینشل ہے۔ خود انحصاری کے لیے تمام مواقع اور عوامل موجود ہیںلیکن مسلسل قرضوں اور امداد کی وجہ سے پاکستان کا اقتصادی اسٹرکچر دبائو میں آگیا ہے۔ عوام کے لیے یہ امر حیران کن ہے کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر بھی ہیں لیکن پاکستان کے خلاف خوفناک اقدامات کے سد باب میں حکومت ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قومی سیاسی محاذ پر عوامی اعتماد کی بحالی اور اندرون و بیرون ملک محب وطن ،اہل اور معیاری افرادی قوت کو منظم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم عالمی برادری کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کچھ بھی کرلے بہادر کشمیری بھارت سے آزادی لے کر رہیں گے اور بھارت کو عبرت کا نشان بن کر کشمیر سے نکلنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت بدترین زوال سے دوچار ہے۔ بیرون ملک پاکستانی کشمیریوں کے سفیر اور ترجمان بن جائیں اور پاکستانی سفارتخانوں کو متحرک ہونے پر مجبور کردیں ۔