جنوبی ایشا کا نیا گیم پلان

189

جنوبی ایشیا میں کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس کے پس پشت اصل مقصد کیا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو مودی کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے ہر اس ذہن میں اٹھ رہا ہے جو معاملات کو بوجھنے کی ذرا سی بھی خواہش رکھتا ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے قبل اس خطے میں تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں کا ایک مختصر سا جائزہ۔ ان تبدیلیوں کو ہم اچانک رونما ہونے والی تبدیلیاں تو نہیں کہہ سکتے کہ ان پر کم از کم گزشتہ نصف عشرے سے کام جاری تھا مگر ان کے نتائج اب آنا شروع ہوئے ہیں۔
اس وقت بھارت میں نریندر مودی اور پاکستان میں عمران نیازی برسرا قتدار ہیں۔ دیکھنے میں بھارت اور پاکستان دو ایسے ملک ہیں جن میں وہی فرق ہے جو سفید اور سیاہ رنگوں میں ہے مگر ذرا سا گہرائی میں جاکر جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ نریندر مودی اور عمران نیازی میں بہت ساری چیزیں مشترک ہیں بلکہ بعض اوقات تو مودی اور عمران نیازی ایک دوسرے کا عکس معلوم ہونے لگتے ہیں۔ 2014 میں ہونے والے بھارتی عام انتخابات میں مودی نے بھارتی جنتا سے جو وعدے کیے تھے، اگر عمران خان کے برسراقتدار آنے کے لیے کیے گئے وعدوں کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ دونوں کو اسکرپٹ دینے والا ایک ہی شخص ہے۔ مودی کی انتخابی مہم کا اہم ترین نکتہ کرپشن تھا۔ مودی نے کہا کہ بھارت کو کرپٹ سیاستدانوں اور بزنس مینوں نے لوٹ لیا ہے۔ وہ برسراقتدار آکر یہ کالا دھن ان کے حلق سے نکلوائیں گے اور اسے بھارت کی خوشحالی پر خرچ کریں گے۔ اس کے لیے انہوں نے نومبر 2016 میں اعلان کیا کہ 5 سو اور ایک ہزار کے نوٹ فوری طور پر منسوخ کردیے گئے ہیں۔ ان کرنسی نوٹوں کو بینکوں اور ڈاکخانوں سے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دے کر 30 دسمبر 2016 تک تبدیل کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 2 ہزار کے نئے بھارتی نوٹ کے اجراء کا بھی اعلان کیا۔ اس عرصے کے دوران بینکوں اور اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر حدمقرر کردی گئی۔ کوئی شخص اپنے بینک اکاؤنٹ سے ایک روز میں 10 ہزار روپے سے زاید رقم نہیں نکال سکتا تھا۔ پورے ہفتے کے لیے یہ حد 20 ہزار روپے تھی۔ مودی کا خیال تھا کہ اس سے ان کرپٹ بھارتیوں پر زد پڑے گی جنہوں نے کالا دھن اپنے گھروں میں کرنسی نوٹوں کی شکل میں چھپایا ہوا ہے اور اس طرح سے بھارت میں گھروں میں چھپی ہوئی بے اندازہ دولت باہر لانے میں مدد ملے گی۔
مودی کی یہ ترکیب بیک فائر کرگئی۔ جنہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی تھی، وہ پہلے سے اس اسکیم سے باخبر تھے اور انہوں نے اپنی رقم ملک سے باہر منتقل کردی۔ اس سے وہ متوسط کاروباری طبقہ مارا گیا جس نے ٹیکس میں کم آمدنی ظاہر کی تھی اور قم کو سرکار کی نگاہ سے بچانے کے لیے بینک کے بجائے گھر میں رکھا تھا۔ بینکوں کے باہر ان لوگوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جنہوں نے اپنی بچت گھر میں رکھی تھی۔ یہ قطاریں اتنی طویل اور مشقت آزما تھیں کہ قطار میں لگے افراد کے مرنے کی خبریں آنے لگیں۔ اس پورے کھیل سے بھارت کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا البتہ بھارت کے مرکزی بینک کے وارے نیارے ہوگئے۔ اربوں روپے کے وہ بھارتی کرنسی نوٹ آن کی آن میں کاغذ کے ٹکڑوں میں تبدیل ہوگئے جو لوگ کسی خوف کی وجہ سے تبدیل نہ کرواسکے۔ اسی طرح بھارت کا متوسط اور کم آمدنی والا طبقہ اچانک اپنی زندگی بھر کی بچت سے محروم ہوگیا۔ اس کے بھارت کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے اور راتوں رات کھربوں روپے بھارت کی معیشت سے نکل گیا جس کے مضر اثرات سے ابھی تک بھارتی معیشت باہر نہیں نکل سکی ہے۔ ایک طرف مودی گھروںمیں کالا دھن ذخیرہ کرنے والوں کو ٹانگنے کی باتیں کررہے تھے تو دوسری ہی سانس میں انہوں نے 2ہزار کے نئے نوٹ کو جاری کرنے کا اعلان کیا تاکہ کالا دھن رکھنے والوں کو رقم محفوظ کرنے میں آسانی کے لیے مزید بڑا نوٹ دستیاب ہوسکے۔
اسی طرح کرپشن کرنے والوں کے خلاف مودی نے منہ کی توپیں تو خوب چلائیں مگر بھارتی بینکوں سے سیکڑوں ارب روپے معاف کروانے والی کارپوریشنوں کے کھرب پتی مالکان کے خلاف عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ بالکل اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو تو کنٹرول کرنے کے لیے کرپشن مخالف ڈنڈا خوب چلا مگر جو بی جے پی کی چھتری میں آگیا اور جس نے مودی کی مخالفت ترک کردی، وہ اس ڈنڈے سے محفوظ ہوگیا۔ مودی کی کرپشن کے خلاف مہم کتنی کامیاب رہی، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کرپشن سے پاک ممالک میں بھارت کا نمبر 76 واں ہے۔
عوام کے بنیادی مسائل کو بھی مودی نے خوب سمجھا اور کروڑوں نوکریوں اور کروڑوں پکے گھروں کے وعدے بھی کیے۔ بھارت کو معاشی طور پر مستحکم کرنے، ریل کے نظام کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے، آئی ٹی کو ہندی زبان میں لانے، منڈیوں تک کسانوں کی براہ راست پہنچ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، زراعت سے متعلق صنعت کی ترقی، گاؤں گاؤں سہولتوں کی فراہمی جیسے وعدے مودی نے خوب دل کھول کر کیے۔ جس وقت مودی یہ سارے وعدے انتہائی فراخدلی سے کررہے تھے، اُس وقت بھی مودی سے کسی نے دریافت نہیں کیا کہ یہ سب کچھ ممکن کیسے ہوگا۔
مودی کے مزید وعدے کچھ اس طرح کے تھے۔ اشیاء صرف کی بڑھتی قیمتوں کو منجمد کرکے مہنگائی سے عوام کو تحفظ دیا جائے گا۔ اس کے لیے ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ روزگار کے نے مواقع پیدا کرنے کے لیے پیداواری شعبوں کو بڑھاوا دیا جائے گا۔ سیاحت کو اس سطح پر لے جائیں گے کہ ملک میں ڈالر کی ریل پیل ہوجائے۔ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے ادارے کو کیریئر سنیٹروں میں تبدیل کردیا جائے گا۔ بچوں، بوڑھوں معذور افراد کے لیے سوشل سیکورٹی کا نیا نظام متعارف کروایا جائے گا۔ خواتین کی حفاظت کے لیے خصوصی قوانین بنائے جائیں گے۔ ملازمتوں میں اور اسمبلی میں خواتین کے لیے خصوصی کوٹا نافذ کیا جائے گا۔ متوسط طبقہ کو تحفظ دیا جائے گا اور خوشحالی کے ذریعے نادار طبقے کو اٹھا کر متوسط طبقے میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیم اور صحت کی خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ یہ اور اس طرح کے درجنوں سنہرے خواب تھے جو مودی نے بھارتی عوام کو خوب دکھائے تھے۔
مودی 2014 میں برسراقتدار آگئے اور انہوں نے اپنے دور اقتدار کے پانچ سال مکمل بھی کرلیے مگر اس میں بھارت کا وہ حال ہوا کہ اب بھارت کو ڈوبتی معیشت والے ممالک میں پہلا درجہ دیا جارہا ہے۔ موجودہ بھارت کی کیا صورتحال ہے اور اس کا جنوبی ایشیا میں کھیلے جانے والے کھیل سے کیا تعلق ہے۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔