روداد سفر اور جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ۱۹۵۷ء(باب دہم)

73

۹؍اکتوبر کو جنرل محمد موسیٰ خاں کو ڈپٹی کمانڈر انچیف بنادیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان کو وفاقی علاقے سمیت پورے مغربی پاکستان کا اور میجر جنرل امراؤ خان کو مشرقی پاکستان کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ وزارت بحالیات کے سیکرٹری مسٹر عزیز احمد کو پاکستان کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد مارشل لا قوانین کے نفاذ کا اعلان کیاگیا‘ جس کے تحت فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے خاص اور سرسری سماعت کی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔ تمام اخبارات وجرائد پر سنسر لگادیا گیا۔ تمام سیاسی سرگرمیاں منسوخ کردی گئیں۔ فوجی ضابطوں کے نفاذ کے بعد سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۵۸ء کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے جماعت اسلامی کے تمام دفاتر سربمہر کردیے اور جماعت کی تمام املاک اور اثاثوں حتیٰ کہ میت گاڑیاں اور ایمبولینس تک ضبط کرلیں۔
زمانہ تعطل: مارشل لا کے نفاذ کے بعد ۲۴ مہینے ایسے گزرے جن میں جماعت اسلامی کالعدم رہی اس لیے ۸؍اکتوبر ۱۹۵۸ء سے لے کر ۱۶؍جولائی تک کا زمانہ جماعت کی تاریخ سے خارج ہے اور اس میں کوئی جماعتی کام نہ ہوا۔ اس دوران ایوب خان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے کئی اقدامات کیے جن کا ذکر اگلے صفحات میں موجود ہے۔
۱۵ اور ۷ا؍اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خاں نے اپنے بیانات میں کہا کہ: ’’مارشل لا کو کم سے کم مدت تک قائم رکھا جائے گا اور ضرورت سے زیادہ ایک منٹ بھی برقرار نہیں رکھا جائے گا۔ اس کا مقصد کم سے کم مدت میں ملک کو ابتری سے پاک کرنے کے لیے سول حکام کو مدد دینا ہے‘‘۔
۲۴؍اکتوبر کو صدر اسکندر مرزا نے سول اور فوجی افراد پر مشتمل ۱۲ رکنی کابینہ کا اعلان کیا۔ جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ پاکستان کا وزیراعظم بھی مقرر کردیا گیا۔ کابینہ کے دیگر ارکان میں بیرسٹر منظور قادر‘ لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ‘ ذوالفقار علی بھٹو اور مسٹر محمد شعیب بالترتیب‘ امور خارجہ‘ داخلہ‘ تجارت اور خزانہ کے وزیر مقرر کیے گئے۔
آخر۲۷؍اکتوبر کا یوم آیا‘ جب جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرنے والے صدر اسکندر مرزا سے جبراً استعفا لے کر اقتدار مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس طرح وہ اسکندر مرزا جو برسوں سے اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ کر ملک کے سفید و سیاہ کے مالک بن بیٹھے تھے‘ آپ ہی اپنے جال میں آگئے۔ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۵۹ء کی رات گئے اسکندر مرزا کو سوتے سے اٹھا کر صدارت سے سبک دوشی کے کا غذات پر دستخط لیے گئے۔
خود آپ اپنے دام میں
صدر اسکندر مرزا کی ایرانی نزاد اہلیہ ناہید ان کی دوسری بیوی تھیں۔ اس سے پہلے وہ ایک ایرانی سفارت کار کی بیوی تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے اس فیصلے پر انتہائی ناخوش تھیں کہ ’’جنرل ایوب خاں کو سپریم کمانڈر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بناکر اپنے ہاتھ پاؤں کٹوادیے۔ ایوب خان کو ڈپٹی مارشل لا کما نڈر اور خود صدر پاکستان کو سپریم کمانڈر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہونا چاہیے تھا۔ ۷؍اکتوبر اور ۲۷؍ اکتوبر کے دوران شب و روز ناہید خانم کے مزاج کی تلخی دیدنی تھی۔ ان نئے حالات میں صدر کی حیثیت ثانوی رہ گئی تھی ناہید خانم کے خدشے پر اسکندر مرزا نے ایوب خاں کے مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران‘ عجلت۔ میں پاکستان ائر فورس ماری پور ائر بیس کے کمانڈر ائر کموڈور عبدالرب کو اپنی اور ملک کی وفاداری کا واسطہ دے کر حکم دیا کہ جنرل محمد ایوب خاں میجر جنرل شیر بہادر اور کراچی کے کمانڈر یحییٰ خاں کو ماری پور کے ہوائی اڈے پر واپس پہنچتے ہی گرفتار کرلیا جائے۔ یہ حکم زبانی تھا اور صرف ٹیلی فون پر دیا گیا تھا۔ جسے کموڈور عبد الرب ٹال گئے اور واپسی پر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور سپریم کمانڈر کو صورت حال سے آگاہ کردیا گیا جس کے نتیجے میں ایوب خاں نے اسکندر مرزا سے نجات حاصل کرنے کے لیے ۲۷؍ اور ۲۸؍اکتوبر کی درمیانی شب کو جنرل اعظم جنرل برکی اور لیفٹیننٹ جنرل خالد محمود شیخ کو اسکندر مرزا کی خواب گاہ بھیج کر گن پوائنٹ پر سبک دوشی کے کاغذات پر دستخط کرالیے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں ’’ایوان صدر میں سولہ سال‘‘ م ب خالد مارچ ۲۰۰۸ احمد پبلی کیشنز لاہور)
جنرل ایوب خاں نے بعد میں اخباری نمائندوں کے سامنے انکشاف کیا کہ: فوجی دستوں کی نقل و حرکت کوئی بیس روز پہلے شروع ہوگئی تھی‘ اور اسی سلسلے میں ایک بریگیڈ فوج وفاقی دارالحکومت کراچی سے ۱۲۰ کلو میٹر کے فاصلے پر پوزیشن بھی لے چکی تھی۔ اس طرح سازشوں کا دور جو ملک غلام محمد کے ہاتھوں شروع ہوا تھا‘ اس وقت اسکندر مرزا ڈیفنس سیکرٹری تھے وہی دور اپنے منطقی انجام کو پہنچتے ہوئے اب ایوب خان کے مارشل لا کا موجب بنا۔ دراصل سازشوں کے مرکزی کردار صدر اسکندر مرزا کو یقین تھا کہ عام انتخابات کے بعد انہیں دوبارہ صدر بننا نصیب نہ ہوگا‘ چنانچہ انتخابات سے پہلے ہی انہوں نے جنرل ایوب خان سے مل کر مارشل لا کا اعلان کردیا۔ جنرل ایوب خاں‘ صدر اسکندر مرزا کی مدد سے اپنی ملازمت کی مدت میں توسیع کراتے آرہے تھے‘ وہ کبھی کے ریٹائرڈ ہوچکے ہوتے‘ انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا کہ وہ خود اقتدار کی ہوس میں موقع کی تلاش میں تھے۔ اب صدر اسکندر مرزا نے انہیں یہ موقع فراہم کردیا۔ اسکندر مرزا نے تو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے یہ اقدام کیا تھا‘ لیکن ان کے اس اقدام سے ان کے اقتدارکا خود خاتمہ ہوگیا‘ اور وہ اپنے لائے ہوئے جال میں خود پھنس گئے۔ اسکندر مرزا نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا کہ جمہوری نظام پٹڑی سے اتر گیا‘ اور فوجی آمروں کے اقتدار کا دروازہ کھل گیا۔
(جاری ہے)