قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

86

انسان جلد باز مخلوق ہے ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاؤ۔ یہ لوگ کہتے ہیں ’’آخر یہ دھمکی پْوری کب ہو گی اگر تم سچے ہو‘‘ ۔کاش اِن کافروں کو اْس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی۔ وہ بلا اچانک آئے گی اور اِنہیں اِس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کر سکیں گے اور نہ اِن کو لمحہ بھر مْہلت ہی مل سکے گی۔ مذاق تم سے پہلے بھی رسْولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اْن کا مذاق اڑانے والے اْسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اے محمدؐ، اِن سے کہو، ’’کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا ہو؟‘‘ مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ (سورۃ الانبیاء: 37تا42)

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک موقع پر آپ نے فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ آگ سے دور کر دیا جائے اور جنت میں داخل ہو جائے اسے موت ایسی حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو اور لوگوں سے اس طرح ملے جیسے وہ خود چاہتا ہے کہ لوگ اس سے ملیں۔ (مسلم)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے اگر تم یہ کر سکو کہ صبح اٹھتے اور شام کو سوتے ہوئے تمہارے دل میں کسی کے بارے میں کدورت نہ ہو تو ضرور ایسی عادت اپنائو پھر فرمایا: اے فرزندِ عزیز یہ میری سنت ہے اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے دراصل مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (سنن ترمذی)