تحریک آزادی کشمیر ابھی یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوگئی،سراج الحق

92

لاہور( نمائندہ خصوصی ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک ابھی نہیں یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔کشمیری پاکستان کی طرف اور پاکستانی حکمران امریکا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔حکومت قوم کو کشمیر پر متحد کرنے کے بجائے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کررہی ہے ۔ مصیبت کے دنوں میں تو جنگل کے جانور بھی آپس میں نہیں لڑتے،ایک طرف ہمارے گھر میں آگ لگی ہے ، ہمارے بچوں کو ذبح کیا اور ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں سے کھیلا جارہا ہے جبکہ حکمران ائر کنڈیشنڈ ہالوں میں بیٹھ کر بیانات جاری کررہے ہیں ۔نہتے مگر ایمان کی قوت سے مالا مال افغانوں نے 3 عالمی طاقتوں کو شکست دی مگر ایٹمی پاکستان کے حکمران مائوں بہنوں بیٹیوں کی چیخ و پکار پر بھی اٹھنے کو تیار نہیں ۔جماعت اسلامی کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 25اگست کو پشاور اور یکم ستمبر کو کراچی میں کشمیر بچائو مارچ کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ بھارت کشمیر یوں کا قتل عام کررہا ہے ۔کرفیو کو اس لیے لمبا کیا جارہا ہے کہ لوگوں کے گھروں سے کھانے پینے کی اشیا ختم ہوجائیں اور لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں۔ حکومت معمول کی سرگرمیاں چھوڑ کر کشمیر کی آزادی پر فوکس کرے اور 19دنوں سے محبوس کشمیریوں کی عملی مدد کے لیے آگے بڑھے ۔حکومت نے ایل او سی پر لگی باڑ کونہ گرایا تو دونوں طرف کے کشمیری خود اس دیوار برلن کو گرادیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر افغان3 عالمی طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں تو ہم بھی بھارت کا غرورتوڑ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور چوکوں اور چوراہوں میں خونی کھیل کھیلا جارہا ہے ،بھارت کی 15لاکھ فوج اور آرایس ایس کے غنڈے بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں مگر کسی ایک اسلامی ملک کے حکمران نے ملی غیرت اور حمیت کا ثبوت نہیں دیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر ی بھارت کے سامنے جھکنے اور مودی کی خدائی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔آزادی کے لیے لازوال قربانیاں دینے والی کشمیر ی قوم عالم اسلام کی طرف دیکھ رہی ہے لیکن بزدل اور کمزور قیادت کشمیر یوں کی کوئی عملی مدد کرنے کو تیار نہیں ۔حکمران جہاد سے منہ موڑ رہے ہیں ۔جہاد اور شہادت کے لفظ کو خطرناک قرار دے کر قرآن و سنت کے احکامات کو نصاب تعلیم سے خارج کیا جارہا ہے ۔مسلمانوں کے اندر سے اسلامی اخوت اور ایمان کی روشنی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکمران ٹرمپ کے اتنے دیوانے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی کی سننے کو تیار نہیں۔