آزمائش اور اس کا نتیجہ

87

صفی الرحمن مبارکپوری

قربانی سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے مشہور واقعے کی یادگار ہے۔ عزیمت کے باب میں ابراہیمؑ ایک مخصوص پیغمبرانہ مقام رکھتے تھے اور قربانی کا واقعہ اسی مقام کا ایک مظہر ہے، مگر یہی تنہا ایک مظہر نہیں ہے، بلکہ ابراہیمؑ کی عملی زندگی مختلف مظاہر عزیمت واستقامت کی جامع رہی ہے، اور اسی جامعیت کی وجہ سے انھیں امامت کا مخصوص مقام عطا کیا گیا تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ترجمہ: ’’اور جب ابراہیم کو اس کے پروردگار نے چند باتوں کے ذریعے سے آزمایا تو اس نے ان کی تکمیل کی، اس پر اس کے پروردگار نے کہا: میں تجھے امام بنانے والا ہوں‘‘۔
آزمائش کی وہ باتیں کیا تھیں، اس میں مفسرین نے یقیناً اختلاف کیا ہے اور کسی مستند ذریعے سے کسی خاص مفسر کی رائے کو ترجیح دینے کی گنجائش بھی نظر نہیں آتی، تاہم ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے کئی واقعات سراپا آزمائش اور ان کی عزیمت واستقامت اور ثبات قدمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انھوں نے اپنی قوم کو پوری مومنانہ اور پیغمبرانہ جرأت کے ساتھ توحید کی دعوت دی، پھر مرکزی بت خانے کے بتوں کو کلہاڑیوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے اندر ڈالا گیا، گو حشر و انجام سے واقف نہ تھے اور بظاہر جل کر رکھ ہو جانے کے سوا کوئی دوسری صورت نہ تھی، مگر استقامت کا حال یہ تھا کہ ذرہ برابر بھی اضطراب سے دوچار نہ ہوئے، پھر قوم و وطن سے دور و مہجور کیے گئے۔ مگر احساس حسرت کے بجائے جذبۂ برأت کے ساتھ گھر بار چھوڑا، پھر بڑھاپے کی آخری منزل میں زندگی بھر کی دعاؤں کے بعد حاصل ہونے والے صاحبزادۂ حلیم کو خود ’’اواہ منیب‘‘ ہونے کے باوجود اپنے ہاتھوں ذبح کرنے کے عمل سے گزرے۔ گو اللہ کے کرم سے صاحبزادے ذبح نہ ہوئے لیکن عمل ذبح کی شدید ترین آزمائش سے تو باپ بیٹے کو گزرنا ہی پڑا، اور یہی مطلوب بھی تھا جان مطلوب نہ تھی۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی یہ وہ آزمائشیں ہیں جو پورے مستند ذرائع سے ثابت اور معلوم و معروف ہیں۔ اب آیت مذکورہ بالا میں کلمات آزمائش سے خواہ ان ہی واقعات کی طرف اشارہ ہو، خواہ کچھ دوسرے واقعات و معاملات کی طرف، بہر حال آیت کا اگلا جزو یہ فائدہ دیتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو امامت کا جو مخصوص پیغمبرانہ مقام دیا گیا تھا وہ آزمائشوں میں ان کی ثبات قدمی کے بعد اور گویا اسی کے ثمرہ و نتیجے کے طور پر دیا گیا تھا۔
پیغمبر دنیا میں آتے ہی اس لیے ہیں تاکہ ان کا کردار آنے والی امتوں کے لیے نمونہ ہو۔ اور وہ اسی طرز پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کی تعمیر کریں، اس لیے نہیں کہ ان کے کردار کو کسی فوق الفطری قوت واستعداد کا نتیجہ سمجھ کر امت اس کی پیروی سے اپنے آپ کو عاجز و ناکارہ سمجھ لے۔ اور اس راہ پر چلنے کی کوشش کے بجائے پہلے ہی ہمت ہار کر بیٹھ جائے۔
ابراہیم علیہ السلام کو جب آزمائشوں میں ثبات قدمی پر امامت کی بشارت سنائی گئی تو انھوں نے اللہ سے عرض کی کہ ومن ذریتی۔ یعنی میری ذریت میں سے بھی کچھ لوگوں کو یہ منصب و مقام عطا فرمایا جائے۔ اس کے جواب میں اللہ نے اپنا فیصلہ صادر فرمایا: لاینال عھد الظالمین۔ میرا عہد ظالموں کو شامل نہیں۔ پس اس عہد کے دائرے میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی استعداد و صلاحیت کو صحیح مقام میں استعمال کریں، اور اس سے وہ کام لیں جو رب العالمین کی رضا کا ہے تاکہ ہم ظالمین کے دائرے میں داخل ہونے کے بجائے عہد مذکور سے سرفراز ہونے والے زمرے کا حصہ بن سکیں۔ اللہ ہمارے لیے اپنی راہ آسان فرمائے۔ آمین