چوری کے ملزم بچے کا قتل ۔تحقیقات کی ضرورت

89

کراچی میں گزشتہ دنوں بہادر آباد کے علاقے میں ایک نو عمر لڑکے کو چوری کے شبہے میں مار مار کر قتل کر دیاگیا ۔ اس کے بارے میں متضاد باتیں سامنے آ رہی ہیں ۔ اہل محلہ کہتے ہیں کہ وہ چوری کے ارادے سے گھر میں کودا تھا گھر والوں نے شور مچایا اور اہل محلہ نے مار مار کر اس کو ادھ موا کر دیا ۔ اس کے بعد اسے رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ۔ گھر والے کہتے ہیں کہ قربانی کے پیسے لینے گیا تھا ۔ یہ اطلاع ملی کہ اسپتال جاتے ہوئے وہ راستے میں چل بسا ۔ اس کے بعد معاملہ اُلٹا ہو گیا جن لوگوں کا دعویٰ تھا کہ یہ لڑکا چوری کے لیے گھر میں آیا تھا اب وہ ملزم ہو گئے ہیںبلکہ میڈیا نے مجرم ہی بنا دیا ہے اور لڑکا مظلوم… سوال یہ ہے کہ لوگ ہجومی تشدد پر کیوں اُتر آئے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ پولیس ، رینجرز ، عدلیہ اور انصاف کے پورے نظام سے عوام کا اعتماد اُٹھ گیا ہے ۔یہی پندرہ یا18 برس کے نو عمر لڑکے گلیوں ، بازاروں میں پستول نکال کر پانچ ہزار کاموبائل نہ دینے پر یا خواتین کو پرس حوالے نہ کرنے پر گولیاں مار کر چلے جاتے ہیں ۔ پولیس نا معلوم افراد لکھ دیتی ہے ،کیس داخل دفتر ہو جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ ایسا ہونے کا سبب یہ ہے کہ چار سو افراد کے قتل کا ملزم رائو انوار وی آئی پی قرار پاتا ہے ۔ 360 افراد کو بلدیہ ٹائون فیکٹری میں زندہ جلانے والے آزاد گھوم رہے ہیں ۔ اربوں روپے کے فراڈ کے ملزم مزے کر رہے ہیں ۔ آئین توڑنے والوں کے خلاف مقدمہ سماعتوں تک محدود ہے ۔ تو پھر انصاف کے مارے لوگ کوئی بھی غلط اقدام کر بیٹھیں گے۔ لڑکے پر تشدد اور اس کی موت کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ بچے کو رینجرز کے حوالے کب کیا گیا اور اس کی موت کس وقت واقع ہوئی۔ اس سے اصل قاتلوں کا پتا چلے گا ۔