عالم اسباب

90

عالم اسباب میں ہر چیز کسی سبب سے وجود میں آتی ہے۔ شیخ رشید کی وزارت تحریک انصاف کے سبب سے ہے اور تحریک انصاف کی حکومت عوامی رائے کے باعث قائم ہوئی ہے مگر شیخ صاحب عوامی رائے کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں۔ عوام کا سیاست سے بدظن ہونے کا سبب شیخ رشید سے بہتر کون جان سکتا ہے مگر شیخ صاحب اس پر توجہ دینے کے بجائے سابق حکمرانوں کے لتّے لیتے رہتے ہیں۔ شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ عوام اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ دونوں بڑی جماعتیں ملکی معیشت کی تباہی کی ذمے دار ہیں، انہوں نے ملک کو اس بے رحمی سے لوٹا ہے کہ حکومت چلانے کے لیے قرض لینے اور مہنگائی کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں، اپنی لوٹ مار کو چھپانے کے لیے احتساب کو سیاسی انتقام کا نام دے رہے ہیں مگر قوم ان کے جھانسے میں نہیں آئے گی یہ جتنا چاہیں شور مچائیں قوم ان کی کسی بات پر دھیان نہیں دے گی یہ لوگ حکومت کو گرانے کی دھمکی دیتے ہیں تو ہنسی روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ شیخ صاحب نے درست کہا ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں اسٹریٹ پاور سے محروم ہوچکی ہیں۔ شیخ رشید سے زیادہ اس حقیقت سے کون واقف ہوگا کہ جب کوئی بڑی سیاسی جماعت احتجاج کے لیے سڑکوں پر آتی ہے تو اس دن سڑکوں پر مزدور نہیں ملتے کیوں کہ انہیں بک کرلیا جاتا ہے۔ شیخ جی یہ نیا پاکستان ہے یہاں پرانی روایت کی گنجائش نہیں ہے، پاکستان میں نیا پن آنے والا ہے، بعض معاملات میں تو نیا پن آبھی چکا ہے۔ ایسے سیاست دانوں کے کہنے سے عوام سڑکوں پر نہیں آئیں گے بلکہ عوام کے کہنے سے سیاست دان سڑکوں پر آئیں گے، کیوں کہ آپ کی حکومت عوام کی حوصلہ افزائی کرنے کے
بجائے انہیں مہنگائی کے سونامی میں غرق کرنے کی خبر سناتی رہتی ہے، آپ کی حکومت مہنگائی کی لعنت سے بچانے کے بجائے پیٹ پر پتھر باندھنے کی تیاری کرنے کا حکم صادر کرتی رہتی ہے اور بدنصیبی یہ ہے کہ حکومت میں ایسا کوئی بندہ نہیں جو وزیراعظم عمران خان کو باور کراسکے کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر زندگی نہیں گزاری جاسکتی یہ ایک عارضی عمل ہے سو، پیٹ سے پتھر ہٹا کر روٹی سے پیٹ بھرنا ضروری ہوتا ہے کہ انسانی بقا کا دارومدار روٹی پر ہوتا ہے، سونامی تو موت کا پیغام ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ارکان اسمبلی آدھی روٹی کھا کر آدھی روٹی عوام کو کیوں نہیں دیتے جب تک عشرت گہہ خسرو کے یہ مکین عوام میں شامل نہیں ہوں گے کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں۔ عمران خان کی حکومت بے نامی جائداد کو نامی جائداد بنانے کے لیے خاصی سرگرم ہے مگر جس جائداد کا کوئی والی وارث ہی نہیں اس پر توجہ دینے پر آمادہ نہیں۔ شاید اس معاملے میں حکومت سے جانے سے پہلے عمل درآمد کا کوئی منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے ٹیکس دینے سے محض اس لیے انکار کردیا ہے کہ وہ جائداد ان کی نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ایسی جائداد اور بینک بیلنس کو ضبط کرنے سے کیوں گریزاں ہے جس کا کوئی مالک ہی نہیں، یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ جس جائداد کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا وہ حکومت وقت کی ملکیت ہوتی ہے، مگر آپ کی حکومت ایسی جائداد کو پارلیمنٹ سمجھ کر اس پر لعنت بھیج رہی ہے کیوں؟۔ شیخ صاحب اچھی حکومت کے لیے اچھے وزیروں اور نیک نام مشیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام سے پیٹ پر پتھر باندھنے اور مخالفین پر الزامات کا پتھرائو کرنے سے حکومت نہیں چلتی بلکہ حکومت چلی جاتی ہے۔ سود لے کر ملک چلانے سے بہتر ہے کہ جو لوگ اپنی جائداد اور بینک بیلنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں اور بحق سرکار ضبط کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اس پر عمل کیا جائے۔