کشمیر کے بجائے دینی مدارس؟؟

224

کشمیر میں بھارتی جارحیت ، سرحدوں کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے خلاف جہاد کے تسلسل کی خاطر پاک فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی اور کئی روز سے حکومت کے وزراء اور ہمنوا یہی بتا رہے ہیں کہ اگر یہ توسیع نہ کی جاتی تو حکومتی پالیسیوں کا تسلسل کس طرح بر قرار رہتا ۔ لیکن آرمی چیف نے توسیع کے بعد پہلا اعلان کیا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی ۔ انہوں نے اتحاد تنظیمات مدارس کے پوزیشن ہولڈر طلبہ سے ملاقات میں بتایا کہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے نتائج مثبت ہوں گے ۔ دینی مدارس کے طلبہ کو ملازمتوں کے مواقع ملیں گے ۔انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ خوشحال اور ترقی کرتے پاکستان کے لیے خدمات جاری رکھیں اور مفید شہری کی حیثیت سے معاشرے کا حصہ بنیں ۔ اب حکومت پاکستان کے وزراء اور ہمنوا کیا کہیں گے ۔کیا آرمی چیف کو مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لیے توسیع دی گئی تھی۔وزیر اعظم پاکستان نے بین الاقوامی حالات اور سرحدوں کی صورتحال کی روشنی میں جنرل باجوہ کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا تسلسل بر قرار رکھنے کے تناظر میں یہ توسیع دی تھی ۔ وزیر اعظم کو چاہیے کہ دینی مدارس کوقومی دھارے میں لانے کے بجائے ملک کی سیاست میں جہاں سے لوگ آتے ہیں ان اداروں کو نہ صرف قومی دھارے میں لائیں بلکہ ان کے نصاب میں بھی با مقصد تبدیلی لائیں تاکہ قوم کو ملنے والی سیاسی قیادت کی اخلاقی تربیت بھی ہو سکے ۔ مدارس کے طلبہ کے بارے میں یہ خیال کہاں سے آیا کہ وہ مفید شہری کی حیثیت سے معاشرے کا حصہ نہیں ہوتے؟ جہاں تک خوشحال اور ترقی کرتے پاکستان کا تعلق ہے تو 22 کروڑ عوام خوشحال اور ترقی کرتے پاکستان کی تلاش میں ہیں جو فواد چودھری، وزیر اعظم عمران خان اور حکومت کے ترجمانوں، مہر بانوں اور ہمنوائوں کے بیانات میں ہی ملتا ہے ۔ دینی مدارس کے طلبہ کے حوالے سے ایک اور غلط فہمی یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ ملازمتوں کی کے لیے علم حاصل کرنے مدارس میں داخلے لیتے ہیں ۔ اگر تنقید کے نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے تو دینی مدارس سے فارغ ہونے والے لوگ یا تو دینی مدارس ہی میں کھپ جاتے ہیں یا مساجد میں امامت اور مؤذن کے منصب پر فائز ہوتے ہیں بے روز گار کوئی نہیں رہتا۔بہت سے طلبہ کاروبار میں چلے جاتے ہیں ۔ کپڑے ، پنکھے ، جائے نمازوں اور لائوڈ اسپیکر کے کاروبارمیں بھی دینی مدارس کے طلبہ ہوتے ہیں ۔ دینی مدارس سے ہر سال لاکھوں طلبہ فارغ ہوتے ہیں ، کچھ مزید آگے بڑھتے ہیں اور کچھ ان ہی شعبوں میں کھپ جاتے ہیں ۔ حکومت اگر دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کو قومی دھارے میں لا کر معاشرے کا مفید شہری بنانے کی خواہش مند ہے تو محکمہ اوقاف ، محکمۂ تعلیم اور تاریخ کے شعبہ جات میں موجود اسامیوں پر ان طلبہ کو ملازمتیں دینے کا اہتمام کرے ۔ اوقاف کے پورے محکمے میں ان پڑھ لوگ بیٹھے ہیں جو چار سطریں لکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور 8 سال تک مدرسے میں دین کا علم حاصل کرنے والے عالم کو یہ ان پڑھ لوگ ہدایات جاری کرتے ہیں ، مساجد کے نظام میں خلل ڈالتے ہیں۔ کیا دینی مدارس کے طلبہ کو انجینئرنگ اداروں اور اسپتالوں میں ملازمت دلوائی جائے گی ۔ ایسا تو نہیں ہو گا ان کے لیے جو شعبے پہلے سے موجود ہیں ان شعبوں کی اصلاح ضروری ہے ۔ اسکولوں میں قابل اساتذہ نہیں ہیں ، اردو اور اسلامیات پڑھانے والے خود قرآن اور اُردو سے نا واقف ہوتے ہیں ۔ دینی مدارس کے طلبہ کو یہاں کھپایا جا سکتا ہے ۔ ہمارے خیال میں قومی دھارے کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی نہیں ۔ آج تک پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے والا کوئی حکمراں ، کوئی بیورو کریٹ یا جرنیل دینی مدارس کا نہیں تھا ۔ حکومت کی نظر میں آصف زرداری اور نواز شریف سب سے بڑے چور ڈاکو اور ملک کا بیڑہ غرق کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں نے کون سے دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی ۔ 72 برس سے کون سے دینی مدرسوں کے لوگ حکمرانی کرتے رہے ، منی لانڈرنگ کس دینی مدرسے کے لوگوں نے کی ۔ جن لوگوں کو موجودہ حکمراں اور سابق حکمراں کرپشن کا ذمے دار قرر دیتے رہے ہیں ان میں سے کوئی دینی مدرسے کا نہیں بلکہ یہ سب نام نہاد قومی دھارے کے لوگ ہیں۔جب قومی دھارا ہی غلط رُخ پر چل رہا ہو تو سارے غلط لوگ ہی سامنے آئیں گے ۔ لوٹ مار کرو اور پلی بار گین کر کے دس فیصد میں سب حلال ۔ یہ شکوہ بھی کیا جانا چاہیے کہ دینی مدارس کی نمائندگی جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ہیں اور سیاست میں ان کے اصول بدلتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے دین اور مولوی کو بدنام کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ دینی مدارس کے اصل پشتیبان کہاں ہیں وہ خود سامنے آئیں ۔ دینی مدارس میں اصلاح بھی علماء ہی کر سکتے ہیں کوئی انجینئر کوئی کرکٹر یا فوجی یہ کام نہیں کر سکتا ۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی دینی مدارس کی سند کو گریجویشن اور ماسٹرز کے مساوی قرار دیا تھا ۔ چالیس برس میں اس کا کیا اثر ہوا ۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی یہی کیا تھا ۔ دینی مدارس کو اب تک قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جا سکا ۔ حکومت اور فوج کشمیر پر توجہ مرکوز کرے اور علماء دینی مدارس پر مسائل حل ہوجائیں گے ۔ مدارس کی تنظیمیں حکومتی دخل اندازی کو دعوت دے رہی ہیں ۔ آرمی چیف سے ملاقات کے بعد کئی ایسے امور پر اتفاق ہوا ہے جن سے دینی مدارس کا آزادانہ تشخص ختم ہو جائے گا ۔