منصوبوں میں کرپشن :سندھ ہائی کورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

125

کراچی (آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ فوڈ لاڑکانہ، سکھر اور حیدرآباد کے منصوبوں میں کرپشن میں ملوث ملزمان کیخلاف 5 ہفتوں میں ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات  کردیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ فوڈ لاڑکانہ، سکھر اور حیدر آباد کے منصوبوں میں کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔2016 ء سے انکوائری زیر التوا ہونے پر چیف جسٹس نیب حکام پر برہم ہوگئے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے موقف دیا کہ انکوائری مکمل ہوچکی ہے، معاملہ منظوری کے لیے ہیڈکوارٹر بھیج دیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ پیش کریں کہ ریفرنس دائر کرنے کی منظوری ملتی ہے یا نہیں، اگر نیب قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اپنے ایس او پی ختم کردے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب میں کام کا دباؤ زیادہ ہے اس لیے تاخیر ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تو پھر نیب ادھر ادھر پنگا کیوں لیتا ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے درخواست کی کہ 4 ہفتوں کی مہلت دیں، ریفرنس دائر کردیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے جس کو چھوڑنا ہوتا ہے اس کو ایک دن میں چھوڑ دیتا ہے، جس کو رگڑا دینا ہو تو برسوں لگ جاتے ہیں، 2016ء سے کیس التوا کا شکار ہے اور نیب والے کچھ کرتے ہی نہیں۔ عدالت نے ملزم سلیم جہانگیر اور یار محمد کی ضمانت میں 25 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو ملزمان کیخلاف 5 ہفتوں میں ریفرنس دائر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
منصوبوں میں کرپشن