مرید عباس قتل کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل

66

 جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے اینکر مرید عباس قتل کیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں اینکر پرسن مرید عباس سمیت 2 افراد کے قتل کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے پر سماعت ہوئی،وکیل ملزم نے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرید خضر اور ملزم کے درمیان لین دین کا تنازعہ تھاکوئی سرکاری افسر کا قتل نہیں کیا گیا،تفتیشی افسر نے کہا کہ عاطف زمان نے پیغام دیا کہ جو پیسے مانگے گا اس کا بھی یہی حشر ہوگا۔

عاطف نے مرید کو قتل کرکے پیغام دیاملک میں میڈیاپرسنز محفوظ نہیں ،خوف کی وجہ سے تین چار سرمایہ کاروں کے علاوہ کوئی سرمایہ کار سامنے ہی نہیں آرہا،ان دونوں کو مارے جانے کے بعد کون ہمت کرے گا،کس میں ہمت ہے وہ عاطف زمان سے پیسے مانگے ، تفتیشی افسرنے کہا کہ 91کروڑ روپے کھانے کیلئے عاطف زمان نے مرید عباس اور خضر حیات کو قتل کیا،عمر ریحان نے اپنے بیان میں کہاکہ ملزم اپنے بھائی کیساتھ پستول لے کر دفتر پہنچا،مدعی مقدمے کے وکیل عامر نواز نے تحریری دلائل جمع کرا دیئے ،مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرنے پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سناتے ہوئے عدالت نے وکلا کے دلائل اور تفتیشی افسر کے بیان کے بعد پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے مرید عباس قتل کیس انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔