بھارت نے سری نگر مظفر آباد کے بعدپونچھ بس سروس بھی بند کردی

42

چناری (آن لائن)منقسم کشمیریوں کو آپس میں ملانے والا ایک اور تاریخ ساز باب بند، بھارت نے سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بعدر اولاکوٹ،پونچھ انٹرا کشمیربس سروس بھی ہمیشہ کے لیے بند کردی ،منقسم کشمیر کے عوام کی تشویش میں اضافہ۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز آزاد کشمیر سے2 مسافروں نے راولاکوٹ، پونچھ بس سروس کے ذریعے چکاں دا باغ ،تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے مقبوضہ کشمیر جانا تھا اور مقبوضہ کشمیر سے27 مسافروں نے آزاد کشمیر آنا تھا لیکن بھارتی حکام نے بس سروس چلانے سے انکار کر دیا جس کے بعد دونوں طرف کے مسافر مایوس ہو کر گھروں کو لوٹ گئے ۔ٹی ایف او تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ میجر(ر)محمد نعیم نے صحافیوں کو بتایا کہ آزاد کشمیر کے 43شہری مقبوضہ جموں و کشمیر اورمقبوضہ کشمیر کے 6 شہری آزاد کشمیر میں ہیں پیر کے روز اچانک بھارتی حکام نے بس سروس چلانے سے انکار کرنے کے علاوہ راولاکوٹ،پونچھ بس سروس کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے ، دونوں طرف کے پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے 26اگست کوبس سروس چلے گی ، کسی نئے مسافر کو آر پار آنے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بعد راولاکوٹ، پونچھ بس سروس کی بندش سے کشمیریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جموں و کشمیر جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سیکرٹری اطلاعات اعجاز میر نے بس سروس کی بندش کو بنیادی انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بین الاقومی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے منقسم کشمیر کے عوام کو آپس میں ملنے سے روکنے کا فوری نوٹس لے۔ یاد رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے سرینگر مظفرآباد بس سروس کو 26فروری سے اور دو طرفہ تجارت کو 8 مارچ سے بند کر رکھا ہے ۔
پونچھ بس سروس