باجوہ کے عہدے میں توسیع عمران خان کا خیالات کے برعکس فیصلہ

62

کراچی ( تجزیہ : محمد انور ) وزیراعظم عمران خان نے پیر کو جنرل قمر باجوہ کی ملازمت میں آئندہ تین سال کے لیے آرمی چیف کی حیثیت سے توسیع کرکے بقول شخصے” دانشمندی ” کا ثبوت دیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کے لیے اپنے ماضی کے خیالات کے خلاف یہ فیصلہ انتہائی سخت اور کڑوا گھونٹ پینے کے مترادف ہے۔ خیال رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں اس وقت کی حکومت نے توسیع کر دی تھی جس کی عمران خان نے مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع سے ادارے کے نظام پر اثر پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے اب خود پاک فوج کے سربراہ کی ملازمت میں توسیع کردی۔ خیال ہے کہ کشمیر کے تنازع کے باعث بارڈر پر پاک بھارت کشیدگی اور ملک کے اندرونی حالات کی وجہ سے وزیر اعظم اپنے خیالات اور خواہشات کے ساتھ معروف اصولوں کو بھی نظرانداز کرنے پر مجبور ہوئے اور پاک فوج کے سربراہ کو بدستور خدمات انجام دینے کا حکم جاری کیا۔ جنرل باوجوہ کے بدستور سپہ سالار رہنے کی خبر ہندوستان کے لیے پریشانی کا باعث ہوگی۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کی سربراہی میں پاک فوج نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑ کر سزا دلائی بلکہ 27 فروری کو دشمن کے طیارے کو پاکستان کی حدود میں مار گراکر پائلٹ ابھے نندن کو گرفتار کرلیا تھا اور اسے مشتعل افراد سے بچا بھی لیا تھا۔ تاہم اپوزیشن یہ تاثر لے سکتی ہے کہ ملک میں جاری احتساب کی سخت پالیسی جاری رہے گی اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ 29 نومبر 2016 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنرل راحیل شریف کی جگہ پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی، وہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہونے والے تھے ، انہیں 2016 اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کی کمان کے لیے تعینات کیا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت کی تاریخ میں دوسری مرتبہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔ ان سے قبل سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔
تجزیہ