تعلیمی ادارے اور صنعتیں قومیانہ بڑی غلطی تھی، شوریٰ ہمدرد

45

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا ہے کہ آج ہمارا پاکستان صحیح سلامت ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ایٹمی قوت بن چکے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ وہ گزشتہ روز جسٹس (ر) حاذق الخیری کی زیر صدارت ’’آزادی کے 72 سال، کیا کھویا کیا پایا‘‘ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے ہمدرد کارپوریٹ آفس میںخطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بہت کچھ پایا تو بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ ہم نے آدھا ملک گنوا دیا تاہم قومیں اپنی غلطیوں ہی سے سیکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1972 ء میں تعلیمی اداروں اور صنعتوں کو قومیانے کا عمل غلط تھا جس سے تعلیمی اور صنعتی ترقی رک گئی۔ جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کہا کہ ہمیں ہندوستان کی جانب سے کشمیر میں کی جانے والی ناانصافی، بے ایمانی اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ اجلاس سے ڈاکٹر سید امجد علی جعفری، پروفیسراخلاق احمد، پروفیسر سلیم مغل، انجینئر سید محمد پرویز صادق، انجینئر انوارالحق صدیقی، انور عزیز جکارتہ والا، کرنل (ر) مختار احمد بٹ،شیخ عثمان دموہی، ڈاکٹر ابوبکر شیخ، ڈائریکٹر ہمدرد پروگرامز اینڈ پبلی کیشنز سلیم مغل نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں صدر ہمدرد سعدیہ راشدبھی موجود تھیں۔ مقررین نے کہا نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں اور اس کی بہتری اور ترقی کے یے عملی کام کرنے چاہییں۔ ہم پاکستانی بہت سخت جان ہیں ہمیں کوئی ختم نہیں کر سکتا، ہم برے وقت میں یکجا ہو جاتے ہیں، بس ہم میں برداشت کی کمی ہوگئی ہے۔کشمیر کو حاصل کرنے کا سنہری موقع 1962 ء میں ملا تھا جب مقبوضہ کشمیر بھارت و چین کی جنگ کے سبب، بھارتی فوجیوں سے خالی تھا مگر ہم نے اسے گنوا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 24 ہزار ارب روپے کا قرض ہو گا تو ملک اٹھے گا کیسے؟ اجلاس نے ایک متفقہ قرارداد مذمت میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ مذموم اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے امن پسند حکمرانوں اور اقوام متحدہ سے اس ضمن میں مؤثر مداخلت کی اپیل کی ۔ ایک دوسری قرارداد تعزیت میں رکن شوریٰ ہمدرد حق نواز اختر اور معروف شاعر حمایت علی شاعر کی وفات پراظہار افسوس، دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعا کی گئی۔