ڈین جونز قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے کی دوڑ میں شامل

87

لاہور(جسارت نیوز) سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 58 سالہ سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈین جونز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دی ہے۔ڈین جونز پاکستان سپر لیگ کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے بھی ہیڈ کوچ ہیں اور ان کی کوچنگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے دو پی ایس ایل ٹائٹل جیتے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ دنوں قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے اشتہار دیا تھا۔اشتہار میں کہا گیا ہے کہ عہدے کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد تفصیلات ویب سائٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ بورڈ نے کوچنگ کے خواہش مند امیدواروں کے لیے معیار کا بھی اعلان کیا ہے اور بیٹنگ، بولنگ اور ہیڈ کوچ کے لیے لیول 2 کورس اور 3سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ٹرینٹر کے لیے اسپورٹس میڈسن یا اسپورٹس سائنس میں بیچلر ڈگری کیساتھ 3 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پی سی بی اعلامیے کے مطابق ہیڈ کوچ کے لیے انٹرنیشنل کرکٹر کو ترجیح دی جائیگی لیکن دس سال فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی بھی درخواست دے سکتے ہیں۔بیٹنگ اور بولنگ کوچ کیلئے بھی امیدوار کا متعلقہ شعبے میں تجربہ دیکھا جائے گا۔اوپر درج معیار پر پورا اترنے والے نوکری کے خواہشمند افراد 23اگست تک اپنی تصویر کیساتھ نوکری کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔شارٹ لسٹ کیے جانے والے امیدواروں کے انٹرویو کیے جائیں گے اور پھر کوچنگ اسٹاف کی تقرری کا اعلان کیا جائے گا۔دوسری طرف سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ اچھا کوچ بننے کے لیے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کو اپنی شخصیت مزید مضبوط بنانی ہوگی۔ایک انٹرویو میں محمد وسیم نے کہاکہ مصباح سیدھے سادھے انسان ہیں اور ایک کامیاب کپتان تھے تاہم انہوں نے ضرورت پیش آنے پر بھی اس طرح کی اتھارٹی قائم نہیں کی جو ٹیم کیلئے ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں چیف سیلیکٹر اور کوچ عہدہ دیا جاتا ہے تو انہیں ایک مضبوط شخصیت بنانی پڑے گی۔یاد رہے کہ مصباح نے اپنی کپتانی میں پاکستان کو 24 ٹیسٹ میچوں میں کامیابی دلوائی جبکہ 87 ون ڈے میچوں میں پاکستان 45 میں کامیاب جبکہ 39 میں ناکام رہا۔اس کے ساتھ ساتھ سرفرازنواز نے غیر ملکی کوچ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی خدشات کی بناء پر غیر ملکی کوچز شہرشہر نہیں جاتے اور ایک جگہ تک خود کو محدود کرلیتے ہیں جس سے نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں شدید دشواری کا سامنا رہتا ہے۔