مودی کی دوستی میں مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا گیا،نفیسہ شاہ

43

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی سیدہ نفیسہ شاہ نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا دعویٰ کرنے والے سلیکٹڈ وزیر اعظم نے آصف زرداری کو نماز عید بھی اداکرنے سے روک دیا، فریال تالپور کو رات کی تاریکی میں اغوا کی شکل میں جیل منتقل کیا گیا، تبدیلی سرکار اپنی ایک سال کی کارکردگی عوام کو کیا بتائیں گے، کشمیر کے حوالے سے حکومت نے قوم کو اعتماد میں نہیں لیا، یہ ہی وجہ ہے کہ کشمیر کے معاملے میں آج عالمی سطح پر پاکستان تنہا کھڑا ہے۔ عالمی سطح پر ملک کی ناکام خارجہ پالیسی اور مودی کی دوستی میں مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر سسی پلیجو اور عاجز دھامرا کے ہمراہ ڈویژنل صدر سید علی نواز شاہ رضوی کی رہائشگاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات پی پی حیدرآباد ڈویژن آفتاب احمد خانزادہ، احسان ابڑو اور صنم تالپور ودیگر بھی موجود تھے۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم عوام کو اپنی ایک سالہ کارکردگی اس کے سوائے کیا بتائیں گے کہ ملک کے سابق صدر اور ان کی بہن کو جیل میں ڈالا، تین بار وزیراعظیم رہنے والے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو پابند سلاسل کیا، انتخابات کے موقع پر قوم کو سودن کا اعلان دیا تھا، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ کیا تھا، اس کے بدلے میں اپنی ایک سالہ حکومت میں عوام کیا دیا۔ لاکھوں مکانات اور دکانیں مسمار کیے، ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا، گیس کی قیمت میں 6 سو فیصد اضافہ کیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کرکے قوم پر مہنگائی کا بم گرایا، انڈیکس جو کہ چالیس ہزار پوانٹس پر تھا گر کے 30 ہزار پوائنٹس پر آگیا۔ یوٹیلٹی بلوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا۔ بات صرف معیشت کی ہوتی تو برداشت کرلی جاتی لیکن بین الاقوامی سطح پر ملک کی ناکام خارجہ پالیسی اور مودی کی دوستی میں مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ حالت یہ ہے کہ اسپیکر اجلاس بلاتا ہے پھر ملتوی کردیا جاتا ہے اور بعد میں آرڈنینس جاری کردیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں آج تک ایک قانون بھی منظور نہیں ہوا، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، پی پی نے کبھی کشمیر پر سیاست نہیں کی۔ آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قوم کا حقیقی موقف بیان کیا اور رضا ربانی نے قوم کی درست ترجمانی کی لیکن اس سنگین موقع پر سلیکٹڈ وزیر اعظم کا رویہ بھی قوم نے دیکھا۔ کشمیر جیسے حساس ایشو پر مشترکہ اجلاس میں وزیر اعظم آنے کو تیار نہیں تھے، اپوزیشن کے شدید احتجاج کے بعد چھے گھنٹے کے بعد اجلاس میں آئے۔ کشمیر کے حوالے سے حکومت نے قوم کو اعتماد میں نہیں لیا، یہ ہی وجہ ہے کہ کشمیر کے معاملے میں آج عالمی سطح پر پاکستان تہنا کھڑا ہے۔ فریال تالپور جیل میں ہیں جبکہ علیمہ خان نے سلائی مینس کے ذریعے اربوں روپے کی جائیداد بیرون ملک بنائی اور ملک میں ظاہر بھی نہیں کیا، اس کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ سندھ حکومت کی ایک سال کی کاردگی بھی سامنے آنی چاہیے، حالیہ بارشوں نے جو سندھ سمیت پنجاب میں بھی ہوئیں لیکن کراچی میں خلاف توقع 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی، اس کے باوجود پی پی کے وزراء، کارکن عوام کے درمیان موجود رہے۔ صدر مملکت جو کہ ماضی میں تو ہر جگہ کشتی لے کر پہنچ جاتے تھے اس مرتبہ باہر نہیں آئے۔ پی ٹی آئی نے عوام کو ریلیف پنہچانے کے بجائے کچرا ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ ڈھیر کرکے پروپیگنڈہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا جائے تاکہ وہ مستقل بنیاد پر خارجہ پالیسی کے اصول طے کرے، ن لیگ اور پی پی ایک دوسرے کے سیاسی مخالف ہیں، لیکن حالات کے مطابق فیصلہ کرکے ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہے، جبکہ ناگالینڈ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ اس وقت ملک میں سیاسی ماحول انتہائی خراب ہے، ملک بیرونی خطرات سے دوچار ہے، کشمیر سمیت دیگر اہم امور پر اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اس وقت جو دباؤ ہے وہ قابل غور ہے، کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بنے گا اور اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی انتقامی کارروائیوں کو پس پشت ڈال کر ملک وقوم کی سلامتی کے لیے سب متحد ہوجائیں۔