میئر کراچی استعفیٰ دے کر گھر جائیں

111

کراچی کی صفائی کی صورت حال اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ شہری احتجاج اور دھرنوں کی بات کرنے لگے ہیں۔جماعت اسلامی کے لیاری سے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے متنبہ کیا ہے کہ لیاری کی ابتر حالت ایک ہفتے میں درست کی جائے ورنہ دھرنا دیں گے۔ انہوں نے بجا طور پر توجہ دلائی کہ حکمران صرف لی مارکیٹ اور آئی سی آئی پل کو لیاری قرار دیتے ہیں جبکہ لیاری ایک وسیع علاقے کا نام ہے۔ پورے لیاری میں جگہ جگہ پانی جمع ہے۔ کچرے کے ڈھیر ہیں سڑکیں غائب ہیں، لائٹیں بند ہیں، عبدالرشید نے بتایا کہ 1984ء میں اسی لیاری میں خاکروب اور کنڈی مین 80 کی تعداد میں ہر یوسی میں تھے آج 15 ہیں یہ سب کہاں گئے۔ انہوں نے میئر کراچی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ کروڑوں روپے کا بجٹ کہاں خرچ کیا گیا۔ سید عبدالرشید نے لیاری کا مقدمہ پیش کیا ہے لیکن یہی حال پورے شہر کا ہے۔ حکومت سندھ، بلدیہ کراچی اور مرکزی حکومت یا پی ٹی آئی مل کر عوام کو فٹ بال بنائے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رنگ برنگے دھڑے ایک دوسرے کو کراچی کی خراب صورتحال کا ملزم قرار دے رہے ہیں لیکن یہ سب ایک ہیں۔ آج پی ٹی آئی کو میئر شپ مل جائے تو وہ بھی یہی کریں گے جو وسیم اختر کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر دس روز سے چندے کرکے شہر کی صفائی کے ڈرامے میں مصروف ہیں۔ بارش کے بعد نالے صاف کرنے کے دعوے کررہے ہیں اگر پھر بارش آگئی تو سارے دعوے دھرے رہ جائیں گے۔ لیکن فرق کیا پڑے گا۔ اور اب دعویٰ کیا ہے کہ کچرا اٹھائیں گے۔ پی ٹی آئی سے عوام اپیل کرتے ہیں کہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے نام پر جو کچرا انہوں نے یا ان کے سرپرستوں نے کراچی میں ڈمپ کیا ہے سب سے پہلے اسے اٹھا لیں۔ کراچی پر ان کا یہی بڑا احسان ہوگا۔ یہ وفاقی وزیر قربانی کرنے والوں سے بدمعاشی کرتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ باپ کی سڑک ہے جو قربانی کررہے ہو۔ حالانکہ ان کی پارٹی 126 دن تک اسلام آباد کے ڈی چوک کو پتا نہیں کس کے باپ کا چوک سمجھتے رہے۔ سید عبدالرشید سے قبل امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن بھی میئر کراچی اور حکومت سندھ سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ کراچی میں پڑے کچرے اور پانی کو صاف کیا جائے، غلاظتیں اٹھائی جائیں۔ لیکن یہ لوگ مطالبے اور دھرنے سے باز آنے والے نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب میئر کراچی سے استعفیٰ مانگا جائے اور جماعت اسلامی ان سے مطالبہ کرے کہ جو اختیارات اور فنڈز آپ کے پاس ہیں آپ باقی مدت کے لیے میئر شپ جماعت اسلامی کے حوالے کردیں ان ہی اختیارات کے ساتھ اتنے کم وسائل میں بھی جماعت اسلامی اپنے گنتی کے چیئرمینوں اور رضاکاروں کی مدد سے شہر کا نقشہ بدل دے گی۔ اصل معاملہ کچھ کرنے کی خواہش اور عزم کا ہے۔ حکومت سندھ، میئر کراچی، ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اور پی ٹی آئی محض سیاست کررہے ہیں۔ کراچی سے صرف جماعت اسلامی مخلص ہے، اور اس نے بار بار اس خلوص کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج بھی اس کے نمائندے گلیوں میں کام میں مصروف ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی حقیقی نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔