اور کراچی ڈوب گیا…

114

قاسم جمال

کراچی میں مون سون کے دو سسٹم کیا گزرے کہ شہر میں قیامت ہی آگئی۔ ہر طرف پانی ہی پانی شہر کی مرکزی شاہراہیں کسی جھیل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ گلیوں، محلوں، بازاروں، میدانوں اور اسکولوں میں پانی جمع۔ شہر کے اہم برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث نالے اور گٹر اُبل رہے تھے۔ ایک ہفتہ قبل بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ وفاقی وزیر علی زیدی نے کراچی میں صفائی مہم کا آغازکیا تھا۔ انہوں نے شہر میں صفائی کے لیے 175 کروڑکی رقم کے لیے عوام سے چندے کی اپیل کی ہے اور محسوس ہورہا ہے کہ یہ مہم بھی فوٹو سیشن تک ہی محدود رہے گی۔ کراچی کی بدترین حالت زار پر علی زیدی بھی شتر مرغ کی طرح آنکھیں موندے اپنا منہ چھپا رہے ہیں۔ دوسری جانب سندھ کی بلدیاتی حکومت اور صوبائی حکومت ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں، کراچی کا کوئی گلی محلہ ایسا نہیں بچا جو تالاب کی شکل اختیار نہیں کر چکا۔ سب سے افسوسناک بات ان بارشوں میں یہ ہوئی کہ 40سے زائد افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگئے۔ کے الیکٹرک جو سب اچھا ہے کا راگ الاپتی رہی اور ان ہلاکتوں کو اپنی نااہلی ماننے کے بجائے شہریوں کی غفلت اور لاپروائی قرار دیتی رہی۔ جبکہ یہ تمام اموات بجلی کے کھمبوں اور تار ٹوٹنے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ جماعت اسلامی جو کے الیکٹرک کی لوٹ مار اور کرپشن کے خلاف پچھلے کئی برسوں سے بھرپور طریقے سے مہم چلا رہی ہے۔ ان کی جانب سے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے ہمراہ کے الیکٹرک کے مرکزی آفس کے باہر عوامی پریس کانفرس کا انعقاد کیا گیا اور حالیہ بارشوں میں بجلی سے ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی جانوں کے نقصان پر سخت احتجاج کیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کے الیکٹرک اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لواحقین کی مالی امداد کریں اور کے الیکٹرک کو دوبارہ قومی تحویل میں لیا جائے۔
بارشوں کے دوران ہی عیدالاضحیٰ کی آمد بھی ہوئی ۔ لیکن بارش کا پانی علاقوں میں موجود ہونے اور صفائی ستھرائی کے انتہائی ناقص انتظام کی وجہ سے عیدالاضحی میں عوام کو انتہائی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ قربانی کی آلائش ابھی تک کچرا کنڈیوں بازاروں اور شاہراوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے پورے شہر میں تعفن پھیل رہا ہے اور خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ شہر میں موزی امراض نہ پھیل جائیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سب ایک خاص منصوبے اور ایجنڈے کا حصہ ہیں اور جان بوجھ کر ایسی فضا پیدا کی جارہی ہے کہ کراچی کے عوام کو تنگ و پریشان کیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو ہر سال مون سون کے موسم میں ایک خاص گرانٹ دی جاتی ہے لیکن یہ تمام امداد پہلے کی طرح اس سال بھی کرپشن کی نظر ہوگئی ۔ کاغذوں میں صاف کیے گئے برساتی نالے ابل ابل کر بلدیاتی اداروں کی کرپشن کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ برساتی نالوں کی صفائی کے لیے دیے گئے فنڈ ہضم کر لیے گئے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وفاقی صوبائی اور شہری حکومت کے ذمے داران اکٹھے بیٹھ کر اور مزے اور چسلی لے لے کر چائے پی رہے ہیں اور عوام کا غم ہلکا کر رہے ہیں۔ کراچی کے عوام بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیںکراچی جو روشنیوں کا تھا آج گندگی اور غلاظتوں کا شہر بن چکا ہے۔ بارش کو ایک ہفتہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود بارش کا پانی گلیوں محلوں میں تالاب کی شکل میں کھڑا ہے۔ نکاسی آب کا نظام درست نہ ہونے اور برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث پورا شہر بارش کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ منتخب نمائندے عوام سے اپنا منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور کراچی کے شہری اپنی قسمت پر ماتم کناں ہیں اور پورا شہر اپنی بے بسی کا نوحہ پڑھ رہا ہے۔ پاک فوج کے جوان ان بدترین حالات میںعوام کی مدد کو آئے اور فوج کی 31ٹیموں نے سول انتظامیہ کے ہمراہ ریسیکو آپریشن میں حصہ لیا اور 73افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
دیانت دارارکان آج قومی ، صوبائی اور بلدیاتی اداروں کے لیے منتخب ہوتے تو شاید کراچی والوں کو یہ دن دیکھنے نہیں پڑتے اور ان کی اس طرح درگت اور یہ حالت نہ بنتی۔ شہر کراچی جو میگا سٹی ہے اور صوبائی اور شہری حکومت کی اختیارات کی لڑائی نے اس شہر کو لاوارث بنا دیا ہے۔ کراچی کو تمام حکومتوں نے اپنا تر نوالہ سمجھا۔ کراچی سے روزانہ دو ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کرنے والے حکمران کراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ حکمرانوں نے ہمیشہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے بلند وبانگ دعوے تو ضرور کیے لیکن شومی ٔ قسمت اب تک کراچی کو ایسے حکمران نہیں مل سکے جو کراچی کے عوام کے بنیادی مسائل حل کر سکتے۔ کراچی کے عوام بجلی پانی ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ پورا شہر گندگی اور کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ قربانی کی آلائش نہ اٹھائے جانے پر تعفن اور بدبو عوام کی برداشت سے اب باہر ہوچکی ہے۔ میئر کراچی نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی کہ دوسو ملی لیٹر بارش کراچی کا انفرا اسٹریکچر برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن کوئی انہیں یہ بھی بتا دے کہ اگر برساتی نالوں کی صفائی کے لیے دیا گیا فنڈ ایمان داری کے ساتھ درست استعمال کرلیا جاتا تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔ کراچی میں تین تین دن مسلسل بارشش ہوئی ہیں لیکن ایسی بدترین حالت کبھی بھی نہیں ہوئی۔
اللہ کی رحمت حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے زحمت بن چکی ہے۔ نااہلی بدانتظامی اور لوٹ مار کا خمیازہ کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں۔ سیوریج سسٹم پورے شہر کا ناکارہ ہوچکا ہے۔ علاقوں میں کھڑے بارش کے پانی میں اب گٹروں کا گندا اور بدبو دار پانی بھی شامل ہو گیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتہ سے شہر کے اکثر علاقوں میں پانی کی فراہمی بند ہے۔ دھابیجی سے پانی کی سپلائی بند ہے اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ان حالات میں کراچی کے شہری ایک جانب کرنٹ لگنے سے اپنے پیاروں کی ہلاکتوں پر افسردہ ہیں اور دوسری جانب بارش کا گندا پانی اور گندگی اور تعفن نے ان کا جینا حرام کردیا ہے اور خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ اگر ہنگامی بنیادوں پر شہر کو صاف نہ کیا گیا تو شہر کراچی اور اس کے رہائشی کسی نئے عذاب کا شکار نہ ہوجائیں۔ بدبوتعفن سے خدشہ ہے کہ سانس دمے پھیپڑے اور جلد کے امراض شدت کے ساتھ شہر میں پھیل سکتے ہیں۔ وفاقی صوبائی اور شہری حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے کراچی کو صاف کریں اس کی تباہ حال سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے اور کراچی میں مستقل بنیادوں پر صفائی کا ایک ایسا نظام قائم کیا جائے کہ آئندہ بارشوں میں اس طرح کے مسائل اور مشکلات کا عوام کو سامنا نہ کرنا پڑے اور کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بن جائے۔