شام میں ہولناک بمباری‘ مزید 30 شہری شہید

79
ادلب: شہری دفاع کے رضاکار روسی اور اسدی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں
ادلب: شہری دفاع کے رضاکار روسی اور اسدی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے لاشیں نکال رہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بشارالاسد اور روس کی افواج نے وحشیانہ بم باری کرکے مزید 30 شہریوں کو موت کی نیند سلادیا۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق اور دیگر مقام ذرائع کے مطابق جنگی طیاروں نے شمال مغربی صوبے ادلب کے حاس نامی قصبے میں مہاجرین کی ایک پناہ گاہ پر جمعہ کے روز فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد مارے گئے۔ شامی مبصر نے اس بمباری کا الزام روس پر عائد کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ہفتے کے روز کیے گئے فضائی حملوں میں مزید 13 شہری شہید ہوگئے۔ شامی مبصر کے مطابق جنگی طیاروں نے ادلب کے جنوب میں دیرشرقی گاؤں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کے 6 بچے جاں بحق ہوئے۔ روسی طیاروں نے کفرنبل قصبے پر بھی بم باری کی، جس میں 2 شہری مارے گئے۔ دیگر ہلاکتیں معرۃ النعمان، حلفایا اور خان شیخون میں ہوئیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے، جب کہ مکانات تباہ ہوگئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے ادلب میں فوری لڑائی روکنے اور پناہ گزینوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ادلب میں مزاحمت کاروں کی اسدی فوج کے ساتھ خوں ریز لڑائی بھی جاری ہے اور ہفتے کے روز خان شیخون کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں فریقین کے مزید 22 افراد مارے گئے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ان جھڑپوں میں اسدی فوج کے وفادار 13 رضا کار جنگجو ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 18 مزاحمت کار بھی مارے گئے تھے۔ شامی مبصر کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسد نواز جنگجوؤں نے ادلب کے جنوبی حصے میں پیش قدمی کی ہے اور وہ ایک اہم مرکزی شاہراہ پر واقع قصبے خان شیخوں پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ قصبہ اسد حکومت کے عمل داری والے علاقے کی جانب جانے والی اس مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہ شاہراہ ادلب کے وسط سے گزرتی ہے اور دارالحکومت دمشق کو شمالی شہر حلب سے ملاتی ہے۔ ادھر شمال مشرقی شام میں ترکی کو مطلوب مجوزہ سیف زون تقریباً 2 ہفتوں سے امریکا اور ترکی کے درمیان بات چیت کا محور ہے۔ اگرچہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقوں میں کرد جنگجوؤں پر زمینی حملے کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم اس بات چیت کے باعث وہ اپنے ارادے پر عمل سے رک گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور انقرہ کی جانب سے ایک مشترکہ آپریشنز سینٹر کے قیام پر آمادگی کے باوجود ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا اور ترکی کے نقطہ نظر میں ابھی تک بڑا اختلاف موجود ہے۔