بھارت نے کاری وار کیا ہے،پاکستان کو سفارتی محاذ پر سخت محنت کرنا ہوگی،لیاقت بلوچ

80

لاہور( نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ کے ساتھ پاکستانی امریکن وفد نے مکہ مکرمہ میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکا تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا ۔ لیاقت بلوچ نے اس مو قع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ باعمل مسلمان اپنی اخلاقی قدروں اور اصولوں کی بنیاد پر اسلام کا سفیر ہوتاہے ۔ پوری دنیا کے زوال پذیر نظاموں کے مقابلے میں اسلام کے ہمہ گیر ، انسانی فلاح اور پوری انسانیت کے لیے خیر کے تمام پہلوئوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ امریکا اور یورپ میں مقیم مسلمان عالم اسلام کی عوامی سطح پر موثر نمائندگی کر سکتے ہیں ۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جانبدار، متعصب پروپیگنڈے کے مقابلے میں مثبت پیغام مغربی سوسائٹی تک پہنچایا جائے ۔ لیاقت بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے ارکان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے حوالے سے عوامی پروگرام کی کئی ہفتوں سے بھر پور تیاریاں کی جارہی تھیں لیکن عمران خان نے اہم اور بہترین موقع کو ضائع کیا ۔ سنجیدہ افراد کو توقع تھی کہ پاکستان کی حکومت کے اقتصادی ، سماجی اور خارجہ محاذ کے لیے روڈ میپ دیا جائے گا لیکن روایتی تقریر نے مستقل اور گہرے اثرات پیدا کرنے کی بجائے وقتی اور سیاسی عارضی جوش ہی پیدا کیا۔ امریکا کا نظام اور پالیسی کسی وقتی اور یک سمت دورے سے متاثر نہیں ہوتی ۔ پاکستان کی نائن الیون کے بعد قومی پالیسی کی بجائے امریکی ضروریات کو پورا کر کے کشکول بھرنے کا لائحہ عمل رہاہے ۔ امریکا ، بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ سٹریٹجک مفادات ہیں ۔ انڈیا نے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کا کاری وا ر کیا ہے اب سفارتی محاذ پر پاکستان کو بڑی محنت کرنا ہوگی اور مسلسل سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو سیاسی اور اقتصادی محاذ پر استحکام پاکستان کے لیے ناگزیر ہے ۔