بھارت کا یوٹرن،مقبوضہ کشمیر کودوبارہ متنازع علاقہ مان لیا

365

جنیوا ( آن لائن) بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی مسئلہ قرار دینے پر بڑا یوٹرن لیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کر لیا ۔ اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب سید اکبرالدین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ہم 1972ء کے شملہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو داخلی مسئلے کی بجائے متنازع تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیر کے معاملے پر بات کرنے کو تیار ہیں۔پریس بریفنگ کے دوران ان سے پاکستانی صحافی نے سوال کیا کہ وہ پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ کب بڑھائیں گے جس پر وہ پاکستانی صحافیوں کے پاس گئے اور ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ شملہ معاہدے کو مانتے ہیں اور اس پر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔پریس بریفنگ کے دوران بھارتی مندوب سید اکبر الدین مقبوضہ کشمیر سے متعلق عالمی میڈیا کے سوالات پر بدحواس ہو گئے، بھارتی مندوبمقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری انسانیت سوز مظالم پر میڈیا کے سوالات کا سامنا تک نہ کر سکے۔ اکبر الدین نے بدحواسی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مقبوضہ کشمیر پر رپورٹ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کو بھی ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عالمی ادارے کی اس رپورٹس کو ہم نہیں مانتے۔بھارتی نمائندے کی بدحواسی کا عالم یہ تھا کہ سوالات کا سامنا نہ کر سکے تو میڈیا بریفنگ چھوڑ کر جانے لگے اور صحافیوں کا شور سن کر واپس آئے۔بھارتی مندوب نے میڈیا بریفنگ کے دوران باربار صحافیوں کو سوالات سے روکتے ہوئے بدحواسی میں کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حالات بہتر کرنے کیلیے اقدامات کرنے کیلیے وقت چاہیے جس پرصحافیوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں فوج بھیج کر حالات خراب کیوں کیے اور اگر بھارت کشمیریوں پر اس طرح ظلم جاری رکھے تو تب بھی آپ کو وقت ہی درکار ہو گا۔