افغانستان: 7 ماہ میں 4 ہزار ہلاکتیں‘ 2 لاکھ سے زائد بے گھر

93
کابل: افغانستان میں خانہ جنگی اور قحط کے باعث نقل مکانی کرنے والے سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں
کابل: افغانستان میں خانہ جنگی اور قحط کے باعث نقل مکانی کرنے والے سیکڑوں خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغان تنازع کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی کی وجہ سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے جبکہ رواں برس کی پہلی ششماہی میں 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں سب سے زیادہ عام شہری شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں جولائی کے مہینے میں ریکارڈ کی گئیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی ادارہ برائے تعاون انسانی امور (او سی ایچ اے ) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2019ء کے پہلے 7ماہ کے دوران 2 لاکھ 17 ہزار افراد ملک میں جاری لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور بے گھر ہونے والے 58 فیصد افراد 18 سال سے کم عمر بچے ہیں۔ اندرونی نقل مکانی کی وجوہات میں خانہ جنگی کے علاوہ حادثات اور خشک سالی بھی شامل ہیں۔عالمی ادارے کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے امداد کی از حد ضرورت ہے کیونکہ بے گھر ہونے والوں کو جنگی حالات کے ساتھ قحط سالی کا بھی سامنا ہے۔ علاوہ ازیں عالمی ادارے کے افغانستان میں موجود مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ میں رواں برس جنوری تا جون 3 ہزار 812 افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ نے افغانستان میں تمام فریقین کو شہریوں کے تحفظ کے لیے ذمے دارانہ رویہ اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ خانہ جنگی کے دوران جولائی 2019ء میں 2 سال بعد شہریوں کی ریکارڈ ہلا کتیں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے سے خانہ جنگی میں جولائی 2019ء میں ایک ہزار 500سے زائد شہری جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہوئے جو رواں سال ایک مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مئی 2017ء کے بعد ایک ماہ میں ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں جس کی بنیادی وجہ حکومت اور امریکا مخالف گروپوں کی کارروائیاں ہیں۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی کا گزشتہ ماہ کہنا تھا کہ تنازع کم کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں، تاہم میں فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ امن مذاکرات میں اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت کے طور پر سامنے آتا ہے۔