“مودی کو اینٹ کا جواب پتھر سےدیا جائے گا”

64

وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے نازی نظریئے نے اپنے ہی ملک کے قانون کو رد کر دیا،مودی کو اینٹ کا جواب پتھر سےدیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا یوم آزادی پر کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہوں، آج کشمیریوں پر انتہائی مشکل وقت ہے، بی جے پی اور مودی کا اصل چہرہ دنیا میں بے نقاب کیا، ہمیں آر ایس ایس کے خوفناک نظریے کا سامنا ہے، ہندوستان کیساتھ مفادات کی کشمکش نہیں، ہم نظریے کیساتھ کھڑے ہیں۔

 مودی کے اس نظریئے کے پیچھے مسلمانوں اور اقلیتوں سے نفرت ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی ہٹلر سے لی گئی، مودی اس کا رکن ہے، یہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کی بھارت میں کوئی جگہ نہیں، پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔

عمران خان کا کہنا تھا گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، آر ایس ایس کے پیچھے ہندوستان کا گھٹیا ماضی ہے۔مودی کے انتہاء پسند نظریے نے گاندھی کو قتل کیا، مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل لیا ہےجو اس کوبہت مہنگا پڑے گا۔

اس وقت دنیا کی نظر کشمیر کے معاملے پر ہے، پوری دنیا کشمیری عوام کیلئے فکر مند ہے  میں کشمیریوں کی آواز اٹھانے کیلئے ان کی آواز بنوں گا۔

قومیںاور ملک  جنگ سے نہیں ہارتے بلکہ  نظریہ ختم ہونے سے تباہ ہوتے ہیں، آر ایس ایس کا جن بوتل سے نکل چکا، اب واپس نہیں جائے گا۔ مسلمان نام نہاد سیکولربھارت میں خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔

بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے مقبوضہ وادی میں کرفیو کا نفاذ ہے۔قابض بھارتی حکمرانوں نے جموں و کشمیر میں ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر رکھی ہے جبکہ وادی کے تمام تعلیمی ادارے بھی بند اور سینکڑوں کشمیری رہنما گھروں میں نظر بند یا گرفتار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود ہزاروں کشمیریوں نے گھروں سے باہر نکل کر مودی سرکار کے اقدامات کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں ۔

حکومت پاکستان نے بھارتی اقدامات کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔