اللہ کا انعام پاکستان

31

مولانا سیف اللہ سعیدی
پاکستان عطیہ خداوندی ہے اس کی بنیاداسلام کی بنیادی روح کلمہ شہادت کی لازوال حقیقت پررکھی گئی ہے۔مملکتِ خدادادپاکستان،مسلمانان برصغیر کی عظیم جدوجہداورلاکھوں جانوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجودمیں آیا۔مسلمانوںکے دلوں میں تحریک آزادی اور حصول پاکستان کی ایسی جستجوتھی کہ بڑے توبڑے بچہ بچہ یہ نعرہ لگانے لگاکہ ’’لے کررہیںگے پاکستان‘‘تاریخ کاایک اہم واقعہ بہت مشہورہے کہ بلوچستان کے اسکول کے لڑکوں نے اپنے خون سے رومال پریہ نعرۂ لکھ کردیاتھاکہ’’لے کے رہیں گے پاکستان بٹ کے رہے گاہندوستان‘‘اسی طرح ایک لڑکا دوڑرہاتھا دوڑتے ہوئے کہیں اس کو ٹھوکر لگی ٹھوکر لگنے کے بعدبچہ رونے لگااور گھٹنے سے خون نکلنے لگا کسی ہندوں نے جب اس بچہ کو دیکھا اس ہندوں نے بچے پر بھپتی کستے ہوئے کہا’’اے بچے!کیا تم بناؤگے پاکستان؟کہ اتنے ذرا سے خون سے رونے لگ گئے ۔کیا تم بناؤ گے پاکستان؟بچوں کاجذبہ یہ تھا کہ بچے نے روتی ہوئی آوازکوروکتے ہوئے کہا!او پنڈت ،او ہندو میں اس لئے رور ہاہوں کہ یہ خون میں نے پاکستان کیلئے سنبھال رکھا تھاجو اس سے پہلے بہہ گیا (تخلیق پاکستان میں علماء کا کردار)
قیام پاکستان کی تاریخ میں اﷲکی تائید کے واضح اشارے ملتے ہیں پاکستان اور اعلان آزادی کے لئے 14اور15اگست کی نصف شب کا انتخاب کیاگیا جو مسلمانان پاکستان کے لئے نہایت نیک شگون، مبارک اورصاحبان نظروباطن کے لئے مشیت ِ خداوندی کاواضح اشارہ تھا ۔شب قدر، ماہ رمضان اور15اگست ہماراپہلا یوم پاکستان جمعۃ الوداع کے روزمنایاگیاتھا۔
علامہ اقبال کاخواب اس عظیم خواب کا تسلسل تھا جس کی ابتداء خودعہدنبوی ﷺسے ہوگئی تھی ۔اس سرزمین پاکستان کے سندھ کے علاقے سے کچھ لوگ حضورعلیہ السلام کی خدمت میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئے تھے اور بغیر کسی تعارف کے حضورعلیہ السلام نے انہیں دیکھتے ہی فرمایاکہ کیاتم سندھ سے آئے ہو؟جس سے معلوم ہوتاہے کہ حضوراکرم ﷺکی توجہ اور دھیان اس سرزمین کی طرف تھا اور یہاں کے باشندوں کی پہنچان بھی تھی ۔ان کی درخواست پر حضوراکرم ﷺنے چند صحابہ کرام کو دعوت وتبلیغ اسلام کے لئے ان کے ساتھ روانہ فرمایاتھا۔گویاخواب عہدنبوی ﷺسے شروع ہوگیا تھا ،اس کے بعد سیدنا عمرفاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے دورمیں( 15سے 16ہجری) میںموجودہ سرحدیںاسلامی ریاست کے ساتھ ملادی تھی ،یہ تاریخی حقیقت بہت کم لوگوںکومعلوم ہے۔
اسی طرح حضورعلیہ السلام کی یہ بشارت کہ ’’مجھے ہندوستان سے ٹھنڈی ہواآرہی ہے‘‘کیا یہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو اﷲکے آخری نبی ﷺنے منتخب فرمالیاہے۔
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے
رانا تجمل حسین کے کالم میں ایک بات بہت ہی خوبصورت تحریرتھی ۔جو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہوں’’رسول اﷲ ﷺکے اسم گرامی کے اعداد92ہیں اسی مماثلت کوپروفیسرسرورشفقت نے یوں بیان کیاہے کہ ’’پاکستان بھارت سے ایک دن پہلے معروض وجودمیں آیا۔اس لحاظ سے اس کا انٹرنیشنل ڈائلنگ کوڈبھی91ہوناچاہیے تھااور بھارت کا 92لیکن اﷲتعالیٰ نے اسم محمدیﷺکے اعدادکے مطابق پاکستان کا انٹر نیشنل ڈائلنگ کوڈ92طے کردیا۔حضورﷺکے نام مبارک کے اعدادبھی 92ہیں ۔کائنات کے قدرتی عناصربھی 92ہیں۔گویاحضوراکرم ﷺکے 92جوہرتجلیات سے یہ کائنات وجودمیں آئی ‘‘(پروفیسرعبدالرحمن کی تقریرسے اقتباس)مزیدلکھتے ہیں جوشخص بھی پاکستان کواﷲکی عطاء اور سرورکائنات ﷺکی طرف سے عطاہونے والاتحفہ نہیں سمجھتا تو میراخیا ل ہے کہ وہ ایک بدنصیب ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔پروفیسرصاحب نے ایک بہت عمدہ بات کہی کہ یہ عہدحاضر میں امام الانبیاءﷺکامعجزہ ہے۔معجزہ اﷲکے پیغمبروں کے ساتھ مخصو ص ہیں ۔نبی آخرزماںﷺکا ایک اعزازوامتیازیہ بھی ہے کہ وصال کے بعد بھی آپ کے معجزات کاظہورجاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔سرورکائنات ﷺسے بے پناہ محبت کرنے والے مسلمانان برصغیر نے جس بے سروسامانی کے عالم میں حصول پاکستان کی تحریک چلائی ،انگریز ہندو گٹھ جوڑ کے باوجود قیام پاکستان کی شکل میں اس کا کامیاب ہوجا نا ۔اللہ کے فضل و کرم سے حضرت محمد ﷺ کاایک زندہ معجزہ ہے ۔حفیظ جالندھری نے اسی معجزہ کے نظم میں یو ں بیان کیا ۔
ہر طلوع صبح ہے اس معجزے کی یاد گار
جو بشکل ملک پاکستان ہے عالم آشکار