حق خوداردیت کیلئے جہاد اجتماعی ذمہ داری ہے،فردوس عاشق اعوان

53

سیالکوٹ /اسلام آباد(اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے عید الاضحی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ حق خود ارادیت کے لیے جہاد اجتماعی ذمے داری ہے‘ حق خودارادیت کی جدوجہد کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے گئے ہیں،بھارت جان لے کہ ظلم اور جبر سے آزادی کی تحریکوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پیر کو اپنے خصوصی وڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے اور معصوم بچے کی وائرل وڈیو سے کشمیر میں بھارتی مظالم اور وحشت سے پردہ اٹھ گیا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ ظلم سے ریاستی عوام کی جدو جہد آزادی کو دبایا نہیں جاسکتا۔ علاوہ ازیں ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کوئی جبر،کوئی ظلم، کوئی کرفیو، کوئی ہتھکڑی اور کوئی قید خانہ کشمیریوں کو غلام نہیں بنا سکتا، عید کے دن کشمیریوں کو ان کی مذہبی رسومات ادا کرنے سے روکنا ثابت کرتا ہے کہ بھارت کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رہا ہے۔دوسری جانب کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سنجیت گڑھ کا دورہ کیا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے بہنے والے خون اور درد کو پاکستان محسوس کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سلام پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مودی ہٹلر نے مقبوضہ کشمیر میں کربلا کی یاد تازہ کردی ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو عید کے دن بھی گھروں میں بند کر رکھا گیا ہے‘ بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے‘ ہم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان کا ہر شہری بھارتی مظالم کی پر زور مذمت کرتا ہے،کشمیریوں کی عید اورقربانی کے عمل کو روکا گیا۔ادھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتا رہے گا،عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بے یارومدگار کشمیریوں کی معاونت کی جا رہی ہے‘ انسانی حقوق کے عالمی ادارے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں‘ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو غذاء اور ادویات کی قلت کے مسائل کے ساتھ ساتھ عیدالاضحی کے دن کرفیو کا سامنا بھی کرنا پڑا‘ بھارتی افواج نے کربلا کی تاریخ کو دہرایا ہے‘ مودی کے اس طرح کے اقدامات سے عالمی برادری کے سامنے بھارت کا انتہاء پسندانہ اور دہشت گردانہ حقیقی چہرہ واضح ہو گیا ہے۔