ایکسل لوڈ پالیسی کانفاذشپنگ سیکٹرو دیگر انڈسٹریزکیلئے تباہ کن ہے،طارق حلیم

35

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے)کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدرطارق حلیم نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ ایکسل لوڈ پالیسی اور ملکی معاشی مفاد متصادم ہیں،اس وقت حکومت کو دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے کیونکہ ملکی معاشی حالات تنزلی کا شکار ہیں، کاروباری صورتحال کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں ہے اور ایسی صورتحال میں ایکسل لوڈ پالیسی کانفاذشپنگ سیکٹر سمیت بہت سی انڈسٹریزکے لیے زہرقاتل ثابت ہوسکتا ہے اس لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان ازخود نوٹس لیتے ہوئے میانہ روی کے ساتھ ملکی مفاد میں فیصلہ کریں۔طارق حلیم نے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سیفٹی آرڈیننس 2000میںجن زاویوں کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ مطلوبہ اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی نہیں کرتا کیونکہ اس میں پاکستان کے زمینی حقائق سے اجتناب برتا گیا ہے،اس کے معاشی اور منطقی طریقہ کار کو حقیقی معنوں میں جانچنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی آرڈیننس 2000کے مطابق نئی ایکسل لوڈ پالیسی کے نفاذسے تہلکہ خیز نتائج سامنے آسکتے ہیں جبکہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت کو لاحق خطرات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ،حکومت سے تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ صورتحال کو بہتر بنائے گی اور ایسے اقدامات اور پالیسیاں نافذ کرے گی جس سے لوگوں کی زندگی میں بہتری آسکے اور کاروباری حالات پرسکون ہوجائیں لیکن نئی لوڈ پالیسی کے متعارف ہونے سے کاروباری لاگت میں مزید اضافہ ہو جائے گا جبکہ پاکستان میں ٹرانسپورٹ سیکٹر پہلے ہی مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے۔طارق حلیم نے کہا کہ ایکسل لوڈ دو دھاری تلوار کی مانند ہے کیونکہ ایک جانب ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے انتہا اضافہ ہوگا اور دوسری جانب ٹرکوں کی طلب اور رسد کا توازن بگڑنے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا،اس کے علاوہ بندرگاہوں پر رش زیادہ ہونے اور بندرگاہوں سے باہرکارگو منتقل کرنے کے لیے رقم کی محدود فراہمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقصانات اور مال رکنے کے اندیشوں سے بھی ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر اس کی ضروریات کے تحت توجہ نہیں دی گئی،دنیا بھر میں پہلے معیاری شاہراہیں بنائی جاتی ہیں پھروہاں ٹرانسپورٹ کو رواں کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے، قدرت نے ہمارے ملک میں بہترین بندرگاہیں ،ساحل دیے ہیں اور ہم بندرگاہوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو بڑھا کرمعیشت کو مستحکم بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ملکی بندرگاہوں سے ہم بھرپور فائدہ نہیں اٹھا رہے اوراگر ایکسل لوڈ کا مسئلہ اسٹیک ہولڈرز کی توقعات کے مطابق حل نہ ہوا تو رہی سہی ایکسپورٹ کو بھی دھچکہ لگے گا،ملک میں سڑک کے ذریعہ نقل وحمل کرنے والے کچھ بڑے کارگو اپنی کاکردگی کے اعتبار سے142ملین ٹن کی مقدار کے حامل ہیں جبکہ ملک میں منتقل کیا جائے والا مجموعی سامان 275س ے300ملین ٹن ہے۔طارق حلیم نے مزید کہا کہ ایکسل لوڈ کے نئے نظام سے پاکستان کوخطرہ ہے کیونکہ تیل کے بل میں سالانہ 5ارب ڈالر اضافہ ہونے کا امکان ہے اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدمیں کمی سے 88ارب روپے تک کے خسارے کا خدشہ ہے۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ٹرکوں کی قلت کے باعث گندم اور چینی کی فراہمی متاثر ہوگی جو ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی قلت کی وجہ سے کم پیداوار کا باعث بنے گی۔ )پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت کی پالیسی سازوں کی عقل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایکسل لوڈ پر پابندی کی پالیسی اور ملکی معیشت کیلئے خوش آئند نہیں ہے۔