یوم آزادی پاکستان اور کشمیر

198

بھارت کشمیر ہڑپ کرچکا ہے اور خوف کے سائے کشمیر میں لہرا رہے ہیں انہیں عید الاضحی بھی منانے نہیں دی گئی اور پاکستانی قوم آج 73 واں یوم آزادی منا رہی ہے۔ ہر سال اسے جشن آزادی کہا جاتا ہے لیکن کیا آج پاکستانی قوم کے یوم آزادی کو جشن آزادی قرار دیا جاسکتا ہے کیا کسی سنجیدہ پاکستانی کو 14اگست 2019ء کو جشن منانا زیب دیتا ہے۔ موسیقی کے پروگرام کرنا، ناچ گانے کی محفلیں سجانا اور ہڑبونگ تو ویسے بھی نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ کیا کہ پی ٹی آئی کے ایک بڑے سرپرست، تاجر اور عمران خان کے دوست نے بھارتی گلوکار بلاکر پاکستانی قوم کو پیغام دیا ہے کہ تم کس غم میں ڈوبے ہوئے ہو ہم تو بھارتی گلوکاروں کو بلائیں گے۔ اس پر وفاقی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے یہ کہا کہ میکا سنگھ ہمارا مہمان ہے۔ بھارتی فلموں پر پابندی ہے لائیو کنسرٹ پر نہیں۔ اس میکا سنگھ نے پاکستانی قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ ڈالر لیے۔ یہ رقم بھی پاکستانیوں سے لی گئی اور بھارتی میراثی یہاں گانے گا کر چلا گیا۔ پی ٹی آئی والے تالیاں پیٹتے رہے۔ ایسے حالات میں حکمرانوں سے کشمیریوں کے لیے کلمہ خیر کی توقع نہیں ہے۔ اسے بدنصیبی ہی کہا جائے گاکہ پاکستانی قوم نے عید بھی ان ہی دنوں میں منائی ہے اور عید کا تیسرا دن پاکستان کا یوم آزادی ہے۔ کشمیری ہر سال عیدین سے بھی زیادہ پاکستان کا جشن آزادی مناتے ہیں لیکن آج انہیں عید کی نماز سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھیانک خاموشی ہے۔ پارلیمنٹ، فوج، عدالت، حکومت ، اہل سیاست سب ادھر ادھر کی باتیں کررہے ہیں۔ ترانے بنا رہے ہیں بیانات داغ رہے ہیں اور کشمیری خوراک سے محروم ہو رہے ہیں۔ کشمیری بہنوں کی عزتیں دائو پر لگ چکی ہیں۔ یہاں سے بھارت کے مندروں میںگھنٹی بند ہونے کے بیانات دیے جارہے ہیں۔ اگر بیانات اور تقریروں سے کشمیر آزاد ہوسکتا تو بہت پہلے ہو جاتا۔ لیکن کشمیر جیسے چھینا گیا ہے اسی طرح آزاد ہوگا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلز فلمی اداروں کے پروگرام چلا رہے ہیں یہی لوگ قوم کے جشن آزادی کے پیغامات وصول اور نشر کررہے ہیں کہیں پر کشمیر کا نوحہ نہیں ہے کسی نے اس کی فکر کی نہ اظہار کیا۔ حکمران گاہے بگاہے کشمیر کشمیر کے بیانات داغ رہے ہیں ان کا ہر بیان کشمیریوں کے دلوں پر داغ بن رہا ہے۔ عوامی دبائو کے نتیجے میں یوم آزادی پر کچھ نمائشی اقدامات کیے گئے ہیں ۔ کشمیر پر سرکاری نعرہ دیا گیا ہے اس میں کشمیر کو سرخ رنگ سے ظاہر کیا ہے اور کشمیر کا پرچم بھی پاکستان کے پرچم کے ساتھ لہرایا جائے گا۔ بس اور چند بیانات دیے جائیں گے۔ کشمیر کے لیے بیک وقت اقدامات کرنے ہوں گے۔ فوج کی بڑی قابل ذکر تعداد کشمیر کی سرحد پر پہنچائی جائے۔ پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کردی جائے۔ اگر 72برس سے کشمیر کو شہ رگ کہہ رہے تھے تو آج اسے دشمن کے مکمل قبضے میں دیکھ کر اطمینان کیوں ہے۔ اسے چھڑانے کے لیے بے چین کیوں نہیں ہیں۔ عمران خان آگے بڑھیں قوم تو ان کو ٹیکس نہیں دے گی لیکن اگر وہ کشمیر پر ایمرجنسی لگا کر تمام وسائل آزادی ٔ کشمیر میں استعمال کریں تو قوم ان کے اور شبر زیدی کے مطلوبہ ٹیکس کا دس گنا زیادہ دے گی لیکن یہ حکمران جرأت تو پیدا کریں۔ احتجاج، مطالبے اور مظاہرے کرنا حکمرانوں کا کام نہیںہوتا ہے۔ ہمت ہے تو اقدام کریں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں پاکستان کو مجاہد قیادت کی ضرورت ہے۔ خوفزدہ حکمرانوں کی نہیں پاکستانیوں نے عید تو منا لی اپنے یوم آزادی پر خدارا جشن نہ منائو کشمیر کے لیے کچھ کرسکتے ہو تو کرو۔ کم از کم دعا کرلو۔ اتنا تو ہر پاکستانی کرسکتا ہے۔ اگر حکومت نے سنجیدہ اقدام نہیں کیا تو پھر گلی گلی میں جہاد بھرتی دفتر کھلیں گے پھر یہ بلا قابو میں نہیں آئے گی۔ جو کام حکمرانوں کا ہے انہیں ہی کرنا چاہیے کسی اور کو موقع نہیں دیا جائے۔ اور رات کے 12بجتے ہی پاکستان بھر میں فائرنگ اور پٹاخے پھوٹنے لگے۔ اتنی گولیاں سرحد پر جا کر چلائیں۔