غلاظتیں، آلائشیں ، گڑھے … ذمے دار کون ہیں

117

کراچی میں عیدالاضحی کے موقع پر جس طرح بدانتظامی اور نالائقی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی مثال اس ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ویسے تو پورے ملک میں ایک آدھ استثنا کے سوا یہی صورت حال ہے گٹر بہہ رہے ہیں سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں پارک ویران ہیں کچرا بکھرا پڑا ہے ہر جگہ کسی نہ کسی کو اس کا ذمے دار قرار دیا جاتا ہے اور کسی قدر وہ اپنی ذمے داری قبول کرتا ہے لیکن کراچی ایسا شہر ہے جہاں کی بدانتظامی کا کوئی ذمے دار نہیں ہے۔ کچرا اٹھانا ہو تو میئر کراچی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں کہ یہ تو سندھ سالڈ ویسٹ اتھارٹی کا کام ہے اور یہ محکمہ سندھ حکومت کے پاس ہے ہمارے پاس تو فنڈز بھی نہیں ہیں۔ جب گٹروں کی صفائی کا معاملہ سامنے آئے تو بھی فنڈز کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن معاملہ صرف ایک دو گٹر کا تو نہیں پورے شہر کے گٹر بند ہیں اندرونی گلیوں کا تو کوئی پرسان حال نہیں ذرا سی بارش میں گورنر ہائوس سے متصل سڑک ندی نالے کا منظر پیش کررہی تھی یہ کسی نالے کی بندش کے سبب ہی تھا۔ اس پانی میں اگر کوئی کھمبے کے قریب آجائے تو بجلی کا کرنٹ لگ جاتا ہے۔ اس کا ذمے دار وہی ہے جس کو کرنٹ لگ جاتا ہے کیوں کہ کے الیکٹرک نے صاف انکار کردیا ہے کہ ہم لوگوں کو کرنٹ لگنے کے ذمے دار نہیں ہیں۔ واٹر بورڈ پانی کی فراہمی کا ذمے دار نہیں ہے کیوں کہ اس کے ذمے داران کہتے ہیں کہ پانی ہے ہی نہیں تو ہم کس طرح دیں۔ ہم اس شہر کو پانی نہیں دے سکتے۔ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ پر بلدیہ کراچی پھر یہی کہتی ہے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ اس کے پاس سوئپرز ہیں لیکن یہ کیا کرتے ہیں اگر سوئپرز( خاکروب) کام نہیں کررہے تو اور بات ہے لیکن یہ تو کام کرتے نظر آتے ہیں تو پھر کچرا کیوں نہیں اٹھتا۔ سڑکوں کی مرمت کا کام صرف وہاں ہوتا ہے جہاں میئر، زونل بلدیہ کے کسی چیئرمین یا صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ کا دورہ ہونے والا ہوتا ہے ، کسی نئی سڑک کی تعمیر کی خوش خبری تو ایک عرصے سے نہیں ملی۔ جن سڑکوں کو بڑے فخر سے اپنا کارنامہ بتا یا جارہا تھا ان سب کا حال معمولی بارش نے تباہ کردیا ہے بلکہ ان سڑکوں کی تعمیر میں خرابیوں کا کچا چٹھا کھول دیا ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر اب بھی جگہ جگہ پانی جمع ہو جاتا ہے۔ لیکن اسے ٹھیک نہیں کیا جاتا۔ شاہراہ فیصل کی حالت بھی یہی ہے ائرپورٹ سے آگے تو گویا شاہراہ فیصل ہے ہی نہیں ملیر کے قریب اسے بے ہنگم طریقے سے بنایا جارہاہے لیکن اس خرابی کے ذمے دار کا بھی پتا نہیں۔ وزیر اعلیٰ ، وزیر بلدیات اور ادھر ادھر کے بھی کئی وزراء نے فوٹو کھنچوانے کے لیے شہر کے دورے شروع کردیے اور عید کے دن صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے فرمایا کہ حکومت کے پہلے سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں شہریوں کو مشکلات نہیں ہوئیں۔ اور صورت یہ ہے کہ عید سے قبل اور عید کے روز کی بارش کے بعد سے پورا شہر بارش کے پانی، گٹر کی غلاظتوں، قربانی کی آلائشوں سے بھرا ہوا ہے کہیں صفائی کے آثار نہیں ہیں میئر کے پاس فنڈز نہیں ہیں صوبائی وزیر اور وزیر اعلیٰ نے دورے کر کے صفائی کی رپورٹ دے دی۔ سب ٹھیک ہے کا خود ہی فیصلہ کرلیا۔ اور اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے اور شہریوں کا بیڑا غرق ہوگیا۔ اب غلاظتوں، آلائشوں ، گٹر اور بارش کے پانی کے ملغوبے سے بیماریوں کا خدشہ ہے اس کا ذمے دار بھی کوئی نہیں، محکمہ صحت کو بیماریوں ہی کا علم نہیں تو تدارک کے لیے اقدامات کیا کرے گا۔ حکومت نے بارش کے بارے میں اس قدر شور مچایا تھا کہ لوگ خوفزدہ تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بارش اتنی نہیں ہوئی جتنا ڈرایا گیا تھا۔ یہ خوف اسی لیے پیدا کیا گیا تھا کہ لوگ یہ نہ پوچھیں کہ پانی کیوں کھڑا ہے، حالانکہ پانی تو گٹر اور نالے بند ہونے کی وجہ سے کھڑا ہے۔ سڑکیں ٹوٹی ہونے اور ان پر گڑھوں کی وجہ سے کھڑا ہے لیکن شور مچا کر اسے بارش کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بجا سوال کیا ہے کہ اس شہر میں اتنی مصیبتیں اور پریشانیاں ہیں لیکن حیرت ہے ان میں سے کسی کا کوئی ذمے دار نہیں کسی کو اس اس کا ذمے دار نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بنیادی ذمے داری حکومت سندھ کی ہے ۔