ایس او ایس کا جواب

232

عنایت علی خان

بالآخر ظلم ِ لامتناہی اور ستم بے پایاں کے بھنور میں جاتی ہوئی کشتی کے بوڑھے ملاح سید علی گیلانی نے‘ جس نے اپنی جوانی سے لے کر اس پیرانہ سالی تک جسم و جان کی ساری توانائیاں اس ہچکولے کھاتی کشتی کو پاکستان کے ساحل مراد پر پہنچانے میں صرف کردیں‘ اس نے بھی اس کشتی کی غرقابی کے الم ناک انجام سے قبل بہری اور بے حس امت کو اپنی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کے ساتھ ایس او ایس (Save our Souls) کا تنبیہی پیغام ارسال کیا ہے جو غرقاب ہوتے ہوئے جہاز کا کپتان بے کسی اور بے چارگی کے عالم میں لاسلکی کے ذریعے دور افتادہ جہازوں، ساحلوں اور جزیروں کو بھیجتا ہے۔ سید علی گیلانی نے اپنی اجتماعی رودادِ الم ردادِ قفس نامی کتاب میں اپنے خوں چکاں قلم سے لکھ کر عالم انسانی اور بطور خاص امت مسلمہ اور بطور خاص الخاص پاکستانیوں کے جذبہ اخوت کو مہمیز کرنے کی کوشش کی تھی ساتھ ہی سعی و کاوش کو بھی قید و بند علالت اور گرتی ہوئی صحت کے باوجود جاری رکھا تھا لیکن ان کی یہ اپیل ان کی اس کیفیت کی غماز ہے کہ
شکستہ دل تھے مگر حوصلے نہ ہارے تھے
شکستہ دل بھی ہیں اور حوصلے بھی اب کے گئے
ایک جانب اس ملک کی ستم کیشیا ہیں جس کے وزیراعظم نے خود جاکر سلامتی کونسل سے فریاد کرکے قرارداد منظور کرائی تھی کہ اہل کشمیر کو خود اپنی قسمت کا فیصلہ استصواب کی شکل میں کرنے کا اختیار دیا جائے گا پھر خطرہ ٹل جانے کے بعد پوری مکاری سے اس مسئلے کو تاخیر کے حربے سے ٹالتا رہا، پھر اگر کسی گروہ کے دل میں ضمیر کی کھٹک محسوس ہو تو بھارت کے حلیف روس نے اس کی پیش کردہ ہمدردانہ قرارداد کو پوری بہیمیت سے ویٹو یعنی مسترد کردیا اور اس کی صدا کمزور ہونے پر ہندوستان کی حمایت اور پاکستان کو اپنی ستم رانی کا نشانہ بنانے کا کام وقت کی سپر طاقت امریکا نے سنبھال لیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی قراردادیں ایسی ہی بے اثر ہوتیں تو سوڈان اور انڈونیشیا کے عیسائی اکثریت کے علاقوں کو دو سال کی قلیل مدت میں ان قرارداوں کے مطابق حق خود ارادی کے تحت آزادی کیسے میسر آگئی۔ جواب یہ ہے کہ مسئلہ عیسائی اکثریت کا تھا اور کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اس پر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جملہ غیر مسلم قوتیں متفق ہیں، بمصداق حدیث مبارک الکفر ملت واحدہ۔ لیکن حدیث کے دوسرے حصے یعنی والاسلام ملت واحدہ کی نظیر پورے عالم اسلام میں کہیں نظر نہیں آتی۔ اسی قاعدے کلیہ کے تحت غیر مسلموں سے توقع ہی عبث تھی گلہ تو اپنوں سے ہے کہ ؎
زمانے کی شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے
مگر تم نے تو یہ دل کی صدا پہچان لی ہوتی
یا دوسرے الفاظ میں
شکوہ اپنوں سے کیا جاتا ہے غیروں سے نہیں
پھر اپنے بھی وہ اپنے کشمیر جن کے وجود کا فطری حصہ ہی نہیں اپنوں کے قائد نے اسے ملک خداداد کی شہ رگ سے تشبیہ بلیغ دی تھی لیکن تف ہے ہمارے حکمرانوں پر جو زبانی کلامی تو قائد کے نائبین مسلم لیگی کہلاتے ہیں لیکن جنہوں نے اس شہ رگ کے تحفظ کے بجائے اسے کاٹنے کے درپے بھارت کے ساتھ اپنی نیاز مندی اور دوستی کی روش ذاتی مفادات کے تحت جاری رکھی اور روتے اور بلکتے کشمیر کی سسکیوں کے لیے اپنے کان بند کرلیے یہ نہ سوچا شہ رگ کے خدا نخواستہ کٹ جانے کے نتیجے میں جسد مملکت کی بقا کا کیا امکان باقی رہ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان اور امت مسلمہ کی بے حسی کے نتیجے میں بے سہارا کشمیری مسلمانوں کی کلی جینو سائڈ نسل کشی کا بھارت کا پروگرام اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا۔ ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش جو افغانستان میں اپنے مفادات کی بقا کے لیے پاکستان کے ناگزیر تعاون کا محتاج ہے، اس کی پیش کش کو ہمارے حکمرانوں نے پکے پھل کے ازخود گود میں گرنے پر شادیانے بجائے ان شادیانوں کی آواز بھی بھارت کے زبانی استرداد اور عملاً سات لاکھ قاتلوں میں مزید قاتلوں کے اضافے اور زبانی اٹوٹ انگ کو دستوری اٹوٹ بنانے کی آئینی دفعہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کرلیا اور پاکستان کے کسی ردعمل کے اظہار سے قبل ہی وادیٔ نیلم پر کلسٹر بم گراکر جو جنیوا قانون کے تحت جنگ میں بھی شہری آبادی پر نہیں آزمایا جاسکتا پاکستان کو تنبیہ کردی کہ آگے بڑھنے میں خطرہ ہے۔ اب ہمارے وزیر خارجہ نے او آئی سی سے اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن او آئی سی کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا؟
پس چہ باید کرد پاکستانیاں۔ اب کرنے کو کیا رہ گیا ہے اگر عالم انسانی سے اس ظلم ستانی کے سدباب کی کچھ امید ہے تو اس کی نفی ستر سال قبل سلامتی کونسل کی قرارداد کی بے اثری کرتی ہے۔ رہیں غالب عالمی طاقتیں تو انہوں نے پہلے ہی اپنے مفاد کے تحت امت مسلمہ کو علامہ اقبال کے قول کے مطابق ؎
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
پارہ پارہ جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز
پھر اپنے توسیعی عزائم اور فروخت اسلحہ کی خاطر انہیں باہمی جنگ و جدل میں مبتلا کرکے اپنا تابع بنانے کی اسکیم شروع کی ہوئی ہے، تو پاکستان اور امت مسلمہ جس کے بارے میں ارشاد رسول ہے کہ وہ ایک عمارت کی مانند ہے جس کے تمام حصے ایک دوسرے کے استحکام کا سبب ہیں، یہ فیصلہ کرلے کہ جس طرح ہندوستان نے ہمارے جسد مملکت کا شمالی حصہ اپنی ریشہ دوانیوں اور پھر ننگی جارحیت کے ذریعے ہم سے جدا کردیا یہی نسخہ آج اس کے خلاف آزمایا جائے کہ سید علی گیلانی کے ایس او ایس کا جواب اس کے سوا کوئی اور نہیں اور جس کی پیش گوئی آج سے ساٹھ سال قبل مولانا مودودیؒ نے یہ کہہ کر فرمائی کہ مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جہاد چنانچہ آج حالات کا پیش منظر بآواز کہہ رہا ہے کہ ؎
وقت کے فرعون نے برپا کیا ہے پھر فساد
پھر دلائے ہیں ہمیں بھولے ہوئے دو حرف یاد
اتحاد و اتحاد و اتحاد و اتحاد
الجہاد و الجہاد و الجہاد و الجہاد
یوں تو ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کی طفل تسلی کے لیے ایک کشمیر کمیٹی بھی بنائی ہوئی ہے جس کی کیفیت یہ رہی ہے کہ ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔
اگر مسئلے کی قومی، ملکی اور ملی اہمیت کے پیش نظر اس کمیٹی نے اپنا کام اخلاص اور خداترسی سے کیا ہوتا تو آج بعض عالمی اداروں کی طرف سے جو حمایت کی جارہی ہے اس کی ابتدا ساٹھ سال پہلے ہوگئی ہوتی اور کشمیریوں کی مظلومیت کا ازالہ ہوچکا ہوتا ؎
وقت پر قطرہ تھا کافی ابر خوش ہنگام کا
جل گیا جب کھیت مینہ برسا تو پھر کس کام کا
اللہ تعالیٰ تو بے نیاز ہیں ان کی عبادت اور تسبیح کے لیے تو کروڑوں فرشتے موجود ہیں بلکہ کائنات کی ہر شے اس کی تسبیح میں مصروف ہے، لیکن بقول علامہ اقبال یہ اسلام کی منفعلی قسم ہیں اس کی اقدامی شکل دعوۃ اسلام کرنے والوں کی باطل کے خلاف جدوجہد ہے بقول ان کے ؎
یا وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہب ملا جمادات و نباتات
اگر اسپین سے 8سو سال کے اقتدار کے بعد مسلمانوں کی بدعملی اور بداعمالیوں کے نتیجے میں آج مسجد قرطبہ میں اذان دینا اور سجدہ ریز ہونا جرم ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان میں ذرہ برابر کمی واقع ہوگئی ہے۔ ہاں مفاد پرستی اور نسل پرستی کے جس عفریت نے اسپین کے مسلمانوں کو نگل لیا تھا آج بھی ایسے واقعات فاجعات رونما ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ خطہ کشمیر کے مسلمان اگر جدوجہد کے بعد اپنے خدا کے حضور، شہدا کی شکل میں پہنچتے ہیں تو اس سے بڑھ کر اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔ مسئلہ تو بقول سید علی گیلانی کے ہم بدبخت پاکستانیوں اور دیگر اسلامی ملکوں کے لوگوں بطور خاص حکمرانوں کا ہے کہ جب روز حشر ان سے سوال ہوگا کہ جسد ملت کا ایک حصہ خوں گشتہ تھا تو دوسرا حصہ بخار اور بے خوابی میں کیوں مبتلا نہیں ہوا تھا؟ دنیاوی ذلت و خواری تو ہے ہی آخرت کی رسوائی اور دینی تقاضوں سے انحراف کا جو انجام ہوگا، کاش ایک بوڑھے مجاہد کی پکار ہی امت مسلماں میں یہ شعور بیدار کرسکے۔