روداد سفر اور جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ۱۹۵۷ء(باب دہم)

56

کل پاکستان اجتماع اراکین ماچھی گوٹھ (۱۹۵۷ء)
(i) ۱۷؍فروری تا ۲۱؍فروری ۱۹۵۷ء
ماچھی گوٹھ‘ صادق آباد‘ رحیم یار خان
ماچھی گوٹھ صادق آباد (رحیم یار خان) کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہاں جماعت اسلامی کے ارکان کے اجتماع کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہوگئی۔ یہ اجتماع صرف اراکین جماعت کا تھا اور اس میں متفقین اور عام سامعین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس اجتماع میں جماعت کے کل ۱۲۵۵ اراکین میں سے نو سو چھیالیس اراکین شریک ہوئے تھے۔ یہ اجلاس جماعت کے تنظیمی و دستوری مسائل‘ پالیسی اور پروگرام طے کرنے کی غرض سے منعقد کیا گیا تھا۔اس اجتماع میں جماعت کا نصب العین‘ طریق کار اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ جماعت اسلامی کا موجودہ دستور بھی اراکین جماعت کے اسی اجتماع عام کی ہدایات اور قراردادوں کے مطابق مرتب کردہ ہے۔ ’’تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل‘‘ کے نام سے جماعت کا پروگرام تنظیمی اور دستوری لائحہ عمل ایک کتابی شکل میں الگ سے شائع کیا جاچکا ہے۔
(ii)۔ مولانا مودودیؒ کا استعفا
۱۹۵۶ء میں دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منظوری اور نفاذ کے بعد جماعت اسلامی کے ایک اہل رائے طبقے کی یہ تجویز سامنے آئی کہ اب ہمیں اپنی قوتیں سیاسی میدان میں جھونکنے کے بجائے عام معاشرے کی اصلاح‘ دعوت و تبلیغ اور اشاعت دین کے کام میں ہمہ تن مصروف ہوجانا چاہیے۔ اس طرح جیسے جیسے معاشرے کی اصلاح ہوتی جائے گی‘ سیاسی حالات خود بخود تبدیل ہوتے جائیں گے اور عملی میدان میں خاطر خواہ پیش رفت ہوتی جائے گی۔
اس اختلاف رائے کا جائزہ لینے اور جماعت کے آئندہ لائحہ عمل اور جماعت کی پالیسی بنانے کے لیے شوریٰ کی ایک ’’جائزہ کمیٹی‘‘ بنادی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں فکر مندی کے قیمتی آثار کے باوجود‘ مبالغہ آمیز حد تک یک رخا پن تھا‘ جو ماضی کے کام اور موجودہ صورت پر غیر متوازن تبصرے کے باعث‘ تحریک میں بے چینی کا سبب بن گیا۔ اس پیدا شدہ صورت حال میں مولانا مودودیؒ نے جماعت کی امارت سے استعفا دے دیا اور کہا کہ وہ آئندہ سے ایک عام کارکن کی حیثیت سے ہی کام کریں گے۔
بحیثیت امیر جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کی اپنی رہائی کے بعد سے خود جماعت میں ایک نئی مخالفانہ روش کا سامنا کررہے تھے۔ وہ اپنی ذات اور جماعت پر حملے تو وہ روز اوّل سے برداشت کررہے تھے‘ مگر یہ نئی مخالفانہ لہر اپنوں کی نوازشیں تھیں۔ جس میں انہوں نے تحریک کی بقا کی خاطر استعفا دے دیا‘ تاکہ ان کی ذات کام میں وجہ نزاع نہ بنے۔ مولانا کے استعفے کے بعد چودھری غلام محمد کو قائم مقام امیر جماعت مقرر کیا گیا۔ جماعت کے سیاست میں حصہ لینے اور مولانا مودودیؒ کے استعفے پر غور کرنے کے لیے یہ طے ہوا کہ یہ معاملہ عام اجتماع ارکان میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت قائم مقام امیر جماعت اسلامی چودھری غلام محمد نے کی۔ مولانا مودودیؒ دوسرے ارکان کے ہمراہ دری پر تشریف فرما تھے۔ یہ اجلاس اراکین کی حاضری کے لحاظ سے ایک ریکارڈ ہے۔ مالی مشکلات کے باوجود ارکان کی غیرمعمولی تعداد اس میں شریک ہوئی‘ جن میں خواتین بھی تھیں۔ بیمار اور ضعیف حتیٰ کہ دو ایک نابینا رفیق بھی شریک ہوئے۔ یہ اجلاس ایسے عالم میں ہوا جب کہ ارکان جماعت سخت ذہنی اضطراب اور غیر یقینی صورت حال سے دو چار تھے‘ مگر اس کے باوجود بڑے صبر وسکون اور نظم و ضبط کے ساتھ اجلاس کی کارروائی پانچ دن تک جاری رہی۔
(iii)۔ استعفے کے بارے میں متفقہ قرارداد
اس اجلاس کی اہم غایت امیر جماعت کی حیثیت سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب کے استعفے اور اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کرنے‘ جماعت کی پالیسی کے چار نکاتی لائحہ عمل‘ دعوت الی اللہ‘ توسیع و تنظیم‘ اصلاح معاشرہ اور اصلاح ادارہ حکومت کے چاروں اجزا پر نظر ثانی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور وخوض کرنا تھا۔
ارکان جماعت نے کافی بحث اور غور وخوض کے بعد استعفے کے بارے میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی‘ جسے قائم مقام امیر جماعت چودھری غلام محمد نے اجتماع ارکان میں پیش کیا۔ قرارداد کے اہم نکات مندرجہ ذیل تھے:
۰ جماعت اسلامی کے اراکین مولانا مودودیؒ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کے استعفے نے جماعت کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ اس حالت کا مزید جاری رہنا جماعت اور تحریک کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
۰ مولانا مودودی کے قائم کردہ کام کے معیار اور امارت و رہنمائی کا ان کا رائج کردہ تصور اس بات کا متقاضی ہے کہ مولانا کی صحت کی کمزوری اور مشکلات کے باوجود‘ امارت کی ذمے داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے موصوف ہی سے اصرار کیا جائے۔
۰ جماعت کے جملہ اراکین‘ داعی اول کی حیثیت سے اب تک ان کی اطمینان بخش منصوبہ بندی اور کارکردگی کو سامنے رکھ کر جب امارت کے مسئلے پر غور کرتے ہیں تو ان کی نگاہ ہر طرف گھوم پھر کر مولانا محترم کی ذات پر جاکر ٹھیرتی ہے۔
(جاری ہے)