کے الیکٹرک نے اپنی تنصیبات کو خود ہی خطرناک قرار دے دیا

114

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) کراچی کے 25 لاکھ خاندانوں کے مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ افراد کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’’کے الیکٹرک‘‘ نے اپنی تنصیبات کو خود ہی خطرناک دے کر بارشوں کے دوران احتیاط کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں میں مزید خوف پیدا ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ ” کے الیکٹرک ” کا ٹیکنیکل نظام ناقص ہونے اور اسے بہتر نہ
بنائے جانے کی وجہ سے نہ صرف بارشوں بلکہ عام دنوں میں بھی کرنٹ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اہم اور قابل دلچسپ ہے امر یہ ہے کہ” کے الیکٹرک ” اپنی تمام خامیوں کے ساتھ تنہا ادارہ نہیں ہے بلکہ اس کی فادر آرگنائزیشن “دی ابراج گروپ ” کے ساتھ اس سے منسلک 13 دیگر کمپنیز بھی ہیں۔ کے الیکٹرک کی اپنی ویب سائٹ میں ان اداروں کو اپنے ” منسلک ادرے “ظاہر کیا ہوا ہے ان میں پورٹ قاسم اتھارٹی ، داود انجینئرنگ یونیورسٹی ، نیسپاک ، پروکلیڈ گروپ لمیٹڈ ، یو اے ای ، الجمعیہ ہولڈنگ کمپنی (سعودی عر ب) ، انٹراا سٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ ، پاک عمّان انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ ، ایجوکیشن سٹیپاتھ فائنڈر گروپ پاکستان ، کراچی کونسل آن فارن ریلیشن(کے سی ایف آر)، ال شہیر کارپوریشن لمیٹڈ ، نیشنل انڈسٹریز گروپ(ہولڈنگ)، کویت اور رمز کیپٹل لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔ کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین بھی ممتاز دفاعی تجزیہ کار اکرام سہیگل ہیں۔ صارفین کو تعجب ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف متعدد شکایات کے باوجود نہ تو متعلقہ ادارے کسی قسم مزاحمت کرتے ہیں اور نہ ہی بورڈ کے چیئرمین اور اراکین کچھ کرتے ہیں۔ کے الیکٹرک کے بارے میں مختلف کرپشن کے معاملات اجاگر کرنے والے انجینئر انیل ممتاز کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے آنے کے بعد کراچی کا بجلی کا نظام پہلے سے زیادہ خراب ہوگیا ہے ان کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے الیکٹرک کی انتظامیہ سے مفادات حاصل کرتے ہیں اس وجہ سے اس ادارے کے خلاف کوئی فوری کارروائی نہیں کی جاتی۔ انیل ممتاز نے کہا کہ بارشیں پہلے بھی ہوا کرتی تھیں لیکن اس طرح کے کرنٹ لگنے کے واقعات نہیں ہوا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک مرمت کے نام پر بھی بجلی بند کرکے دہرے فائدے حاصل کرتی ہے لیکن مینٹینس نہیں کرتی بلکہ اس دوران بجلی بچائی جاتی ہے اور ساتھ ہی میٹرز کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بارشیں رحمت ہوا کرتی ہیں لیکن کے الیکٹرک کے ناقص نظام نے اسے زحمت اور خوف کی علامت بنادیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کے دور میں بارشوںکے دوران بھی عملہ کام کیا کرتا تھا لیکن اب تو عملہ ہی غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار نظر آتا ہے ۔ صارفین نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو کے الیکٹرک سے نجات دلائیں۔