عدن میں پریزیڈنشل گارڈز کے کیمپ پر جھڑپیں‘ 30 ہلاک

62
عدن: فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث مختلف مقامات پر دھواں اٹھ رہا ہے
عدن: فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث مختلف مقامات پر دھواں اٹھ رہا ہے

عدن (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں ایوان صدر کی محافظ بریگیڈ کے کیمپ میں فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہوگئے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب عدن میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ جبل حدید، خور مکسر اوردیگر مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ صدارتی محافظ بریگیڈ کے ہیڈکواٹرز اور اس کے اطراف میں متحارب فریقین مختلف نوعیت کا اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ہونے والی لڑائی میں 8 عام شہری بھی مارے گئے۔ یہ جھڑپیں عدن میں فوجی اور علاحدگی پسندوں کے درمیان جاری ہیں۔ تشدد کا سلسلہ گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا جب یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حلیف جماعت پر علاحدگی پسندوں نے ساحلی شہر میں ایک فوجی پریڈ پرحملے میں معاونت کا الزام عائد کیا۔ اس حملے میں کم سے کم 36 افراد مارے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عدن میں جاری کشیدگی پر عرب لیگ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری عدن میں کشیدگی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عرب لیگ کی طرف سے عدن میں تمام متحارب فریقوں سے تحمل سے کام لینے اور مصالحانہ طریقہ کار اپنانے پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب یمن میں جنوبی قومی اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے عدن میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اسے ان واقعات پر گہری تشویش ہے۔ اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ اس شر انگیزی کی منصوبہ بندی اور اسے بھڑکانے میں باغی حوثی ملیشیا کا ہاتھ ہے۔ جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی یمن میں جھڑپوں کا قلع قمع کیے جانے اور وسیع پیمانے پر مذاکرات کی اپیل کی ہے۔