غاصب سے مذاکرات کی تلقین!

173

یہ امر اب واضح ہوچکا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارت نے جو کچھ بھی کیا اس پر پاکستا ن نے صرف مرثیوں کی حد تک ہی ردعمل کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوڑ دھوپ جاری ہے ۔بیرونی ممالک کے دورے کیے جارہے ہیں اور وہاں سے اپنے حق میں بیانات دلوائے جارہے ہیں ۔ بھارت نے بڑا قدم اٹھایا اور آگے بڑھ کر زیر قبضہ جموں و کشمیر کو ہڑپ کرگیا ۔ طے کیے گئے معاملات کے مطابق امریکااور اقوام متحدہ سے بیانات آنا شروع ہوگئے ہیں کہ طرفین پرامن رہیں اور معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں ، یہ بیانات دینے والے اور ان بیانات پر من و عن عمل کرنے والے یہ نہیں بتارہے کہ گزشتہ 72 برسوں میں ان پرامن مذاکرات کا ماحصل کیا ہے ۔ کیا بھارت نے اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل کیا ۔ کیا کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے کبھی کوئی عملی قدم اٹھایا گیا ۔تقریبا پون صدی کا ماضی گواہ ہے کہ بھارت کے ساتھ پرامن مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہونا تو پھر امریکا و اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی تلقین کیوں اور پاکستان کی جانب سے اس پر عمل کیوں ۔ یہ ایک سیدھا سادا سا معاملہ ہے کہ بھارت نے پاک سرزمین پر قبضہ کیا ہوا تھا اور پاکستان اقوام متحدہ اور امریکا کی تلقین کے مطابق اس معاملے کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا تھا ۔ اب بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس علاقے کو اپنی ریاست میں ضم کرلیا ہے ۔ بجائے اس کے کہ بھارت پر زور ڈالا جاتا ، پاکستان ہی کو کہا جارہا ہے کہ صبر سے کام لو ۔ یہ تو پاک سرزمین کے خلاف جارحیت کا معاملہ ہے ۔ یہی بھارت بلا کسی جواز کے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں اندر لے آیا تھا اور اس نے پاکستان کو دو لخت کردیا تھا تو کسی نے نہیں کہا کہ فوجی پیش قدمی سے کام نہیں ہوگا۔ اسی امریکا نے افغانستان ، عراق، شام اور لیبیا میں اپنی فوجیں بلا کسی معقول جواز کے اتار دیں تب بھی کسی نے امریکا کو کچھ نہیں کہا ۔ مگر جب پاکستان کی شہ رگ پر بھارت نے قبضہ کرلیا ہے تو سب امن کے راگ الاپتے ہوئے پاکستان ہی کے ارد گرد رقصاں ہیں اور پاکستان ہی کو خوفناک نتائج سے ڈرا رہے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی اندرونی قوتیں باہر والوں سے زیادہ اس امر کی وکالت کررہی ہیں کہ جنگ بہت خوفناک چیز ہے ۔ شہباز شریف کے اس بیان کے بعد کہ کشمیر کو فروخت کردیا گیا ہے ، بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔لاہور میں یوم آزادی پر جو نقشے پینا فلیکس پر لگائے گئے ہیں ان میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو پاکستانی نقشے سے خارج کردیا گیا ہے ۔ پاکستان میں وفاقی کابینہ نے جس طرح سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے بیان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے ، اس سب سے یہ ظاہر ہے کہ شہباز شریف کے بیان پر شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ پاکستان کوئی ایسا قدم بھی اٹھانے پر تیار نہیں ہے جس سے بھارت کے معاشی مفادات پر زک پڑتی ہو ۔ بھارت کے ساتھ تجارت پر پابندی کا فیصلہ کرنے میں پاکستان کو پانچ دن لگے ۔ جمعہ تک بلا روک ٹوک بھارت سے تجارتی سامان پاکستان میں آتا رہا ۔ اب بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے بہانے بھارتی سامان کی پاکستان میں ترسیل جاری ہے ۔ پاکستان بھارت کی فضائی کمپنیوں کی پاکستانی فضائی حدو دمیں آمدو رفت تک پر تو پابندی سے گریزاں ہے ۔ اگر پاکستان نے کشمیر کا واقعی سودا کرلیا ہے اور مقتدر قوتوں نے اسے خوش دلی سے تسلیم بھی کرلیا ہے جس پراب شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے تو کم ازکم پاکستانی قوم کو تو آگاہ کیا جائے کہ کس نے کتنی قیمت وصول کی ۔ صاف صاف کشمیریوں کو بھی آگاہ کردیا جائے کہ وہ پاکستان سے الحاق کی تحریک کو خیر باد کہہ دیں ۔ یہ کشمیری روز بھارتی کرفیو کو توڑ کر پاکستان کا پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پاکستان کے نعرے بلند کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ۔ 5اگست سے لے کر اب تک درجنوں کشمیریوں کو بھارتی فوج شہید کرچکی ہے جبکہ سیکڑوں زخمی اور ہزاروں گرفتار ہیں ۔ اس کے بجائے وہ چاہیں تو ایک آزاد ریاست کی ضرور تحریک چلاسکتے ہیں جو ان کا حق ہے ۔ بہترہوگا کہ پاکستان نمائشی اقدامات بھی بند ہی کردے کہ وفود کو بیرونی ممالک کشمیر کے نام پر سیر سپاٹے کے لیے بھیجا جارہا ہے جس پر قوم کے مزید کئی ارب روپے خرچ ہوجائیں گے ۔ دوست ممالک کو بھی خواہ مخواہ آزمائش میں ڈالا جارہا ہے ۔ جب پاکستان کا بھارت سے کشمیر پر کوئی اختلاف ہی نہیں ہے اور خوشی خوشی مقبوضہ کشمیر بھارت کے حوالے کردیا گیا ہے تو بھارت کے خلاف نمائشی اقدامات بھی ختم کیے جائیں اور اسے دوبارہ سے سب سے زیادہ پسندیدہ ملک کا درجہ دے دیا جائے ۔ پاکستانیوں کو افسوس اس بات کا نہیں ہے بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ کرلیا ہے اور آئندہ کسی بھی وقت وہ بقیہ پاکستان کو زندگی سے محروم کرسکتا ہے ، پاکستانیوں کو افسوس اس بات کا ہے کہ بھارت کو یہ سب کچھ کرنے میں مدد پاکستان سے ہی کی گئی ۔میر جعفر اور میر صادق کی فہرست مزید طویل ہوگئی ہے ۔ اب عمران نیازی اور شاہ محمود قریشی دوڑ دھوپ کرتے رہیں گے اور آخر میں کہیں گے کہ کیا کریں مودی مان ہی نہیں رہا ہے ۔