کشمیر پر بھارتی قبضہ

184

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مقبوضہ کشمیر باقاعدہ طور پر بھارت میں شامل کرلیا گیا ہے اور وہ اس کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ امر اس بناء پر حقیقت نہیں ہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 کا غیر قانونی طور پر خاتمہ کردیا ہے۔ غیر قانونی طور پر اس لیے کہ بھارتی آئین کی رو سے اس آرٹیکل کے خاتمہ کے لیے ریاستی اسمبلی کی بھی منظوری ضروری تھی مگر اس وقت تو ریاست میں کٹھ پتلی اسمبلی بھی موجود نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جنہیں بھارت نے بھی تسلیم کیا ہے اور ان پر دستخط بھی کیے ہیں، بھارت کو یہاں پر استصواب رائے کروانا تھا تاکہ کشمیری خود یہ فیصلہ سنا سکیں کہ انہیں بھارت کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا پاکستان کے ساتھ یا پھر وہ ایک آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔
کشمیر ی اب ہمیشہ کے لیے بھارتی تسلط میں چلے گئے ہیں، یہ تلخ حقیقت اس لیے تسلیم کرنا پڑے گی کہ پاکستان کی مقتدر قوتوں نے اسے نہ صرف تسلیم کرلیا ہے بلکہ وہ اس ناپاک سازش میں برابر کا حصہ بھی ہیں۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ کوئی ایک دن کی بات نہیں ہے۔ مودی کی انتخابی مہم کا یہ بنیادی نعرہ تھا اور دوبارہ سے اقتدار میں آنے کے بعد مودی نے اس پر علی الاعلان کام بھی شروع کردیا تھا۔ اس طرح کے فیصلے اچانک نہیں کرلیے جاتے بلکہ ان کے نفاذ کے لیے برسوں کی تیاری درکار ہوتی ہے۔ جس طرح جنگ شروع کرنے سے پہلے سامان حرب و رسد جمع کیا جاتا ہے۔ سرحدوں تک فوج کی نقل و حرکت کے لیے ہی ہزاروں گاڑیاں درکار ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں کے لیے ایندھن اور سرحد پر پہنچائی گئی فوج کے لیے درکار کھانا ہی مہیا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ آج کے زمانے میں جنگ صرف ایک ملک کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس سے قبل دوست ممالک کو آگاہ کرنا ہوتا ہے، سفارتی محاذ پر سرگرمی دکھانا ہوتی ہے۔ امریکا جیسے ملک کو بھی دیگر ممالک پر حملے سے قبل اپنے دوست ممالک کو بہت پہلے اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔ امریکا نہ صرف اپنے دوست ممالک کو اعتماد میں لیتا ہے بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ چاہے علامتی طور پر ہی صحیح، دوست ممالک کی اس جنگ میں شرکت بھی ہو تاکہ وہ سفارتی محاذ پر تنہا نہ ہو۔
کچھ ایسی ہی صورتحال بھارت کے ساتھ بھی تھی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے قبل اس نے مہینوں پہلے تیاری شروع کردی تھی۔ پلوامہ واقعے کا ڈراما کر کے ماحول بنایا گیا تاکہ اس کی آڑ میں وہاں پر اپنی فوجی تنصیبات کو پہنچا سکے اور انہیں متحرک کرسکے۔ پاکستان کے ساتھ سرحدی جارحیت کا کھیل کھیلا گیا تاکہ روز فوجیوں کے قافلے مقبوضہ ریاست میں داخل ہوسکیں۔ جب زمینی طور پر ساری تیاریاں مکمل ہوگئیں تو مقبوضہ ریاست کو ہڑپ کرنے سے قبل سارے ہی بااثر ممالک کو اعتماد میں لیا گیا۔ جس کے بعد 5 اگست کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔
اس اقدام کے نتیجے میں بھارت کو دو قسم کے ردعمل آنے کا خوف تھا۔ ایک وادی کے اندر سے اور دوسرا وادی کے باہر پاکستان سے۔ وادی کے اندر کے ردعمل کی بھارت کو کوئی فکر نہیں ہے۔ اس صورتحال سے وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نمٹ رہا ہے۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا بھارت کے دوست اسرائیل کو بھی ہے اور اب یہ دونوں اس صورتحال کے عادی ہوگئے ہیں۔ ویسے بھی وادی میں جو بھی شورش برپا ہو، اس کا بھاری نقصان وادی کے لوگوں ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں کو بھارت ہی میں مصروف رکھا ہے۔ اگر یہ آگ کشمیر سے نکل کر نئی دہلی یا پنجاب تک پہنچتی تو ضرور بھارتی حکومت کو اس کی فکر ہوتی۔ ویسے بھی بھارتی حکومت نے اس کا پہلے سے بندوبست کررکھا تھا۔ یعنی پوری وادی کا محاصرہ، فوجی لاک ڈاؤن، غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو، فون، موبائل فون اور انٹرنیٹ سمیت ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ منقطع۔ ایسی صورت میں وادی کے لوگ کرفیو توڑنے اور احتجاجی مظاہرے کرنے کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں۔ سو اس کے لیے بھی بھارت کے پاس ترکیب ہے کہ یہ مظاہرے محدود پیمانے پر کرنے دیے جائیں اور کشمیریوں کو تھکا کر شکست دینے کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ کشمیری عسکری جدوجہد کو روکنے کے لیے پہلے ہی سے بھارت نے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر پیش بندی کرلی ہے کہ کشمیری مجاہدین کو باہر سے اسلحہ وکمک نہ ملنے پائے۔ کسی بھی ملک کے خلاف مسلح جدوجہد آسان بات نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی نہ کسی ریاست کی مدد درکار ہوتی ہے تاکہ اسلحہ، بارود اور مالی معاونت مل سکے۔ اس کے بغیر دنیا میں کہیں پر بھی کوئی مسلح جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ پاکستان کے پڑوس افغانستان کی 1979 سے لے کر اب تک کی مسلح جدوجہد کا جائزہ لیں یا پھر سعودی عرب کے پڑوس یمن میں حوثی ملیشیا کو دیکھیں، لیبیا کی حفتر ملیشیا کو دیکھیں یا پھر داعش کو ہی دیکھ لیں۔ ان سب کے اعلانیہ و خفیہ مددگار موجود ہیں۔
کشمیری مجاہدین کا واحد پشتیبان پاکستان ہی تھا، سو اس کے لیے ہر طرح کی ترکیب کی گئی۔ پاکستان کے اندر سے بھی اور باہر سے بھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب پاکستان نے کشمیری مجاہدین کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ اس طرح اب کشمیر کے اندربھارت کو کسی ایسی مسلح جدوجہد کا خوف نہیں ہے جو اس لے لیے کسی پریشانی کا باعث بن سکے۔ جہاں تک کشمیر یوں کے سینے میں جلنے والی حریت کی شمع کا تعلق ہے، اسے فلسطین کی ترکیب سے قابو کرلیا جائے گا۔ بیس تیس برسوں کے بعد آنے والی کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے بجائے اپنے معاشی و سیاسی حقوق کی بات کررہی ہوگی۔ سو اس میں فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔
بھارت نے اس اندرونی ردعمل کو تو قابو کرلیا مگر اس کے لیے سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی جانب سے آنے والا بیرونی ردعمل تھا۔ اگر پاکستان بھارت پر حملہ کردے تو پوری دنیا میں تھرتھری دوڑ جائے گی کہ پہلی مرتبہ دو ایٹمی طاقتیں یوں ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار ہوں گی اور اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے۔ اس جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کی ساری طاقتیں میدان میں آجاتیں اور معاملہ 5 اگست سے پہلے کی پوزیشن پر لانا پڑتا۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے ہی کروانا پڑ جاتا۔ اس اہم ترین خطرے سے نمٹنے کے لیے بھارت نے کیا ترکیب کی۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔