امت نفرتیں ختم اور خود کو سیاسی طور پر مضبوط کرے ، خطبہ حج

147
لاکھوں مسلمان میدان عرفات میں جبل رحمت کے اطراف موجود ہیں
لاکھوں مسلمان میدان عرفات میں جبل رحمت کے اطراف موجود ہیں

 

مکہ المکرمہ(خبر ایجنسیاں)امام کعبہ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ نفرتوں کو مٹا دے، مسلمان اپنے آپ کو سیاسی طور پر مضبوط کریں، اسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق ہے، اللہ غرور اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے ،نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے، قرآن میں فرمایا گیا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے اور جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں۔ انہوں نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لیے بنایا، مسلمانوں کو تقوی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ کی توحید اور وحدانیت کو مضبوطی سے پکڑنا چاہیے، جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے دنیا و آخرت کے ڈر سے نجات دلاتا ہے، اے عقل والو! اللہ کی اس کائنات اور اس کے نظام پر بار بارغور کرو، اللہ تعالی کی رحمت بہت وسیع ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ آج اپنی نعمت کو پورا کر دیا، اللہ نے قرآن میں فرمایا، آج کے دن ہم نے دین مکمل کر دیا، نجات کا راستہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں
ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا جدا جدا راستے نہ اختیار کیے جائیں، امت مسلمہ میں جس قدر محبت ہوگی اسی قدر امن ہوگا۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ ماہ رمضان میں رحمتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، قرآن میں فرمایا گیا اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے، نبی کریم ﷺ نے مسلم امہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیا، اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کے بعد رشتے داروں سے اچھا رویہ اختیار کریں، نبی کریمؓ نے فرمایا، تم زمین والوں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم فرمائے گا، رحم دلی سے آپس میں تعاون اور بھائی چارہ قائم کرو، امت کو چاہیے ایک دوسرے سے شفقت کا معاملہ رکھے، نفرتیں ختم کرے، انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں۔ خطبہ میں کہا گیا کہ تمہارے پاس اللہ کی دلیل آ چکی ہے، اے عقل والو!اللہ کے نظام پر بار بار غور کرو۔انہوں نے حجاج کرام سمیت تمام امتِ مسلمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اللہ کی اس نعمت اور فضل پر خوب خوشیاں منائیں، قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کی خصوصی رحمت اور فضل کے باعث انسان جنت میں داخل ہوگا، تقوی کا راستہ اختیار کرنے میں ہی فلاح ہے، اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہیں، تلاوت قرآن پاک کی عادت بنائیں، جو اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اللہ اسے پاکی عطا فرماتا ہے، فرض نماز کی پابندی کرو، نماز اسلام کا اہم رکن ہے، بیشک اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے، اللہ کی رحمت سے ہی ہم شیطان کے وسوسوں سے بچے رہتے ہیں، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، مومن ایک دوسرے کے لییمغفرت کی دعا کرے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ نماز قائم کریں، برائی کو روکیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اہل ایمان اللہ سے رحمت مانگیں، فرشتے اہل ایمان کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں، غلطیاں معاف کرنے سے بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں، حجاج کرام! آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے، حجاج کرام دعا میں مشغول رہیں، سب کے لیے دعائیں کریں، نبی کریم ﷺ نے بچوں کے ساتھ رحم دلی کی تلقین فرمائی ۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نے حجاج کے لیے بہت خدمات انجام دی ہیں، سعودی حکومت کی کوشش سے حجاج کو ہرقسم کی سہولت مل رہی ہے۔مفتی اعظم نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظمین اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبے کے آخر میں مسلم امہ کو تلقین کی کہ تلاوت قرآن پاک کو اپنی عادت بنائیں، اللہ کی رحمت کی طرف توجہ کریں، آج کے دن اپنے اور اپنے رشتے داروں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔انہوں اللہ کے حضور تمام امت مسلمہ کے اتحاد اور مسلمان مرحومین کے لیے دعائے مغفرت بھی فرمائی۔انہوں نے سعودی عرب میں حاجیوں کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں، بہترین انتظامات کرنے والے منتظم اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔انہوں نے خادم الحرمین شرفین سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے بھی دعائے خیر کی۔سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین میدان عرفات میں جمع ہیں انہوں نے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ سنا۔گزشتہ روز منی میں قیام کے بعد عازمین ہفتے کی صبح 9ذی الحج کو میدان عرفات میں جمع ہیں جہاں وہ حج کا رکن اعظم یعنی وقوف عرفہ ادا کر رہے ہیں۔ خطبہ سننے کے بعد عزام کرام نے نماز ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی۔واضح رہے کہ رواں برس سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار فرزندان اسلام مسلسل 3 روز تک 3 خطبے سنیں گے۔ پہلا خطبہ گزشتہ روز جمعہ کا سنا گیا جبکہ دوسرا خطبہ ہفتہ کو خطبہ حج تھا اور تیسرا خطبہ آج نماز عید الاضحی کا سنا جائے گا۔عازمین حج غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ نمازِ مغرب اور عشا ایک ساتھ ادا کریں گے، عازمین رات بھر کھلے آسمان تلے قیام کریں گے اور رمی کے لیے کنکریاں چنیں گے۔ آج 10ذی الحج کو طلوع آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ سے رمی کے لیے جمرات جائیں گے پھر قربانی کے بعد سر منڈوا کر احرام کھول دیں گے اور طواف زیارت کریں گے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی سعودی حکام نے فرزندان اسلام کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی ہیں، تاکہ مناسک حج کی ادائیگی کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔خیال رہے کہ رواں برس 22لاکھ سے زاید عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے عازمین کی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستانی عزام کا ہے۔امسال انڈونیشیا سے ڈھائی لاکھ عازمین جبکہ پاکستان سے 2 لاکھ عازمین فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔