مسئلہ کشمیر کا واحد اور آخری حل بھارت کیخلاف جہاد ہے،آل پارٹیز کانفرنس

140
کراچی، جماعت اسلامی کے تحت کل جماعتی کانفرنس سے پروفیسر این ڈی خان خطاب کررہے ہیں،حافظ نعیم الرحمن و دیگر بھی موجود ہیں
کراچی، جماعت اسلامی کے تحت کل جماعتی کانفرنس سے پروفیسر این ڈی خان خطاب کررہے ہیں،حافظ نعیم الرحمن و دیگر بھی موجود ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے تحت ادارہ نورحق میں مقبوضہ کشمیر میں حالیہ صورتحال پر منعقدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ میں شریک مختلف دینی وسیاسی جماعتوں ، وکلا برادری ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، سول سوسائٹی اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد اور آخری حل بھارت کے خلاف جہاد ہے ، اب فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے اور آگے بڑھنے کے سوا کوئی اور آپشن اور راستہ نہیں ۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما پروفیسر این ڈی خان نے کی ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خصوصی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے ادا کیے ۔کانفرنس میں جمعہ 9اگست کو بھارت کے خلاف مشترکہ طور پر یوم احتجاج منانے کا بھی فیصلہ کیاگیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔پروفیسر این ڈی خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھی بھیجا جائے کیونکہ اس پر سب نے اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اب اس مؤقف کا کھل کر اظہار کرنا چاہیے کہ جہاد ہمارا حق ہے اور جہاد کے آپشن کو کھلا رکھنا چاہیے ، مسئلہ کشمیر کا اب آخری حل جہاد ہی ہے اور یہ ہم پر فرض ہوگیا ہے ،اگر بھارت نے اپنا رویہ اور طرز عمل درست نہ کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو ہم اپنی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں اتار سکتے ہیں ، چیف آف آرمی اسٹاف کا کور کمانڈر کانفرنس میں خطاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم آخری حد تک جاسکتے ہیں اور آخری حد یہی ہے کہ ہم اپنی فوج مقبوضہ کشمیر میں بھی داخل کرسکتے ہیں ۔پروفیسر این ڈی خان نے کہاکہ ہمیں یہ بھی واضح کردینا چاہیے کہ ایٹمی صلاحیت ہماری اپنی ہے اور اسے استعمال کرنے کا بھی حق ہم رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ میں کیا کروں جبکہ اپنی تقریرمیں کہتے ہیں کہ ٹیپوسلطان کا راستہ اختیارکرنا ہوگا تو پھر ہم سے کیوں پوچھ رہے ہیں ، یہ پوچھنے کا وقت نہیں بلکہ فیصلہ کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے ،بھارت نے صرف مقبوضہ کشمیریا پاکستان نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر حملہ کیا ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں جو ریاستی دہشت گردی کررہا ہے وہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ انسانی حقوق اور پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکا ثالث اپنے مفاد کے لیے بننا چاہتا ہے ،امریکا نے ماضی میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ہے جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی تھی وہ تب بھی حالات کا جائزہ لے رہا تھا اور آج بھی وہ صرف حالات کا جائزہ لے رہا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں ، استصواب رائے کشمیریوں کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہیے ،70سال سے بھارت نے اس فیصلے پر عمل نہیں کیا ،اقوام متحدہ نے پابند کیا ہے کہ فریقین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں لیکن مودی نے قوانین کی مخالفت کی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف آج پاکستان کی اقلیتی برادری بھی پاکستان کے ساتھ ہے ،بھارت میں دلتوں پر ریاستی دہشت گردی کی گئی جس پر خود بھارت کے اندر تقسیم کا خطرہ ہے ،کشمیر میں ساڑھے 7 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے اور مزید فوج کشمیر میں بھیجی جارہی ہے ،حکومت اور ریاست کی غیر ذمے داریوں کی وجہ سے ماضی میں بھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں واضح طور پر مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ،بھارت ایک لاکھ کشمیریوں کا قتل عام کرچکا ہے ،مائوں ،بہنوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ،پاکستانی ریاست کے پاس قانونی جواز موجود ہے کہ پاکستانی افواج کشمیر میں اتر سکتی ہیں ،اگر یہ کہا جائے کہ ہماری سرحدیں ٹھیک نہیں ہیں تو یہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوںکی وجہ سے ہے ،امریکا میں بھارت کے سفارت خانے میں را کے ایجنٹ ہیں جہاں دہشت گرد تیار کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ہماری اکانومی کا مسئلہ ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ،1948ء میں تو پاکستان صفر تھا اس کے باوجود 1965ء کی جنگ لڑی پھر ہم مقبوضہ کشمیر پر اپنی فوج اتار سکتے ہیں ،ایک مسلمان ریاست ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمے داری ہے کہ ہم کشمیر میں اپنی فوج اتاردیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مجاہدین کی وجہ سے امریکا بھاگنے پر مجبور ہے ،مجاہدین کے پاس کوئی مضبوط اکانومی نہیں ہے ،ہمیں ایسی معیشت نہیں چاہیے جو ہماری غیرت اور حمیت کو ختم کردے ،ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن خود پر جنگ مسلط بھی نہیں ہونے دیں گے ۔ملی مسلم لیگ کے رہنما امجد اسلام نے کہا کہ 70 سال سے کشمیری آزادی کی تحریک چلارہے ہیں اور چوکوں اور چوراہوں میں پاکستان کا پرچم تھامے ہوئے ہیں اورپاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگارہے ہیں ،یہ دینی رشتہ ہے ،کشمیری قوم پہلے سے زیادہ بیدار ہوچکی ہے ،دین کا تقاضا ہے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنیں ،اگر حکمران کشمیر کے مسئلے پر بات نہیں کریں تو پاکستانی فوج کشمیر کی آزادی کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہے ۔جمعیت علما پاکستان کے رہنما حلیم خان غوری نے کہا کہ اکھنڈ بھارت اور متحدہ بھارت میں مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ، کالے قانون کے تحت کشمیر کو بھارت میں شامل کرنا مودی سرکار کی ہٹ دھرمی ہے ،ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کرتے ،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم ضرور کشمیر کو پاکستان میں شامل کریں گے ۔ جمعیت علما اسلام کے رہنما مولانا نور الحق نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن آج ہندو بنیے نے کالے قانون کے تحت کشمیر کو پاکستان سے کاٹ دیا ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام مظلومیت کا شکار ہیں ، وزیر اعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرکے کشمیر کا سودا کیا ہے ۔پاکستان سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ نے کہا کہ 2دن سے پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہاہے لیکن ابھی تک مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا ۔ کشمیر جل رہا ہے کشمیریوں کی عصمت دری کی جارہی ہے لیکن حکمرانوں کی جانب سے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جارہا ،جہاد کا اعلان کرنا ریاست کی ذمے داری ہے اگر ریاست جہاد کا اعلان نہیں کرے گی تو کوئی نہ کوئی ضرور سر اٹھائے گا ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سید محمد عامر نجیب نے کہا کہ حکومت سفارتی اور سیاسی سطح پر بھارت سے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر دو ٹوک بات کرے اور لائحہ عمل طے کرے ۔جمعیت اتحاد العلما کراچی کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالوحید نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے ، پاکستان کو ان حالات میں ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ۔اسلامک لائرز موومنٹ کے جنرل سیکرٹری شعاع النبی نے کہا کہ حکومت آزادی پسند ممالک اور مسلم ممالک کو ساتھ ملائے ،بھارت صرف کشمیر کی بات نہ کرے ،اب خود بھارت کے اندر ٹکڑے ہوں گے ،حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ناظر عباس تقوی نے کہا کہ بھارتی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے انسانیت سوز مظالم ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ،سیاسی و دینی طور پر متحد ہوکر کشمیر کے مسئلے پر متحدہونے کی ضرورت ہے اور اپناموقف پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ طارق حسن نے کہا کہ آرٹیکل 370اور 35اے کو ختم کرکے کالے قانون کے تحت کشمیر کوبھارت میں شامل کیا جارہا ہے جس پر پور ی پاکستانی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ، اس اے پی سی کے توسط سے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا جینا اور مرنا اس ملک کے لیے ہے ،ہم کسی صورت کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں بننے دیں گے ۔ حاجی حنیف طیب نے کہا کہ ابتدائی طور پر حکومتی اقدامات تو کیے گئے ،امریکا سے ثالثی کی امید لگانا غلط فہمی ہے ،یو این او امریکا کی غلامی کرنے پر مجبور ہے جو کبھی بھی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کرے گی ۔ اسلامک لائر ز موومنٹ کے صدر شاہد علی نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر پر فی الفور او آئی سی کااجلاس بلائے اور آئندہ کالائحہ عمل طے کرے۔بشیر قادری نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے لیکن پاکستان میں کسی بھی حکومت نے اس شہ رگ کی حفاظت نہیں کی ۔مسیحی برادری کے پادری بشیر سردار نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پوری مسیحی برادری پرزور مذمت کرتی ہے اور اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ پوری مسیحی برادری پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے ۔ ہندو کمیونٹی کے رہنماپنڈت مکیش نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر ہندو کمیونٹی کی جانب سے بھرپور مذمت کرتے ہیں ،یہ ریاستی دہشت گردی ہے ،ہندو کمیونٹی پاک فوج کے ساتھ ہے۔ منارٹی ونگ کے سربراہ یونس سوہن نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کا اس اہم ایشو پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،یو این اوکی کشمیر میں جاری درندگی پر خاموشی افسوسناک ہے ۔ چیئر مین بزنس کمیٹی کے رہنما ساجد جمن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں موجود اقلیتی برادری اپنے تما م تہواروں کو آزادی کے ساتھ مناتے ہیں تو کشمیری مسلمانوں پر کیوں ظلم کیا جارہا ہے ،منارٹی کشمیریوں پر جاری ظلم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔