جنگ چھڑ سکتی ہے، دنیا بھارت کو روکے، عمران خان

239
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا بھارت کو عالمی قوانین پامال کرنے سے روکے ،مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام پر پاک بھارت روایتی جنگ چھڑسکتی ہے۔ ان کے بقول اب ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں، اگر دونوں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ ہوا تو اثرات پوری دنیا تک جائیں گے۔منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نسل پرست بھارتی حکمرانوں نے ملکی اور عالمی قوانین پامال کردیے، جو بھارت نے کیا وہ ہم مانیں گے
نہیں، کشمیر میں جو ہوا وہ آر ایس ایس کے نظریے کی بنیاد ہے، تحریک آزادی کشمیر اب مزید شدت اختیار کرجائے گی، نئی دہلی کشمیریوں کے ردعمل کے لیے تیار رہے ، مقبوضہ کشمیر کے اندر سے پلوامہ جیسے حملے ہو سکتے ہیں جن کا الزام بھارت پاکستان پر دھرے گا، بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کا اثر پوری دنیا میں جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے ڈیموگرافی بدلنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے اپنے نظریے کے لیے سارے عالمی اور ملکی قوانین توڑ دیے، کشمیر کو الگ کردیا، سوال یہ ہے کہ کشمیر کے لوگوں پر جو ان سالوں میں ظلم ہوا کیا وہ قانون کی وجہ سے چپ بیٹھ جائیں گے، یہ اب مزید شدت پکڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے مداخلت کا کہا تھا کیونکہ ہماری بات چیت ناکام ہوگئی تھی، ہمیں سمجھنا ہے یہ سنجیدہ معاملہ بن گیا ہے، اب یہ لوگ آزادی کی تحریک مزید دبائیں گے، یہ انہیں برابر کا انسان نہیں سمجھتے، جب یہ ایسا کریں گے تو رد عمل آئے گا، پیش گوئی کرتا ہوں اب جو رد عمل آئے یہ ہم پر الزام لگائیں گے، اس کے بہت سنجیدہ نتائج ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بار بار کہا 2 ایٹمی قوتیں ایسا رسک نہیں لے سکتیں، اپنا مسئلہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے، ان لوگوں میں ایک تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں نظر آتا ہے، انہوں نے آزاد کشمیر میں بھی کچھ کرنا ہے، کوئی ایکشن لیا تو جواب دیں گے، یہ نہیں ہوسکتا، اگر بھارت حملہ کرے گا تو ہم جواب دیں گے، اس سے روایتی جنگ ہوسکتی ہے، اس کے 2 نتیجے ہوسکتے ہیں، اگر ہمارے خلاف جنگ جاتی ہے تو بہادر شاہ یا ٹیپو سلطان کا راستہ اپنانا ہوگا، ہاتھ کھڑے کردیں گے یا خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔عمران خان نے کہا کہ نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا، یہ عام فہم بات ہے ،یہ ایکشن لینے کا وقت ہے، دنیا سے اپیل کرتے ہیں ایک ملک جو عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے کیونکہ اسے پتا ہے پہلے بھی اسے کچھ نہیں کہا گیا جس سے اسے شے ملی، اس کے سنجیدہ نتائج ہیں، یہ گیم وہاں جائے گا تو ایسا نقصان ہوگا کوئی تصور نہیں کرسکتا، یہ وہ سوچ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا، اگر دنیا آج کارروائی نہیں کرے گی اور اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد نہیں کرائے گی تو ہم ذمے دار نہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ہر فورم پر لڑیں گے، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لڑیں گے، دیکھ رہے ہیں کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں کیسے جائیں، ہم اسے جنرل اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے، دنیا کو بتائیں گے کہ ساری دنیا کو اس کا نقصان ہوگا، کشمیریوں کے ساتھ سارا پاکستان ہی نہیں بلکہ مسلمان دنیا کی آواز ہے، مغرب کو حقیقت کا نہیں پتا، ہم مغرب میں جاکر بتائیں گے کہ کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتیوں سے کیسا ظلم ہورہا ہے، یہ ویسٹرن ورلڈ قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہمارا کام دنیا میں اس کو اٹھانا ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور بلااشتعال فائرنگ ‘ کلسٹر بموں کے استعمال اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے پیدا ہونے والی صورتحال زیر بحث لانے کے لیے تحریک پیش کردی گئی۔حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے قرارداد پیش کی جس پر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اعتراض کیا کہ ایجنڈے میں آرٹیکل 370 کا معاملہ شامل نہیں، پیپلزپارٹی کے رضا ربانی نے کہا کہ قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر نہیں اس میں ترمیم کی جائے جس پر شیخ رشید نے بھی اس کی حمایت کی اور آرٹیکل 370 شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت نے قرارداد میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو شامل کیا اور اعظم سواتی نے قرارداد پڑھ کر سنائی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں حالیہ اضافے اور کلسٹر بموں کے استعمال، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور وہاں ڈھائے جانے والے مظالم نیز حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کی صورتحال پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث کی جائے۔قرارداد پر بحث کے لیے اسپیکر نے جیسے ہی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو دعوت دی اور وہ کھڑی ہوئیں تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا اور ایوان میں شورشرابا شروع ہوگیا۔اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کو ایوان میں بلانے کا مطالبہ کیا گیا، ایوان میں شور شرابے پر اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔اسپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کیے جانے کے 20 منٹ بعد بھی شروع نہ ہوا اور تقریباً ساڑھے 3گھنٹے بعد شروع ہوا۔بعد ازاںوزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق حالیہ صورتحال پر ردعمل ترتیب دینے کے لیے7 رکنی کمیٹی بنادی۔ مجوزہ ردعمل سیاسی، سفارتی، قانونی اقدامات پر مبنی ہوگا۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے کمیٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان میں وزیرخارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری خارجہ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹرسروسز(آئی ایس پی آر)اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی شامل ہیں۔ کمیٹی آج سے اپنا کام شروع کردے گی۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر طلب کرلیاجس میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غورکیا جائے گا۔